دوسرا پائلٹ

ایک اور ایک - منیر احمد بلوچ

03 مارچ 2019

dosra pilot

9 ویںسکواڈرن کے فلائٹ لیفٹیننٹ Kambampati Nachiketa بھارت India کی ائیرفورس کے اس پائلٹ کا نام ہے‘ جس کے متعلق ممکن ہے کہ آج کسی کو کچھ یاد ہی نہ ہو‘ لیکن اس کا نا م اورکام نہ چاہتے ہوئے بھی ا س لئے قوم کے سامنے لانا پڑ رہا ہے‘ تاکہ کچھ حقائق درست کرتے ہوئے پاکستانیوں اور نواز لیگ کے سوشل میڈیا کے سامنے رکھ سکوں۔ اس بھارتی Indian پائلٹ کو 1999ء کی کارگل جنگ میں اس کے جہازMIG27 سمیت مار گرانے کے بعد بٹالک سیکٹر سے گرفتار کیا تھا‘ جب فلائٹ لیفٹیننٹ کمباتی کا جہاز زمین بوس ہو رہا تھا‘ تو اس وقت اس کے ساتھ مشن پر آئے ہوئے اس کے سینئرMIG21 کے سکواڈرن لیڈراجے اہوجا کو اس نے جب اپنے جہاز سمیت مار گرتے دیکھا تو کمباتی نے اپنا جہاز ہٹ ہوتے ہی پیرا شوٹ سے کودنا بہتر سمجھا‘ جہاں زمینی فورسز نے اسے گرفتاری کے بعد راولپنڈی بھیج دیا۔ کمباتی کو سات دن بعد تین جون کو رہا کرتے ہوئے ‘واہگہ بارڈر پر بھارتی Indian حکام کے حوالے کر دیا گیا ۔رہائی کے بعد اس وقت کے بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister واجپائی اور وزیر دفاع جارج فرنینڈس نے اپنے دفتر بلا کر اپنے اس افسر کا باقاعدہ استقبال کرتے ہوئے اسے باقاعدہ بہادری کے اعزاز سے بھی نوازا ۔

27 مئی 1999ء کو فلائٹ لیفٹیننٹ کمباتی کو بھارتی Indian ائیر فورس کےMIG27 میں80mm کے راکٹوں سے لیس کرتے ہوئے ٹاسک دیا گیا کہ وہ کارگل اور دراس کی 17 ہزار فٹ کی بلندیوں پر پاکستانی فوج کی قبضہ میں لی گئی چوٹیوں پر بمباری کرتے ہوئے انہیں خالی کرائے ‘ لیکن وہ اپنے اس مشن میں بری طرح ناکام رہا اور پاکستان Pakistan کے ائیر ڈیفنس کے افسروں اور جوانوں کی مہارت کا شکار ہو گیا۔ شاید آج میں کارگل میں بنائے گئے اس فلائٹ لیفٹیننٹ کے بارے یہ سب کچھ نہ لکھتا‘ لیکن جب سے وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan نے گرفتار بھارتی Indian پائلٹ آبھینند کو رہا کیا ہے‘ نواز لیگ کا سوشل میڈیا سیل سمیت دیگر وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کے مخالفین نے اکٹھے ہو کر وہ حشر اٹھا رکھا ہے کہ خدا کی پناہ اور اس کا نظارہ آپ سوشل میڈٖیا پر دیکھ بھی رہے ہوں گے۔ خواجہ آصف سمیت نواز لیگ نے ہر کارکن نے بھارتی Indian ائیر فورس کے آزاد کشمیر سے گرفتار کئے گئے ‘اس بھارتی Indian پائلٹ کی رہائی کو کہیں وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کی بزدلی تو کہیں مودی سے رحم کی بھیک مانگنے سے تشبیہ دینے کا سلسلہ اس گھٹیا طریقے سے شروع کر رکھا ہے کہ بھارتی Indian میڈیا اور ان میں فرق معلوم کرنا مشکل ہو چکاہے ۔

نواز لیگ کی جانب سے کہا جا رہا ہے کہ اگر میاں نواز شریف Nawaz Sharif کی حکومت ہوتی اور وہ اس بھارتی Indian پائلٹ کو فوری رہا کردیتے تولوگوں نے آسمان سر پر اٹھا لینا تھا۔جناب آپ کو اگر یاد نہیں رہا تو بتائے دیتا ہوں کہ یہ کام تو آپ1999ء میں ہی کر چکے۔ بھارتی Indian ائیر فورس کے بحیثیت ونگ کمانڈر ریٹائر ہونے والے کمباتی کا رینک فلائٹ لیفٹیننٹ اور اس کی عمر 26 سال تھی‘ جب اسے کارگل جنگ کے دوران دراس سیکٹر سے گرفتارکیا گیا تھا۔ اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان3 مئی سے26 جولائی تک دو ماہ تین ہفتے اور دو دن لگاتار جاری رہنے والی کارگل کے نام سے باقاعدہ جنگ تھی ‘جبکہ آج بھارت India اور پاکستان Pakistan کے درمیان تو کوئی جنگ ہی نہیں ہو ئی اور اگر میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif اور خواجہ آصف سننا پسند فرمائیں تو یہ بھی بتا ئے دیتا ہوں کہ بھارت India کے اس پائلٹ کی رہائی کے احکامات اس وقت کے پاکستان Pakistan میں بھارتی Indian ہائی کمیشن جے پارتھا سارتھی کی مداخلت پر میاں نواز شریف Nawaz Sharif نے واجپائی کو فون کرتے ہوئے خود جاری کئے تھے ۔ جناح روڈ اسلام آباد Islamabad پر واقع وزارت خارجہ کے دفتر میں بھارتی Indian پائلٹ کو حوالے کرنے کیلئے بلائی گئی پریس کانفرنس میں پارتھا سارتھی کو مدعو کیا گیا‘ لیکن اس نے شرکت سے انکار کر دیا تھا۔

وہ فتح‘ جو ہماری فوج نے بھارت India کے دو فائٹر جہاز گراکر حاصل کی ہے ‘پارلیمنٹ کے اندر اور باہر نواز لیگ کی قیا دت اور ان کے سوشل میڈیا اور بھارتی Indian میڈیا نے ایک آواز ہو کر کم کرنے میں دن رات ایک کیا ہوا ہے۔ شاید اس لئے کہ دونوں کا دشمن مشترکہ ہے اوراسی لئے کہا گیا ہے کہ اپنے دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے ۔ اسلام آباد Islamabad میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی مکمل کارروائی دیکھنے کے بعد ایسے لگا کہ یہ سب کھیل نواز لیگ نے اپنے ڈرامے رچانے کیلئے سجایا تھا ‘جہاں نون لیگ کا ہر مقرر اسے براہ راست دکھائی جانے والی ٹی وی ٹاک بنانے میں جتارہا ۔بجائے اس کے کہ پارلیمنٹ کے اس مشترکہ اجلاس میں قومی اتحاد کو اجاگر کیا جاتا‘ان کا تمام وقت اور زورصرف میاںنواز شریف Nawaz Sharif کو وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کے مقابلے میں دنیا کا سب سے بڑا لیڈر ثابت کرنے میں رہا۔ موٹر وے سے لے کر جے ایف تھنڈر اور پھر ایٹم بم کا تمام سہرا میاں نواز شریف Nawaz Sharif کے سر سجانے میں ہی لگے رہے۔ ڈاکٹر قدیر کے دو درجن سے زائد انٹرویو‘ مرحوم مجید نظامی کی وارننگ کے علا وہ چاغی کے ایٹم بم کی الف سے ی تک کی کہانی میں کوئی چھ ماہ قبل The Story Of Chaghiکے نام سے روزنامہ دنیا میں دو اقساط میں لکھ چکا ہوں اور ''دروغ گو را حافظہ نہ باشد‘‘کے مصداق‘ جے ایف تھنڈر کا معاہدہ نواز شریف Nawaz Sharif نہیں‘ بلکہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے دورِ حکومت میں ہوا تھا۔

خواجہ آصف سے مشاہد اﷲ اور پھرخیر سے میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif نے تو اپنی ہر تقریر میں یہی ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہ جو بھارتی Indian پائلٹ گرفتار ہوا ہے یہ پاکستان Pakistan کی ائیر فورس کی وجہ سے نہیں‘ بلکہ ان کے بھائی میاں نواز شریف Nawaz Sharif کے جے ایف تھنڈر کی وجہ سے گرفتار ہوا ہے‘ گویا ہماری ائیر فورس کے پائلٹ تو بس ویسے ہی بھیجے گئے تھے۔مقام افسوس ہے کہ اس قومی یکجہتی کے موقع پر بھی یہ لوگ اپنی گھٹیا قسم کی سیا ست سے باز نہ رہ سکے۔یہ جو موٹر وے پر رن وے بنائے گئے ہیں؛ اگر ان کا سچ شہباز شریف Shehbaz Sharif اور خواجہ آصف سمیت نون لیگ کے دوستوں میںجاننے اور سننے کا حوصلہ ہے‘ تو سن لیجئے کہ آپ نے یہ موٹر وے دسمبر1997ء میں مکمل کی اور صرف ایک سال بعد لاہور سے سالٹ رینج تک اس میں جگہ جگہ گڑھے پڑنا شروع ہو گئے( سالٹ ایریا کا حصہ اس میں شامل نہیں کر رہے ‘کیونکہ یہ تو ہر ماہ مرمت کی جارہی ہے) اور وہ لوگ جو2000ء سے موٹر وے استعمال کر رہے ہیں‘ وہ اگر سچ بتانا چاہیں تو کہیں گے کہ کھربوں روپے کی لاگت سے تعمیر کی جانے والی موٹر وے ایک سال بعد ہی جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی رہی‘ جسے مشرف دور میں جگہ جگہ مرمت کیا گیا اور پھر اس موٹر وے کے تین مقامات کو پاکستان Pakistan ائیر فورس کے انجینئرز کی مشاورت سے اس طرح تعمیر کیا گیا‘ تاکہ ان مخصوص جگہوں پر کسی بھی ہنگامی حالات میں جہازوں کے استعمال میں لایا جا سکے۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا ریکارڈ سب کے سامنے ہے اور اگر منا سب سمجھیں ‘تواس وقت کئے گئے ان اخراجات کی مکمل تفصیلات‘ جو ان کے ریکارڈ میں آج بھی موجود ہیں‘ دیکھی جا سکتی ہیں۔

جہاں تک میزائل سسٹم کی بات ہے تو وزارت خزانہ اور وزارت دفاع کا ریکارڈ بتاتاہے کہ میزائل ٹیکنالوجی شمالی کوریا سے بے نظیر بھٹو دور میں حاصل کی گئی ‘جس سے میاں نواز شریف Nawaz Sharif کا دور دور تک بھی تعلق نہیں اور وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کا تو ہو ہی نہیں سکتا‘ کیونکہ انہیںتو اقتدار سنبھالے ابھی عرصہ ہی کتنا ہوا ہت۔واشنگٹن پوسٹ نے اپنی یکم مارچ2019ء کی اشاعت میںNiha Masih کی سٹوری شائع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بھارتی Indian پائلٹ کی رہائی پر یہ کہنا قطعی غلط نہیں کہ:

Release of this pilot averted an India-Pakistan war.

 322