بھارتی Indian پائلٹ کو رہا کرنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں تھا، پاکستان

02 مارچ 2019

Bharti pilot ko raha karne ke liye koi dabao nahi tha, Pakistan

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے واضح کیا ہے کہ پاکستان Pakistan پر گرفتار بھارتی Indian پائلٹ ابھی نندن کو رہا کرنے کے لیے نہ تو کوئی دباؤ تھا اور نہ ہی کوئی مجبوری تھی۔

برطانوی نشریاتی ادارے ‘بی بی سی اردو‘ کو دیے گئے انٹرویو میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان Pakistan نئی دہلی کو پیغام دینا چاہتا تھا کہ وہ ہندوستان کے شہریوں سے بدسلوکی نہیں چاہتا، اسلام آباد Islamabad تو امن کا حامی ہے۔

شاہ محمود قریشی کا یہ بیان بھارتی Indian پائلٹ ابھی نندن کو رہا کرنے کے ایک دن بعد سامنے آیا۔

پاکستان Pakistan نے گزشتہ روز بھارتی Indian فضائیہ کے پائلٹ ابھی نندن کو واہگہ بارڈر پر ہندوستانی حکام کے حوالے کیا تھا۔

ابھی نندن کو پاکستان Pakistan نے جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ابھی نندن کو پاک فضائیہ کے جوانوں نے 27 فروری کو ایک کارروائی کے دوران اس وقت گرفتار کیا تھا جب بھارت India کے 2 لڑاکا طیاروں نے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی اور انہیں مار گرایا گیا تھا۔

اس سے قبل بھارت India نے 26 فروری کو پاکستانی سرحد کے قریب مبینہ دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر سرجیکل اسٹرائیکس کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جسے پاکستان Pakistan نے مسترد کیا تھا۔

بھارت India نے سرجیکل اسٹرائیکس کا دعویٰ گزشتہ ماہ 14 فروری کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ Pulwama میں اپنے فوجیوں پر کیے گئے حملے کے بعد کیا تھا۔

پلوامہ Pulwama حملے میں کم سے کم 44 بھارتی Indian فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔

پلوامہ Pulwama حملے اور بھارت India کی جانب سے سرجیکل اسٹرائیکس کے دعوے کے بعد بھارتی Indian فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کی جانب سے 27 فروری کو پاکستان Pakistan کی فضائی سرحد کی خلاف ورزی کی کوشش کی گئی تھی۔

پاک فوج Pakistan Army کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاک فضائیہ نے بھارت India کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے 2 طیاروں کو تباہ کرتے ہوئے پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کیا تھا۔

مزید پڑھیں: بھارت India کے گرفتار پائلٹ کو جذبہ خیر سگالی کے تحت کل رہا کردیں گے، وزیراعظم

ابھی نندن کی گرفتاری کے بعد وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan نے 27 فروری کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھارتی Indian پائلٹ کو جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا کرنے کا اعلان کیا تھا اور یکم مارچ کو اسے رہائی کردیا گیا۔

شاہ محمود قریشی نے ابھی نندن کی رہائی کے تناظر میں بات کرتے ہوئے اس تاثر کو مسترد کیا کہ پاکستان Pakistan پر بھارتی Indian پائلٹ کو رہا کرنے کا کوئی دباؤ تھا۔

وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان Pakistan خطے میں امن چاہتا ہے اور وہ امن کو سیاست کی نظر نہیں ہونے دے گا۔

ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ہر معاشرے اور ملک میں شدت پسند موجود ہوتے ہیں اور بھارت India میں بھی گجرات جیسے واقعے شدت پسندی کے باعث سامنے آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان Pakistan کسی بھی شدت پسند کو اپنی سر زمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور ایسے ریاست مخالف عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اگر کسی کے پاس جیش محمد کے خلاف ثبوت ہیں تو پاکستان Pakistan کو فراہم کیے جائیں۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان Pakistan ماضی میں جانا نہیں چاہتا کیوں کہ اگر ماضی کی جانب گئے تو پارلیمنٹ حملے سے لے کر پٹھان کوٹ اور اڑی حملے تک کے واقعات کو دیکھنا پڑے گا اور یہ ایک لمبی داستان ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیے گئے علیحدہ انٹریو میں شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ’پلوامہ Pulwama واقعے سے متعلق ابھی بھی یہ کنفیوژن برقرار ہے کہ جش محمد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی یا نہیں، کیوں کہ تنظیم کی لیڈر شپ کے مطابق انہوں نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

جب وزیر خارجہ سے پوچھا گیا کہ جش محمد سے کس نے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ جو انہیں جانتے تھے انہوں نے ان سے رابطہ کیا۔

انٹرویو کے دوران شاہ محمود قریشی نے ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کی جانب سے بھارت India کو دی گئی امن مذاکرات کی پیشکش کو دوہراتے ہوئے انہیں مذاکرات کی دعوت دی اور کہا کہ اگر بھارت India پلوامہ Pulwama حملے کے ٹھوس شواہد فراہم کرے تو پاکستان Pakistan تحقیقات کرنے کے لیے تیار ہے۔

 119