اوگرا نے گیس کی قیمتوں میں 22 فیصد تک اضافہ کردیا

02 مارچ 2019

avgra ne gas ki qeematon mein 22 feesad tak izafah kardiya

اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمتوں میں 7 فیصد اضافے کا نوٹفکیشن جاری کرتے ہوئے قدرتی گیس کی مقرر کردہ شرح میں 22 فیصد اضافے کی اجازت دے دی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق موجودہ سال کے لیے نظرثانی شدہ آمدنی کی ضروریات کے تحت قیمتوں کے الگ الگ تعین میں اوگرا نے سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے لیے مقرر کردہ قیمت میں 119 روپے 68 پیسے فی یونٹ اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کے لیے 69 روپے 10 پیسے فی یونٹ اضافے کی اجازت دی ہے تاکہ 19-2018 کے لیے آمدنی کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے جو اوسط مقررہ قیمت 631 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو رکھی گئی تھی۔

حکام کے مطابق موجودہ سال کے دوران پورا نہ ہونے والی ضروریات کے لیے مقررہ قیمت میں تقریباً 111 روپے فی یونٹ اضافہ ضروری تھا کیونکہ گزشتہ برس اکتوبر میں کم ٹیرف اضافے کی اجازت دی گئی تھی اور بقایا 9 روپے فی یونٹ تھے کیونکہ گیس کی قیمت میں اضافہ ہوا تھا۔

اسٹرکچر کے تحت حکومت نے سال کے 9 ماہ میں 90 فیصد صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں کو نہیں روکا اور موسم سرما کے 3 ماہ میں اس میں اضافہ کیا جس سے عوام چلا اٹھے تھے، سب سے اہم بات یہ ہے کہ زیرو ریٹڈ سیکٹرز کے لیے ٹیرف میں واضح طور پر کمی کی گئی اور اسے خاص روٹی اور تندور کے لیے مختص کردیا گیا۔

جس کے نتیجے میں گیس کمپنیاں ضروری آمدنی کے اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہیں اور اسی وجہ سے انہیں فی ایم ایم بی ٹی یو تقریباً 120 روپے کے نئے اضافے کی ضرورت پیش آئی۔

اس کے علاوہ حکومت نے اکتوبر میں صارفین سے اضافی 95 ارب روپے کی وصولی کی اجازت دی تھی اور صارفین کے لیے 143 فیصد تک قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔

اس فیصلے سے دونوں گیس کمپنیوں کے لیے 75 ارب روپے کے اضافی ریونیو کی اجازت ہوگی جس میں 50 ارب ایس این جی پی ایل اور 25 ارب ایس ایس جی سی ایل کے لیے ہوں گے۔

دوسری جانب ایس ایس جی سی کی مقرر کردہ کم قیمت سے سندھ اور بلوچستان Balochistan میں صارفین کو فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ اس وقت حکومتی فارمولا اس پر گامزن ہے کہ وہ پورے ملک میں قدرتی گیس کا ایک ٹیرف برقرار رکھے۔

صارفین سے اضافی ٹیرف کے حصول کا مقصد یکساں نظام کو یقینی بنانا ہے جس سے گیس ڈیولپمنٹ سرچارج صوبوں کو گیس پیداوار میں حصے کی بنیاد پر دیے جائیں گے۔

 109