ماں باپ کی دعا

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

02 مارچ 2019

maa baap ki dua

پچھلے دنوں ایک عجیب منظر دیکھنے میں آیا ۔۔وہ یوں کہ ماموں کے گھر جا رہے تھے ٹریفک کا رش معمول سے زیادہ تھا۔۔اس لیے بھائی نے گاڑی کی سپیڈ سلو کی ہوئی تھی۔۔ہمارے آگے ایک ٹرک تھا ۔میں نے غیر ارادی طور پر اس عبارت پر نظر ڈالی جو کہ اکثر ان ٹرکوں کی بیک سائڈ پر لکھی ہوتی ہے۔۔یہ عبارت پڑھ کر خوشگوار حیرت میں مبتلا ہوگئی ۔۔

جو کچھ یوں تھی " یہ سب میرے ماں باپ کی دعاوں کا نتیجہ ہے " پہلی بار میں نے اس طرح کے کریڈٹ میں باپ کو شامل دیکھا تھا حیرت تو بنتی تھی۔۔

میں نے فورا سیل فون اٹھایا تصویر بنانا چاہی لیکن ٹرک مڑگیا تھا لہذا تصویر تو نا بنا سکی البتہ جاتے جاتے یہ مجھے ٹاپک دے گیا تھا۔۔ تو جناب آپ لوگوں کی نظر سے ایسے ہزاروں اقوال گزرتے ہونگے جن میں "ماں کی دعا جنت کی ہوا۔۔" کو ٹاپ لسٹڈ قول کہا جاے تو غلط نا ہوگا ۔۔اس کے بعد میری ماں کی دعا کا نتیجہ ہے۔میری ماں یہ میری ماں وہ ماں ،ماں ،اور ماں ہی پڑھا ہر جگہ۔۔بے شک ماں کے مقام اور ماں کی قربانیوں سے انکار نہیں۔۔میں خود ایک ماں بھی ہوں اور بخوبی اندازہ ہے کہ ماں کی عظمت کو جتنا سراہا جاے کم ہے۔۔لیکن اس خراج تحسین میں سے باپ کو نکال باہر کرنے پر مجھے اعتراض ہے۔

۔باپ کی قربانیاں بھی کسی صورت نظرانداز نہیں کی جاسکتیں۔۔یہ باپ کا خون پسینے کی کمائی کا پیسہ ہوتا ہے جو ہم پر خرچ ہو کر ہم کو کسی مقام پر پہنچاتا ہے اور جب اپنے پیروں پر کھڑے ہوجائیں تو اس کا کریڈٹ زیادہ تر ماں کو دیتے ہیں۔باپ کا اول تو زیادہ زکر ہی نہیں ہوتا ۔اگر ہو بھی تو اس طرح کی عقیدت نہیں ہوتی جتنی ماں کے لیے دکھاتے ہیں۔کیوں؟؟ کیا باپ کو ستائش پسند نہیں ہوتی یا باپ کا حصہ نہیں ہوتا آپ کی کامیابی میں؟؟

یہاں الٹا یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ بڑھاپے میں ماں تو اولاد پر راضی خوش باش اور باپ اولاد سے نالاں ۔۔کیوں کیا وجہ۔۔؟؟

یہی شکوہ ایک جگہ مشہور رائٹر مستنصر حسین تاڑر صاحب کا بھی نظر سے گزرا جو کچھ یوں تھا" ہمارے بچے جب بڑے ہوتےہیں اپنی ماوں کی کلاشنکوفیں بن جاتے ہیں " ایسےہی ایک بار فرح حسین کے مارننگ شو میں مشہور لیکچرر قاسم علی شاہ کے منہ سے بھی ایسے ہی جملے سننے کو ملے کہ کافی مائیں بچوں کو وقتا فوقتا جتاتی رہتی ہیں کہ جو بھی قربانی دی میں نے دی تمہارا باپ جلاد ہے سنگدل ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔تب میں نے ایمانداری سے اپنے اردگرد معاشرے کا مشاہدہ کیا تو احساس ہوا کہ واقعی یہ تو ٹھیک کہا انہوں نے ۔

۔کیونکہ جیسے ہی اولاد جوان ہوتی ہے باپ اپنی بیوی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔کیونکہ محترمہ اس وقت شیر جوان بیٹوں کی شیر ماں ہوتی ہے بس۔۔گوکہ ایسی اولاد بھی بہت دیکھی ہے جو کہ ماں باپ کا یکساں خیال رکھتی ہے اور دونوں کو برابر محبت دیتی ہے ۔۔لیکن مذکورہ بالا اولاد بھی موجود ہے۔۔جو باپ کو سرے سے اہمیت ہی نہیں دیتے کہ ابو کا کیا واسطہ پیار محبت سے۔؟؟

۔ٹھیک ہے باپ نا تو جزباتی ہوتے ہیں نا ماں کی طرح کئیرنگ اور حساس لیکن اولاد کوجو سپورٹ باپ دیتا ہے وہ ماں کبھی بھی نہیں دے سکتی۔۔جن میں احساس تحفظ اور خود اعتمادی سر فہرست ہیں۔۔باپ کے بغیر ماں جتنا مرضی اولاد پر پیسہ لگاے۔۔جتنی مرضی آسایشات دے ۔لیکن تحفظ اور اعتماد نہیں دے پاتی۔۔

میری نظروں میں ایسی کئی مائیں ہیں۔۔جو اولاد کے لیے جتنا مرضی محنت کر رہی ہیں لیکن باپ کی کمی کا خلا بہرحال موجود رہا۔۔

یہ باپ ہی ہوتا ہے جو آپ کے لیے پردیس کاٹتا ہے۔۔سردی گرمی کی پروا کیے بغیر آپ کے مستقبل کے لیے اپنا حال مشقت سے گزارتا ہے۔

بے شک فکر معاش تمام فکروں پر حاوی ہوتی ہے جس سے ایک باپ تمام عمر نبرد آزما رہتا ہے۔۔ہمیں بس اتنا پتہ ہوتا ہے کہ ہمارے سارے اخراجات اس بندے نے پورے کرنے ہیں۔۔یہ کمانے والا جانتا ہوتا ہے کہ کس طرح پوری کرنی ہے۔۔یہاں میں ان تمام ابووں کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں۔۔ان میں عام مزدور ابووں سے لے کر خواص افسر ابو سب شامل ہیں۔۔کیونکہ اپنی فیملی کے لیے یہ لوگ اپنی تمام تر توانائیاں خرچ کر رہے ہیں۔۔آخر میں اس گزارش کے ساتھ اجازت کہ اپنے ان اقوال میں ابو کا حصہ ڈالیں۔۔یقین کریں ابو بڑے خوش ہونگیں۔۔ان کی چمکتی آنکھوں کو دیکھ لینا

 319