پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس: بھارتی Indian جارحیت کے خلاف قرارداد متفقہ طورپر منظور

01 مارچ 2019

parliment ka mushtarqa ijlaas : Bharti jarhiyat ke khilaaf qarardad mutafiqa tour par Manzoor

اسلام آباد: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھارتی Indian جارحیت کے خلاف قرار داد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔

قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر Asad Qaiser کی سربراہی میں ہوا جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارتی Indian جارحیت کے خلاف قرارداد پیش کی۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان Pakistan نے پلوامہ Pulwama حملے کی تحقیقات کی پیشکش کی تھی، بھارت India نے پلوامہ Pulwama حملے کے بعد پاکستان Pakistan پر بے بنیاد الزامات لگائے۔

قرارداد میں کہا گیا ہےکہ پاکستان Pakistan نے واضح کردیا تھا کہ جارحیت کی صورت میں جواب دیا جائے گا، پاک فضائیہ نے بروقت کارروائی کرکے بھارت India کی جارحیت ناکام بنائی، یہ ایوان پاک فضائیہ کی بروقت اور مؤثر کارروائی پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہے، ایوان قومی سلامتی کمیٹی کے اپنے وقت اور پسند کے مقام پر جواب سے متعلق بیان کی تائید کرتا ہے۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بھارتی Indian جارحیت کی مذمت کرتا ہے، ایوان پلوامہ Pulwama حملے سے متعلق بھارتی Indian الزامات کو بھی مسترد کرتا ہے۔

قرارداد میں مزید کہا گیا ہےکہ ایوان مقبوضہ کشمیر میں حریت قیادت کی نظر بندی اور کشمیری عوام پر مظالم کی مذمت کرتا ہے، بھارت India فوری طور پر مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے، ایوان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کے حل کا مطالبہ کرتا ہے، ایوان اقوام متحدہ پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنے نامکمل ایجنڈے کی تکمیل کرے۔

قرارداد کے متن کے مطابق پاکستان Pakistan او آئی سی کا بانی رکن ہے، بھارتی Indian وزیر خارجہ کو بلانے پر پاکستان Pakistan احتجاجاً او آئی سی کے اجلاس میں شرکت نہیں کررہا، ایوان او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں بھارتی Indian وزیرخارجہ کو مدعو کرنے پر مایوسی کا اظہار کرتا ہے۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ خطے میں کشیدگی پیدا کرنے پر بھارت India کی مذمت کرے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ کشیدگی کے خاتمے میں کردارادا کرے۔

 85