اپوزیشن کے مطالبے پر حکومت کا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ

26 فروری 2019

oppostion ke mutalbe par hukoomat ka parliment ka mushtarqa ijlaas bulanay ka faisla

اسلام آباد: اپوزیشن جماعتوں کے پُرزور مطالبے پر حکومت نے بھارتی Indian دراندازی کے واقعے پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کرلیا۔

ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیرصدارت قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پیپلز پارٹی کے رہنما سید خورشید شاہ Khursheed Shah نے موجودہ صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے اس کی تائید کی۔

وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے قومی اسمبلی میں اپنے بیان میں کہا کہ حکومت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کر لیا۔

علی محمد خان نے کہا کہ پوری پارلیمنٹ اور قوم متحد ہے، کوشش ہے مشترکہ اجلاس آج ہی ہو جائے، چاہے رات کے بارہ بجے کیوں نہ ہو۔

خورشید شاہ Khursheed Shah نے کہا کہ ہم حالات جنگ میں آچکے ہیں، اب پارلیمنٹ کو فیصلے کرنے چاہئیں، ایسی کوئی بات نہ کی جائے جس سے اختلاف نظر آئے، ہمیں دنیا اور بھارت India کو اپنا اتحاد دکھانا ہے۔

خواجہ آصف نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج شام کو ہی مشترکہ اجلاس بلائیں، یہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے تاکہ ایک آواز جائے، ہمارے جوانوں اور افواج کو پتا چلے کہ قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ 'اس وقت سیاست نہ کریں، یہ اتحاد اور قومی یکجہتی کا وقت ہے'۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رکن اسمبلی امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ ہمارے گلے شکوے اپنی جگہ مگر پاکستان Pakistan کے دفاع کے لیے سب ایک ہیں، مقبوضہ کشمیر میں ردعمل بھارتی Indian ظلم کا نتیجہ ہے، بھارت India اپنے ردعمل پر الزام پاکستان Pakistan پر لگادیتا ہے۔

امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ بھارت India الیکشن کے لئے آگ سے کھیل رہا ہے، فوری طور پر پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانا چاہیے جس میں افواج پاکستان Pakistan کے سربراہان بھی شامل ہوں۔

بھارتی Indian دراندازی کی کوشش پر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بھرپور ردعمل کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف Shehbaz Sharif نے بھارتی Indian دراندازی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اگر بھارت India جنگ شروع کی تو نئی دہلی پر پاکستان Pakistan کا پرچم لہرائے گا، بھارتی Indian قیادت ہوش کے ناخن لے اور جنوبی ایشیا کے امن کو اپنے ہاتھوں سے آگ میں نہ دھکیلے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف مودی غریبوں کے پاؤں دھو رہے ہیں، دوسری طرف بے گناہ نہتے کشمیریوں کا خون بہارہے ہیں، نریندر مودی narendra modi جنوبی ایشیا کے بے گناہ انسانوں اورغریبوں کو جنگ کی بھٹی میں نہ دھکیلیں۔

پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والی سینیٹر شیریں رحمان کا کہنا ہے کہ بھارت India نے جو طبل جنگ بجایا ہے پاکستان Pakistan کی مسلح افواج اس کے لیے بالکل تیار ہیں اور بھارت India کی جارحیت کا بھرپور اور فوری طور پر جواب دیں گے۔

شیریں رحمان نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ موجودہ صورتحال میں پارلیمان کا فوری طور پر مشترکہ اجلاس بلائے، دنیا کو پیغام دیا جائے کہ ہم جنگ نہیں چاہتے، اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو پاکستان Pakistan اس کے لیے بالکل تیار ہے۔

وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فاروق حیدر نے بھارتی Indian طیاروں کی ایل اوسی کی خلاف ورزی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ عالمی برادری بھارت India کا جنگی جنون دیکھ لے، بزدل بھارت India رات کی تاریکی میں چھپ کر وار کرنے کی کوشش کرتا ہے، ہم تیار ہیں، جس طرح پاک فضائیہ نے بھارتی Indian طیاروں کو بھگایا وہ قابل داد ہے۔

راجا فاروق حیدر نے کہا کہ کشمیری عوام ذرا برابر خوفزدہ نہیں ہیں، 45 لاکھ کشمیریوں کی لاشوں پر سے گزر کر ہی کوئی پاکستان Pakistan تک پہنچےگا، آزاد کشمیر کے عوام بھارت India کا جنگی جنون کئی مرتبہ دیکھ چکے ہیں۔

وزیراعظم آزاد کشمیر کا مزید کہنا تھا کہ بھارت India مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانے کے لیے جنگی جنون کو ہوا دے رہا ہے، کشمیریوں نے بھی ٹھان لی ہے وہ بھارتی Indian فوج کو سرینگر سے بھگا کردم لیں گے۔

دوسری جانب مسلم لیگ (ن) نے موجودہ صورتحال پر پارلیمانی پارٹی کا فوری ہنگامی اجلاس طلب کرلیا جس کی صدارت شاہد خاقان عباسی کریں گے اور اجلاس میں بھارتی Indian جارحیت کے حوالے سے امور پر مشاورت ہوگی۔

وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان Pakistan کی افواج دنیا کی بہترین فوج ہیں، اگر بھارت India نے جارحیت کی تو پاک فوج Pakistan Army اس کا منہ توڑ جواب دے گی۔

مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان Pakistan کی عوام ملک کا دفاع کرنا جانتی ہے، ہم پرامن ملک ہیں اور خطے میں امن چاہتے ہیں، ہماری امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

 129