ڈاکٹر عطاالرحمن کایا پلٹ سکتے ہیں!

کل اور آج - عمار چوہدری

23 فروری 2019

dr ataalrhman kayaa palat satke hain !

ڈاکٹر عطاالرحمن پاکستان Pakistan کے ممتاز کیمیا دان ہیں۔ وہ اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے شریک چیئرمین‘ اسلامی ممالک کی سائنس اکیڈمیز نیٹ ورک کے صدر اور چائنیز سائنس اکیڈمی کے رکن بھی ہیں۔ ڈاکٹر عطاالرحمن نے پاکستان Pakistan میں اساتذہ کو نیا مقام اور تحقیق کو نیا جنم دیا۔ وہ 2002ء سے 2008ء تک وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی اور چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن رہے۔ اس دوران وزارت سائنس کے ڈویلپمنٹ بجٹ میں چھ ہزار اور ہائر ایجوکیشن کے بجٹ میں ساڑھے تین ہزار فیصد اضافہ ہوا۔ ان کی پالیسی کے ثمرات یوں سامنے آئے کہ آج بھارت India کے سالانہ 708 جبکہ پاکستان Pakistan کے 916 بین الاقوامی تحقیقی مقالہ جات شائع ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر عطاالرحمن کے دور میں اساتذہ کی تنخواہیں سات گنا جبکہ اعلیٰ پروفیشنلز کی تنخواہیں وفاقی وزرا کی تنخواہوں سے چار گنا بڑھا دی گئیں۔ وہ اساتذہ پر ٹیکس کی شرح 35 سے کم کرکے 5 فیصد پر لے آئے تھے۔ ان کے دور میں گیارہ ہزار طلبا کو سرکاری وظیفے پر اعلیٰ تعلیم کیلئے بیرون ملک بھیجا گیا۔ ہر طالب علم کو وطن واپسی سے ایک سال قبل ایک لاکھ ڈالر کی گرانٹ اپلائی کرنے کا موقع دیا گیا تاکہ وہ واپس آ کر سنجیدہ تحقیقی پروگرام شروع کر سکے۔ ڈاکٹر عطاالرحمن کے اس پروگرام کی بازگشت بھارت India کے وزیر اعظم Prime Minister من موہن سنگھ تک پہنچ گئی۔ 23 جولائی 2006ء کو نیہا مہتا نے ہندوستان ٹائمز میں آرٹیکل لکھا جس کا عنوان تھا‘ Pak Threat to Indian Science۔ مضمون میں بتایا گیا کہ بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister کی سائنٹفک ایڈوائزری کونسل کے چیئرمین سی این رائو نے وزیر اعظم Prime Minister من موہن سنگھ کو بریفنگ دی کہ پاکستان Pakistan نے گزشتہ چند برسوں میں اپنے محققین اور سائنسدانوں کی تنخواہیں کئی گنا بڑھا دی ہیں‘ جس سے پاکستان Pakistan میں سائنس کا شعبہ انتہائی پرکشش بن گیا ہے‘ صورتحال یہی رہی تو پاکستان Pakistan جلد چین China کے برابر پہنچ جائے گا جو بھارت India کیلئے اچھا نہیں ہو گا‘‘۔ بعد ازاں نقل کرتے ہوئے بھارت India نے پاکستان Pakistan کی طرز پر ہائیر ایجوکیشن آف انڈیا کی بنیاد رکھ دی۔

شاندار خبر یہ ہے کہ تعلیم و تحقیق کے میدان میں بھارت India کے پسینے چھڑوانے والے ڈاکٹر عطاالرحمن ایک مرتبہ پھر اپنی فارم میں واپس آنے کو ہیں۔ وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے انہیں ٹیکنالوجی پر مبنی نالج اکانومی کی ٹاسک فورس کے وائس چیئرمین کی ذمہ داری دی ہے۔ گزشتہ دنوں لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی میں منعقدہ ایک سیمینار میں ڈاکٹر عطاالرحمن سے ملاقات کا موقع ملا‘ جہاں انہوں نے نالج اکانومی پر انتہائی خوبصورت خطاب کیا۔ پاکستان Pakistan علم کی ترویج سے کہاں تک جا سکتا ہے‘ اس کی ایک جھلک ڈاکٹر عطاالرحمن نے پروجیکٹرز کی مدد سے دکھائی۔ ڈاکٹر صاحب نے انکشاف کیا کہ دنیا میں قدرتی وسائل‘ تیل و معدنیات پر انحصار کم ہو رہا ہے اور اس کی جگہ نالج اکانومی لے رہی ہے۔ چین China اور یورپی ممالک کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ اب اسی ملک کی معیشت ترقی کرے گی جہاں علم و تحقیق پر کام ہو گا۔ سنگاپور‘ جس کی آبادی پچاس لاکھ سے بھی کم ہے اور جو رقبے میں کراچی سے تین گنا چھوٹا ہے‘ کی برآمدات چار سو ارب ڈالر billion dollor سے زائد ہو چکی ہیں جبکہ پاکستان Pakistan بائیس کروڑ آبادی کے باوجود صرف 24 ارب ڈالر billion dollor کی برآمدات تک پہنچ سکا ہے۔ 1960ء سے لے کر 2010ء تک سنگاپور کا برطانیہ سے تقابل کیا جائے تو پتہ چلتا ہے 1960ء میں سنگاپور کی فی کس آمدنی تین ہزار ڈالر تھی جبکہ برطانیہ کی بارہ ہزار ڈالر۔ 2010ء میں سنگاپور کی فی کس سالانہ آمدن پچاس ہزار ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ برطانیہ کی بمشکل تیس ہزار ڈالر کو چھو سکی۔ اور آج 93 ہزار ڈالر فی کس آمدنی کے ساتھ سنگاپور دنیا میں ساتویں نمبر پر‘ برطانیہ چوالیس ہزار ڈالر کے ساتھ انتالیسویں جبکہ پاکستان Pakistan ساڑھے پانچ ہزار ڈالر کے ساتھ 172ویں نمبر پر کھڑا ہے۔ سنگاپور میں نہ تو تیل کی دولت ہے نہ ہی کوئی اور معدنی ذخائر‘ یہ صرف نالج اکانومی کے باعث دنیا پر چھا رہا ہے۔ ڈاکٹر عطاالرحمن نے چین China کی مثال دی۔ چین China نے اپنے طلبہ کو اعلیٰ تعلیم و تحقیق کیلئے دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں بھیجنا شروع کیا۔ 2011ء سے 2015ء کے درمیان اکیس لاکھ چینی بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کیلئے گئے۔ یہ واپس آئے اور چین China کو دنیا کا نمبر ایک ملک بنانے کیلئے جُت گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ساٹھ فیصد ممالک کی نبض چین China کے ہاتھ میں ہے۔

وزیراعظم عمران خان Imran Khan کی اس ٹاسک فورس کا بنیادی مقصد نالج اکانومی کا فروغ ہے۔ یہ فورس ہائی ٹیک الیکٹرانکس اشیا‘ سافٹ ویئرز کی تیاری اور برآمدات پر کام کرے گی‘ ٹیکنیکل ٹریننگ اور اعلیٰ معیار کی زراعت پر زور دے گی اور نئے ابھرنے والے شعبوں مثلاً مصنوعی ذہانت‘ مشین لرننگ‘ اینٹرپرینیورشپ‘ بائیو اور نینو ٹیکنالوجی کے فروغ کیلئے کام کرے گی۔ ایم آئی ٹی‘ ہارورڈ‘ سٹینفرڈ جیسی دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں کے کورسز کو ملک بھر کے سکولوں‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ساتھ آن لائن نتھی کیا جائے گا‘ جس سے طلبا کے تعلیمی معیار اور ویژن میں زبردست تبدیلی آئے گی۔ ڈاکٹر عطاالرحمن نے کہا: دنیا میں درمیانی سطح کی بجائے ہائی ٹیک ایجادات کے باعث زیادہ ترقی ہوئی ہے اور ہم پاکستان Pakistan کو اسی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا: دنیا میں چھپکلی پر تحقیق کی جا رہی ہے کہ جس کی دم کٹ جائے تو دوبارہ اُگ آتی ہے‘ جس مادے کے ذریعے ایسا ہوتا ہے اسے انسانوں میں استعمال کرکے ان میں کٹے ہوئے اعضا بھی دوبارہ اُگائے جا سکیں گے۔ چین China کی نانکائی یونیورسٹی نے ایسی ٹیکنالوجی دریافت کی ہے جس کے ذریعے انسان صرف دماغ میں آنے والے خیالات کی مدد سے گاڑی چلا سکتا ہے۔ ڈیلی ٹیلی گراف کے ایک مضمون کے مطابق ایک ایسی الیکٹرانک ٹافی بھی ایجاد ہو چکی ہے جسے زبان سے چھونے سے نابینا افراد دیکھنے کے قابل ہو سکیںگے۔ نیویارک کی ایک لیب میں ایک ایسی ڈیوائس بن چکی ہے جسے کان میں لگانے سے آپ دوسرے شخص کی زبان کا مرضی کا ترجمہ ساتھ ساتھ اپنے کانوں میں سن سکیں گے۔ امریکی فوج مچھر جتنا ڈرون بنا چکی ہے جس پر خفیہ کیمرہ اور مائیک نصب ہے۔ یہ مچھر امریکہ United States مبینہ طور پر دنیا کے مختلف ممالک میں صدور‘ وزرائے اعظم اور ملٹری لیڈرشپ کے کمروں میں چھوڑتا ہے اور وہاں سے ان کی خفیہ ریکارڈنگز حاصل کی جاتی ہیں۔ ایسے میٹریل بن چکے ہیں جن کی بنی چادر کسی انسان پر ڈال دی جائے تو وہ نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ ایسے الیکٹرانک کپڑے ایجاد ہو چکے ہیں جن کو پہننے کے بعد ان کا رنگ اور ڈیزائن ایک وائس کمانڈ سے تبدیل کیا جا سکتا ہے اور جرمن ماہرین نے ایسا جزو تک تیار کر لیا ہے جس کے ذریعے بڑھاپے کے عمل کو سست کیا جا سکے گا اور انسان طویل عرصے تک جوانی کی زندگی گزار سکے گا۔

عمران خان Imran Khan نے ڈاکٹر عطاالرحمن کا انتخاب کرکے شاندار قدم اٹھایا ہے؛ تاہم میری ان سے درخواست ہے وہ ڈاکٹر عطاالرحمن کو ایک طرف اور پوری کابینہ کو دوسری طرف رکھیں۔ یہ ڈاکٹر صاحب کو ہر وزیر‘ ہر میٹنگ‘ ہر دورے اور ہر کام سے زیادہ اہمیت دیں۔ جس وقت بھی ڈاکٹر عطا وزیراعظم سے بات یا ملاقات کرنا چاہیں ان کی ہاٹ لائن پر بات اور ملاقات کروائی جائے‘ جس طرح کوریا اور آسٹریا میں وزیر تعلیم و سائنس کا درجہ نائب وزیر اعظم Prime Minister کے برابر ہے‘ اسی طرح ڈاکٹر عطا کو بھی نائب وزیر اعظم Prime Minister کا عہدہ دیا جائے۔ وزیر اعظم Prime Minister ایک ایڈوائس کے ذریعے ڈاکٹر عطاالرحمن کی پیش کردہ تجاویز اور اصلاحات کو قانونی درجہ دیں‘ ان کے منصوبوں کیلئے ہر طرح کی لاجسٹکس‘ بجٹ اور مدد ارجنٹ بنیادوں پر فراہم کی جائے‘ حکومت انہیں ایک پرائیویٹ ہیلی کاپٹر اور طیارہ بھی دے‘ ڈاکٹر صاحب اور ان کی ٹیم‘ دونوں جب چاہیں جتنا چاہیں یہ ہیلی کاپٹر اور طیارہ استعمال کریں۔ ماضی میں اگر قوم یہی ہیلی کاپٹر اور طیارے فضول خرچی کے لئے استعمال کرتا دیکھ اور برداشت کر چکی ہے تو آج یہ اس ملک میں تبدیلی لانے کی عمران خان Imran Khan کی خواہش اور ڈاکٹر عطاالرحمن کی کاوشوں کیلئے کیوں اجازت نہیں دے سکتی۔ حکومت کا بنیادی ماٹو بھی تبدیلی لانا ہے اور ڈاکٹر عطا الرحمن تو عشرہ قبل ریسرچ کے میدان کو ری شیپ کر بھی چکے۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ حکومت اگر انہیں فری ہینڈ دے دے‘ انہیں اگلے ساڑھے چار سال کے لئے اعلیٰ سطحی اختیارات فراہم کر دے اور ان کے منصوبوں کیلئے خزانوں کے منہ کھول دے‘ تو ڈاکٹر عطاالرحمن اس ملک کو سنگاپور سے بھی بڑی نالج اکانومی بنا سکتے ہیں۔ یہ اس ملک کی کایا تک پلٹ سکتے ہیں!

 298