RAW کا انتہائی خفیہ خط

ایک اور ایک - منیر احمد بلوچ

23 فروری 2019

raw ka intehai khufia khat

JZX/629/ops/1/sdb dated 10th, Jan, 2015 یہ اس ٹاپ سیکرٹ خط کا فائل کور نمبر ہے جو وکرم بھٹہ چاریہ سیکرٹری سپیشل آپریشن (RAW) نے کچھ اہم فوجی اور سکیورٹی حکام کو براہ راست بھیجا۔ بھٹہ چاریہ کے لکھے گئے اس خط کے عنوان میں راء کی جانب سے خفیہ نام سے ترتیب دیئے جانے والے کوڈ ورڈ ''آپریشن تھنڈر بولٹ‘‘ کا ذکر پڑھنے کو ملے گا اس خط میں مجوزہ آپریشن کے لیے جائے وقوعہ کے لیے مقبوضہ کشمیر کے علا قے بارہ مولہ بازار کا انتخاب کیا گیا ہے اور خط میں لکھا گیا کہ اس آپریشن کے لیے'' کشمیری مجاہدین کے لباس‘‘ کو استعمال کیا جائے تاکہ اس واقعہ کو دہشت گردی کے طور پر دنیا بھر میں پیش کرتے ہوئے بتایا جائے کہ یہ کشمیر میں گھسے ہوئے دہشت گردوں کی کارروائی ہے‘ تاکہ اس طرح دنیا بھر کے میڈیا اور عوام کو مسلمانوں اور خاص طور پر پاکستان Pakistan کو بطور ایک دہشت گرد ریا ست کے پیش کیا جا سکے ۔ 26/11 ممبئی حملوں بارے میری آنے والی کتاب''26/11 راء اور اجمل قصاب‘‘ میں اجمیر شریف اور مالیگائوں بم دھماکوں کے گرفتار کئے گئے انتہا پسند ہندوئوں کے خفیہ ٹھکانوں پر چھاپے کے دوران جب بارود اور دوسرا اسلحہ پکڑا تو ساتھ ہی وہاں سے مسلمانوں جیسی نقلی داڑھیاں اور ان کے پہنے جانے والے لباس بر آمد کئے گئے جو کرنل پروہت اور میجر رمیش گروپ کے خلاف انسداد دہشت گردی سٹاف کے چیف آنجہانی ہیمنت کرکرے کی رپورٹ کے حوالے سے چالان کا باقاعدہ حصہ بن چکے ہیں۔

'' آپریشن تھنڈر بولٹ ‘‘ کا نام سب سے پہلے اسرائیل نے اس وقت استعمال کیا تھا جب یوگنڈا میں چار فروری1976ء کو یرغمال کئے گئے106 افراد کو اسرائیلی کمانڈوز نے بازیاب کرایا تھا۔راء کے سیکرٹری آپریشن بھٹہ چاریہ نے بھی اسرائیل کے اس کوڈ ورڈ کو استعمال کرتے ہوئے اپنے لکھے گئے اس ٹاپ سیکرٹ خط میں بارہ مولا ڈرامے کو '' آپریشن تھنڈر بولٹ‘‘ کے نام کو استعمال کیا ۔ راء کے سپیشل آپریشن ونگ کی جانب سے اس آپریشن کے لیے فروری کے تیسرے ہفتے کو منتخب کیا گیا لیکن اسی خط میں کہا گیا کہ یہ آپریشن فروری کی کس تاریخ اور اس تاریخ کو کس وقت انجام دیا جائے گا‘ اس کی اطلاع سب کو علیحدہ سے دی جائے گی اس خط میں مزید لکھا کہ جو جگہ '' کشمیری مجاہدین‘‘ کے آپریشن کے لیے منتخب کی گئی ہے اس حصے میں آنے والے تمام راستوں پر قانون نافذ کرنے والی تمام ایجنسیوں کو یہ ہدایات بھی دی جا رہی ہیں کہ وہ اس آپریشن کو سر انجام دینے والوں کے لیے ہر قسم کے تعاون کے لیے خود کو ہمہ وقت تیار رکھیں۔بھٹہ چاریہ کے لکھے گئے اس خط کے دوسرے پیرے میں لکھا ہے کہ اس خط میںمخاطب تمام افراد کو ہدایات دی جاتی ہیں کہ جیسے ہی انہیں یہ خط موصول ہو تو وہ چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر اس مشن سے متعلق ضروری اقدامات اور ہدایات کے لیے ان سے ذاتی طور پر رابطہ کریں۔( راء کے سیکرٹری آپریشن بھٹہ چاریہ کا لکھا ہوا یہ ٹاپ سیکرٹ خط کن افراد کو بھیجا گیا کچھ وجوہات کی بنا پر اس کا تذکرہ منا سب نہیں ورنہ اس کی تفصیل بھی سامنے لائی جا سکتی تھی)۔

بارہ مولہ جسے مقبوضہ وادی کشمیر کا گیٹ وے بھی کہا جاتا ہے وہاں انڈین راء نے 21 فروری کو کیا ڈرامہ رچایا اسے اگر آپ براہ راست دیکھنا چاہتے ہیں تو بھارت India کے انتہا پسند ٹی وی چینلABPNEWS کی ویب سائٹ www.abpnews.in پر جا ئیں اور جس میں ایک خاتون انائونسرآپ کو ضلع بارہ مولہ کے علا قے ر فیع آباد کے ایک گائوں کا حوالہ دیتے ہوئے اپنے رپورٹر آصف قریشی کی زبانی بتا رہی ہیں کہ خفیہ اداروں کو ملنے والی اطلاع پا کر سکیورٹی ادارے جب علاقے کی تلاشی لے رہے تھے تو ایک گھر میں لشکر طیبہ کے چھپے ہوئے دہشت گردوں نے فورسز پر اچانک فائرنگ کر دی جس پر کئی گھنٹے جاری رہنے والے اس مقابلے میں لشکر کے دو دہشت گرد ہلاک کر دیئے گئے جن میں سے ایک کا نام فاروق احمد بتایا جا رہا ہے ۔یہ ہے وہ ڈرامہ جوسری نگر بارہ مولہ سے گزرنے والے بھارتی Indian فوج کے قافلے پر حملے کے نام سے شروع کرتے ہوئے ایک ہوٹل کے حوالے سے بتانا شروع کر دیتا ہے کہ یہاں چھپے لشکر طیبہ کے لوگوں کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور پھر اس کی آڑ میں اس گائوں اور اس کے ارد گرد کے دیہات اور قصبوں کی گھر گھر تلاشی شروع کر دی گئی جس میں54 '' مشکوک افراد‘‘ کو پوچھ گوچھ کے لیے فوجی حکام نے اپنی تحویل میں لیتے ہوئے نا معلوم مقامات پر منتقل کر دیا جبکہ ایک خالی گھر اور ہوٹل میں چھپے ہوئے لشکر طیبہ کے لوگوں کو بھارتی Indian فوج نے ہلاک کر دیا ۔

بھارتی Indian ٹی وی چینل اے بی پی پر 21فروری 2015ء کے نیوز بلیٹن کو دیکھتے جایئے تو آپ کو ہر لمحہ راء کے بھٹہ چاریہ سیکرٹری آپریشن کے اس آپریشن تھنڈر بولٹ جیسے بہت سے دوسرے دہشت گردی آپریشنز اور آئے روز بھارتی Indian پراپیگنڈا کا پس منظر اور اصل چہرہ دیکھنے کو مل جائے گا اور ساتھ ہی ستمبر2016ء کے اُری فوجی کیمپ حملے اور جواب میں ان کی سرجیکل سٹرائیک کی نوٹنکی سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہو گی۔ اس کے ساتھ ہی آپ کو 13 اور14 کو یکے بعد دیگرے زاہدان خاش ہائی وے پر پاسداران انقلاب کی بس اور پلوامہ Pulwama میں بھارت India کی سینٹرل ریزرو پولیس رائفلز کے سری نگر سے جموں جانے والی شاہراہ سے گزرنے والے کانوائے پر مبینہ خود کش حملے کے پس منظر اور اس کے اصلی کرداروں کو سمجھنے میں مدد مل سکے گی۔یہ تو اب راز نہیں رہ سکا کہ بھارت India ایرانی بلوچستان Balochistan میں اپنے رابطے بڑھاتے ہوئے بے حد اثر انداز ہو چکا ہے اور چاہ بہار chabahar بندر گاہ کا کنٹرول لینے کے بعد سینٹرل ایشیا اور افغانستان Afghanistan کے اندر تک اپنی خفیہ ایجنسیوں اور مقامی ایجنٹوں کو مضبوط کر چکا ہے۔ بھارت India کا چاہ بہار chabahar میں کس حد تک کنٹرول ہونے کے ساتھ مقامی ایرانی حکام کے ساتھ کس قدر قریبی رابطے ہیں اس کے لیے یہ جاننا ہی کافی ہے کہ جب کلبھوشن یاد یو کو جنوبی بلوچستان Balochistan سے گرفتار کیا گیا تو اس کے دو ساتھی چاہ بہار chabahar کے راستے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے‘ جن کے بارے میں پاکستان Pakistan کی خفیہ ایجنسیوں نے ایرانی حکام کو بر وقت آگاہ کرتے ہوئے کارروائی کا مطا لبہ کیا‘ لیکن بعد میں ملنے والی اطلاعات سے معلوم ہوا کہ ان کو کچھ لوگوں نے ایران Iran سے باہر نکلنے میں مدد کی تھی۔ کلبھوشن سدھیر یادیو چاہ بہار chabahar میں اپنے ان ساتھیوں کے ہمراہ سونے کے تاجر کے نام سے پاکستان Pakistan کے خلاف کراچی اور بلوچستان Balochistan میں دہشت گردی کا نیٹ ورک چلانے میں مصروف عمل تھا اور یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ اس کا یہ نیٹ ورک ایران Iran کی طاقتور اور متحرک خفیہ ایجنسی کی نظروں میں نہ ہو اور وہ یہ بھی نہ جانتے ہوں کہ کلبھوشن یادیو kulbhushan yadav بلوچستان Balochistan میں پاکستان Pakistan کی سکیورٹی فورسز اور فوجی تنصیبات سمیت اس کے شہریوں کے خلاف دہشت گردی میں مصروف ہے ۔

پلوامہ Pulwama حملے پر بہت سے حقائق سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں‘ لیکن یہ سوال سب کے لیے حیران کن ہے کہ دھماکہ ہونے کے صرف پانچ منٹ بعد سات ایمبو لینس موقع پر کیسے پہنچ گئیں؟اگر اس کانوائے کی فوٹیج دکھائی جائے تو پتہ چلے گا کہ اس کانوائے میں صرف دو ایمبولینس تھیں جن کا آپس میں آدھے کلومیٹر سے بھی زائد فاصلہ تھا۔دھماکہ ہونے کے فوری بعد سرکاری طور پر کیسے دعویٰ کر دیا گیا کہ اس میں350 کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا ہے؟

 371