مودی کی ’’جپھی کاری‘‘

برملا - نصرت جاوید

22 فروری 2019

moodi ki' ' jphi kaari' '

شاہزادہ محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman ابھی بھارت India نہیں پہنچے تھے تو میں نے اس کالم میں اس Leverageکا تذکرہ کیا تھا جو سعودی عرب Saudi Arabia کو ان دو ممالک کے باہمی تعلقات کے ضمن میں میسر تھا۔ سوال یہ تھا کہ اس Leverageکو کس صورت استعمال کیا جائے گا۔ سعودی شاہزادے کے دورئہ بھارت India کے بعد جاری ہوئے مشترکہ اعلامیہ کو غور سے پڑھنے کے بعد اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بخوبی استعمال ہوا۔

سعودی عرب Saudi Arabia کے Leverageکو سمجھنے کے لئے محض یہ حقیقت ہی ذہن میں رکھنا کافی نہیں کہ اس وقت تیس لاکھ بھارتی Indian سعودی عرب Saudi Arabia میں کام کررہے ہیں۔ پاکستان Pakistan کے مقابلے میں ان بھارتی Indian وں کی اکثریت مزدوری وغیرہ کے بجائے وائٹ کالر نوکریوں پر تعینات ہے۔ وہ بنیادی طورپر بھارتی Indian متوسط طبقے کی نمائندہ ہے اور سالانہ اپنے ملک دس ارب ڈالر billion dollor کا خطیر زرِ مبادلہ بھیجتی ہے۔ بھارت India ان کے مفادات کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنے کو مجبور ہے۔

بھارت India کو چین China کے مساوی اقتصادی قوت بن جانے کی لگن بھی ہے۔اس ہدف تک غیرملکی سرمایہ کاری کے بغیر پہنچا ہی نہیں جاسکتا اور کلی اختیار کے حصول کے بعد شاہزادہ محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman خود کو Global Investorsکی صف میں نمایاں کرنا چاہ رہے ہیں۔بھارت India کی خواہش ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری اس کے ہاں کریں۔

سعودی Leverageکے حوالے سے مگر اہم ترین پہلو یہ بھی ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران Iran کے ساتھ اوبامہ کے ہوئے ایٹمی معاہدے کی تنسیخ کے بعد بھارت India پر دبائو ڈال رہی ہے کہ وہ اس ملک سے اپنی ضرورت کا تیل خریدنا بند کردے۔ اس ضمن میں سعودی عرب Saudi Arabia سے رجوع کرے۔ فی الوقت اگرچہ بھارت India کو جولائی 2019کے اختتام تک ایران Iran سے تیل کی خریداری کے لئے امریکہ United States نے استثناء دے رکھا ہے۔ یہی سہولت چین China کو بھی دی گئی ہے۔

فرض کیا اگر بھارت India ایران Iran سے تیل خریدنے پر بضد رہا اور وہاں چاہ بہار chabahar جیسے منصوبوں پر سرمایہ کاری کوڈٹا رہا تو امریکی کمپنیوں کے لئے بھارت India میں سرمایہ کاری اور اس ملک سے کاروبار کے راستے میں مختلف النوع ’’قانونی مشکلات‘‘ کھڑی ہوجائیں گی۔ جرمنی کی سیمینز کمپنی کو بھی امریکہ United States میں اپنے کاروبار کو جاری رکھنے کے لئے ایران Iran سے کاروباری تعلقات منقطع کرنا پڑے ہیں۔جبکہ بھارت India کے مقابلے میں جرمنی امریکہ United States کا دوسری جنگ عظیم کے بعد قریب ترین ا تحادی رہا ہے۔ جرمنی کو امریکہ United States نے ممکنہ ایٹمی حملوں کے خلاف ’’ایٹمی چھتری‘‘ بھی فراہم کررکھی ہے۔

بھارت India کے دورے کے بعد شاہزادہ محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman اب چین China روانہ ہونے والے ہیں۔ دلی میں اگر سعودی ولی عہد Crown Prince کی مناسب پذیرائی نہ ہوتی تو سرمایہ کاری کا رُخ بھارت India کے بجائے کلی طورپر چین China کی طرف مڑجاتا۔ بھارت India کی یہ خواہش بھی ہے کہ سعودی حکام سے ملاقاتوں کے دوران چین China انہیں قائل کرے کہ ایران Iran سے کسی نہ کسی نوعیت کے کاروبار کو جاری رکھنا بھارتی Indian اور چینی معیشتوں کے لئے کیوں ضروری ہے۔

سفارت کاری کے عمل میں اہم تصور ہوتی ان ٹھوس حقیقتوں کو جنگی جنون میں اندھا ہوا بھارتی Indian میڈیا دیکھ نہیں پایا۔ سعودی ولی عہد Crown Prince کے استقبال کے لئے نریندر مودی narendra modi بذاتِ خود پالم ایئرپورٹ گیا۔وہاں اس نے شاہزادہ محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman کو جپھی ڈالی۔ بھارتی Indian میڈیا یہ منظر دیکھ کر آگ بگولہ ہوگیا۔ اپنے وزیر اعظم Prime Minister کی جپھی کو اس نے Diplomacyکے بجائے Hugplomacyیعنی ’’جپھی کاری‘‘ کہا۔ سوال تواتر سے پھر یہ اٹھایا گیا کہ مذکورہ جپھی کی بدولت بالآخر سعودی مہمان کی زبان سے پلوامہ Pulwama کے تناظر میں پاکستان Pakistan کا نام لے کر مذمت کی توقع کی جائے یا نہیں۔

اس بچگانہ توقع کے ساتھ بہت پریشانی سے مشترکہ اعلامیہ کا انتظار شروع ہوگیا۔مشترکہ اعلامیہ کی تکمیل اور اجراء میں بہت تاخیر ہوئی۔بھارتی Indian وقت کے مطابق یہ اعلامیہ تقریباََ رات کے گیارہ بجے جاری ہوا۔بھارتی Indian اخبارات کے لئے یہ وقت ’’بہت دیر‘‘ شمار ہوتا ہے۔ وہ اشاعت کے لئے اپنی کاپیاں دس بجے تک تیار کرلینے کے عادی ہیں۔

ٹی وی اور ٹویٹر کے ذریعے سفارت کاری کی باریکیاں سمجھانے والے بھارتی Indian مبصرین کو اس مشترکہ اعلامیہ سے بہت مایوسی ہوئی ہے۔پلوامہ Pulwama پاکستان Pakistan اور جیش محمد کا اس میں ذکر نہیں۔اس کا کلیدی فقرہ بلکہ ان کے لئے مزید مایوس کن تھا۔ انگریزی میں یہ فقرہ کچھ یوں بیان ہوا ہے۔

"Both sides agreed on the need for creaction of conditions necessary for resumption of the comprehensive dialogue between India and Pakistan"

آسان لفظوں میں یہ یوں کہہ لیں کہ سعودی عرب Saudi Arabia اور بھارت India کے مابین اتفاق ہوا ہے کہ پاکستان Pakistan اور بھارت India کے مابین ’’جامع مذاکرات‘‘ بحال ہوں۔ اس بحالی کے لئے Necessary Conditionsفراہم کرنے پر بھی اگرچہ زور دیا گیا ہے۔

مزید غور کریں تو بھارت India کو بتادیا گیا ہے کہ وہ پلوامہ Pulwama کے بارے میں پاکستان Pakistan کو Actionableشواہد فراہم کرے۔ ان شواہد کی فراہمی کے بعد ہی پاکستان Pakistan کو اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کے لئے مجبور کیا جاسکتا ہے۔

پلوامہ Pulwama واقعہ کے بعد پہلی بار مگر ’’جامع مذاکرات (Comprehensive Dialogue)‘‘کے احیاء کی بات ہوئی ہے۔ مذکورہ خواہش بھارتی Indian میڈیا کے لئے ہضم کرنا بہت مشکل ہوگا۔ شایداب راہول گاندھی کی کانگریس بھی مشترکہ اعلامیے کے لتے لینا شروع ہوجائے گی۔مودی کی’’جپھی کاری‘‘ کا مذاق اُڑایا جائے گا۔

سعودی عرب Saudi Arabia سے پاکستان Pakistan کا نام لے کر ’’دہشت گردی‘‘ کے تناظر میں مذمت کے خواہاں جنونی یہ سمجھ نہیں پائیں گے کہ بھارت India جب ’’دہشت گردی‘‘ کا ذکر کرتا ہے تو سعودی سفارت کاریمن Yemen کے حوثیوں کی طرف توجہ دلانا شروع ہوجاتے ہیں۔سوال اٹھاتے ہیں کہ انہیں وہ راکٹ کس نے مہیا کئے ہیں جو سعودی عرب Saudi Arabia پر برسائے جاتے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں پاکستان Pakistan کا نام ڈلوانے کے لئے بھارت India کی جانب سے ایران Iran کا نام لینا بھی ضروری تھا۔ بھارت India اس کے لئے آمادہ ہو نہیں سکتا۔ اسی باعث پاکستان Pakistan بھی مشترکہ اعلامیے میں ’’محفوظ رہا‘‘۔

 222