ظلم کی بات ہی کیا‘ ظلم کی اوقات ہی کیا

طلوع - ارشاد احمد عارف

21 فروری 2019

zulm ki baat hi kya' zulm ki auqaat hi kya

پلوامہ Pulwama حملہ کے بعد بھارتی Indian حکومت‘ میڈیا اور عوام ذہنی توازن کھو بیٹھے‘ سیکولرازم‘ لبرلزم اور جمہوریت کا سارا میک اپ ایک فرضی یا حقیقی کردار عادل ڈار Aadil Dar نے اتار دیا ؎ کاغذ کے پھول سر پہ سجا کے چلی حیات نکلی برون شہر تو بارش نے آ لیا بھارت India تو خیر بھارت India ہے‘ چانکیہ کوتلیہ کا پیروکار اور جھوٹ کا بیوپاری‘ پاکستان Pakistan میں بھی برسوں سے یہ سن سن کر کان پک گئے کہ وہاں بنیاد پرستی ہے نہ تنگ نظری‘ جمہوریت اور سیکولرازم نے ایک ایسی قوم کو جنم دیا جہاں ہر مذہب اور عقیدے کے لوگ مل جل کر بھائیوں کی طرح خورسند رہتے اور اپنے آپ سے کام رکھتے ہیں‘ تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو۔ وہاں تو ہر گھر میں ‘‘مسجد ‘مندر ہِکڑونور‘‘ نظر آتا ہے اور ’’رام ‘رحیم کا رولا‘‘ نہیں‘ بالی وڈ کی فلمیں دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ ایک ہی گھر میں خاتون نماز پڑھ رہی ہے‘ مرد رام رام جپ رہا اور چوکیدار دروازے پر بابا گورونانک کے بھجن گارہا ہے ‘کسی کو ایک دوسرے سے سروکار نہیں مگر پلوامہ Pulwama حملہ کے بعد یوں لگا کہ بھارت India محض ایک تنگ نظر ہندو ریاست ہے۔ اور بس‘بھارتی Indian میڈیا کی پختگی اور پیشہ وارانہ انداز فکر کے اس قدر گن گائے گئے کہ ہم پاکستانی صحافی بالخصوص اردو صحافت سے وابستہ کارکن احساس کمتری کا شکار بغلیں جھانکنے لگتے۔ پلوامہ Pulwama واقعہ نے مگر اس جھوٹ کی قلعی کھول دی ع خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا پانچ چھ روز سے بھارتی Indian ٹی وی پر اینکر‘ تجزیہ کار‘ رپورٹر اور نیوز ریڈر ہر ایک پر جنون طاری ہے اور سڑکوں پر کہیں کشمیری طالب علم زدو کوب کئے جا رہے ہیں کہیں عمران خان Imran Khan کے پتلے جل رہے ہیں اور کہیں پاکستان Pakistan کو سبق سکھانے کا مطالبہ ہو رہا ہے۔92نیوز کے کالم نگار اور نامور کشمیری صحافی کے ساتھ نئی دہلی میں جو بیتی اس کا ذکر افتخار گیلانی نے اپنے کالم میں کیا‘ بھارتی Indian انتہا پسندوں کے ڈر سے وہ اپنے بیوی بچوں کو لے کر مختلف ہوٹلوں میں کمرہ تلاش کرتے رہے ‘مگر انہیں کمرہ نہ ملا اور اگر مقامی آبادی انہیں نہ بچاتی تو ان کے اپنے بقول وہ بدترین انجام کے لئے ذہنی طور پر تیار تھے۔ اکیلے افتخار گیلانی نہیں ہندوستان بھر میں بسنے والے کشمیری اذیت ناک حالات کا شکار ہیں۔ مسلمانوں‘ کشمیریوں اور پاکستان Pakistan کے خلاف اس قدر جذبات کارگل جنگ کے دوران بھڑکائے گئے نہ ممبئی حملوں کے بعد‘ بھارت India میں کم و بیش ایک لاکھ کشمیری نوجوان زیر تعلیم ہیں‘ امتحانات سر پرہیں مگر ان کا تعلیمی مستقبل مخدوش ہے۔ انہیں کسی نہ کسی بہانے ہاسٹلز اور تعلیمی اداروں سے نکالا جا رہا ہے اور خوف کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنے ہی کلاس فیلوز کے ساتھ بیٹھ نہیں سکتے مبادا کشمیریوں سے ہمدردی کا تاثر ملے اور کلاس فیلوز کی بھی کم بختی آ جائے۔ نئی دہلی میں مقیم ایک سینئر کشمیری صحافی نے پاکستانیوں کو پیغام دیا ’’گزشتہ تین یاچار روز سے بھارت India میں پاگل پن کی جو کیفیت ہے اس میں پاکستانیوں کے لئے سبق یہ ہے کہ اپنے ملک کی قدر اور عزت کرو‘ آپ کے حکمران خواہ بدعنوان اور نااہل ہوں آپ کے ساتھ معاشرے میں یہ سلوک نہیں ہو گا‘ سوچئے آپ کس قدر خوش قسمت اور ہم کتنے بدنصیب ہیں‘‘ چند سال قبل سنڈے آبزرور کے ایڈیٹر اور بزرگ صحافی سعید نقوی نے اس سے ملتی جلتی بات ہمارے ایک دوست صحافی سے کی تھی۔ مودی کی حکمرانی میں ہندو توا نے صحافیوں بالخصوص مسلمان صحافیوں کا جینا حرام کیا تو سعید نقوی نے کہا ’’آج میں قائد اعظم کی بصیرت اور مستقبل شناسی کا قائل ہوں‘ اگر پاکستان Pakistan نہ بنتا تو موجودہ پاکستان Pakistan اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں کا حشر ہندوستانی مسلمانوں سے بدتر ہوتا‘ کاش پاکستانی مسلمان اپنے ملک کی قدر کریں اور قائد اعظم کو دعائیں دیں جنہوں نے انہیں ہندو توا کے شر سے محفوظ رکھا‘‘ محبوبہ مفتی بی جے پی BJP کی اتحادی ہیں اور جموں و کشمیر Kashmir میں مودی کی قابل اعتماد ساتھی مگر گزشتہ روز انہوں نے عمران خان Imran Khan کی تقریر پر مثبت ردعمل ظاہر کیا تو بھارتی Indian تنگ نظرمیڈیا نے انہیں غدار اور پاکستانی ایجنٹ ثابت کیا ‘جبکہ عمران خان Imran Khan کی تقریر میں مذاکرات‘ مفاہمت اور جنگی جنون سے گریز کی بات کی گئی تھی جو روشن خیالی اور انسان دوست بھارتی Indian صحافیوں‘ تجزیہ کاروں اور دانشوروں کو بھی پسند نہیں آئی۔ بھارت India کے حکمران‘ سیاستدان اور دانشور دراصل پاکستان Pakistan اورمسلمانوں سے متنفر اورخوفزدہ ہیں۔ ہزار سالہ غلامی نے ان کی نفسیات پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں اور 1971ء میں سقوط ڈھاکہ کے بعد بھی وہ اس خوف کی نفسیات سے چھٹکارا حاصل نہیں کر پائے۔1990ء سے 2018ء تک بھارت India کو یہ سہولت حاصل رہی کہ پاکستان Pakistan میں برسر اقتدار گروہ تحریک پاکستان Pakistan کے مقاصد سے ناواقفیت ‘ غیر نظریاتی سوچ اور ذاتی و کاروباری مفاد کی بنا پر بھارت India کے رقبے‘ آبادی‘ فوج اور معاشی حجم سے خوفزدہ ہر کڑوی کسیلی شے کا عادی تھا‘ امریکی دبائو کا شکار اور قومی حمیت کے جذبے سے عاری مگر اب سیاسی اور عسکری قیادت دہشت گردی کے عفریت پر قابو پانے اور کئی برسوں پر محیط جنگ جیتنے کے بعد پرعزم و پرجوش ہے اور اس حقیقت سے آگاہ کہ دو ایٹمی قوتوں میں جنگ کے بارے میں نریندر مودی narendra modi جیسا جنونی تو سوچ سکتا ہے پاکستان Pakistan کے سمارٹ بموں اور فوجی صلاحیت سے آگاہ بھارتی Indian اسٹیبلشمنٹ اور عالمی برادری نہیں جو برصغیر کو کھنڈر بنتا دیکھنے کی خواہش مند ہے نہ پاگل پن کی روادار رہے پاکستانی عوام تو وہ صدیوں سے غزوہ ہندکے منتظر ہیں۔ بھارت India میں ایک لطیفہ مشہور ہے کہ پٹھان کچھ کرنے کے بعد سوچتے ہیں جبکہ بنیے کچھ کرنے سے قبل سو بارسوچتے اور پھر سوچتے ہی رہ جاتے ہیں۔ پاکستان Pakistan میں اتفاق سے ایک پٹھان وزیر اعظم Prime Minister ہے جس نے گزشتہ روز مودی سے یہ کہا ’’حملے کی حماقت کی تو ہم جوابی ردعمل کے بارے میں سوچیں گے نہیں بلکہ بھرپور جواب دیں گے‘‘ بھارتی Indian فوج اس وقت دل شکستہ ہے‘ مایوس اور خوفزدہ ۔ بھارتی Indian فوجی ناکافی سہولتوں ‘ غذائی کمی اور ناکارہ ہتھیاروں کا رونا روتے ہیں اور ایک ہفتے کے دوران تین جنگی جہازوں کی تباہی نے بھارتی Indian پائلٹوں کی مہارت اور فضائی قوت کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے اس کے باوجود اگر بھارت India مہم جوئی پر آمادہ ہے تو پاکستان Pakistan کے گھوڑے تیار ہیں۔ اگر تیاری نہ ہوتی تو وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan پلوامہ Pulwama حملے کے بعد سعودی ولی عہد Crown Prince کو اس قدر خوش دلی اور خوش مزاجی سے خوش آمدید کہتے نظر نہ آتے اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa کا چہرہ استقبالیہ تقاریب میں مطمئن و شاد دکھائی نہ دیتا۔ پلوامہ Pulwama حملہ نے بھارت India اور عالمی برادری کو یہ سوچنے کا موقع فراہم کیا ہے کہ کشمیری عوام کو حق خود ارادیت دیے بغیر خطے کا امن محفوظ ہے نہ مستقبل یقینی۔ کشمیری عوام ’’اب یا کبھی نہیں ‘‘کا معرکہ لڑ رہے ہیں ‘ پہلے وہ بھارت India کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے تھے‘ اب وہ اسے تباہ کرنے کے خواہش مند ہیں کہ انتہا پسند برہمن قیادت نے اس کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں چھوڑا ع ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے 9/11کے بعد بھارت India کے حوصلے بلند ہوئے سترہ سال بعد حالات مگر بدل چکے‘ افغان عوام نے امریکہ United States کی عقل ٹھکانے لگا دی‘ وہ مذاکرات کی میز پر محفوظ واپسی کی بھیک مانگ رہا ہے ‘ آج نہیں تو کل بھارت India کوبھی پاکستان Pakistan اور کشمیری عوام کے ساتھ مل بیٹھ کر مسئلہ کا پرامن حل نکالنا پڑے گا۔ کچھ باتیں ولی عہد Crown Prince محمد سلمان مودی کو سمجھا کرجائیں گے باقی کشمیری مجاہدین سمجھا دیں گے۔ ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا تو مٹ جاتا ہے خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائیگا خاک صحرا پہ جمے یا کف قاتل پہ جمے فرش انصاف پہ یا پائے سلاسل پہ جمے تیغ بے داد پہ یا لاشہ بسمل پہ جمے خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائیگا ظلم کی بات ہی کیا‘ ظلم کی اوقات ہی کیا ظلم بس ظلم ہے آغاز سے انجام تلک خون پھر خون ہے سو شکل بدل سکتا ہے ایسی شکلیں کہ مٹائو تو مٹائے نہ بنے ایسے شعلے کہ بجھائو تو بجھائے نہ بنے ایسے نعرے کہ دبائو تو دبائے نہ بنے

 136