مشترکہ اعلامیہ پر عجلت میں ٹویٹس

برملا - نصرت جاوید

20 فروری 2019

mushtarqa aalamia par ujlat mein twitts

مسئلہ وہی اندھی نفرت وعقیدت پر مبنی تقسیم کا ہے جس کے مسلسل ذکر سے میں خود اُکتا چکا ہوں۔

شاہزادہ محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman کے دورئہ پاکستان Pakistan کے اختتام پر جو مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا اسے کچھ دوستوں نے نہایت عجلت میں پڑھا اور ’’دریافت‘‘ کرلیا کہ اس میں مسئلہ کشمیر Kashmir Issue کا ذکر نہیں ہے۔ یہ ’’دریافت‘‘ نظر بظاہر برحق تھی۔اسے اچھالنے کے لئے ٹویٹروں کی بارش شروع ہوگئی۔

کسی اور کی جانب سے ہوئی اس ’’دریافت‘‘ کو نہایت عجلت میں ری ٹویٹ کرنے والوں کی اکثریت نے مجھے یقین ہے بذاتِ خود مذکورہ مشترکہ اعلامیہ کے متن کو بغور پڑھنے کی زحمت نہیں اٹھائی ہوگی۔ اپنے دلوں میں موجود تعصبات کے اثبات کے لئے ہمیں محض ایک پوائنٹ درکار ہوتا ہے۔ کسی اور کے توسط سے یہ مل جائے تو کام آسان ہوجاتا ہے۔

اپنی زندگی کے کئی برس خارجہ امور کے بارے میں رپورٹنگ کی نذر کرنے کے باعث مشترکہ اعلامیہ غور سے پڑھنا میری پیشہ وارانہ مجبوری رہی ہے۔ اسی باعث پیر کی سہ پہر جاری ہوئے اعلامیہ کا ایک ایک لفظ دھیان سے پڑھنا پڑا۔

پاکستان Pakistan اور بھارت India کے مابین گزشتہ ہفتے پلوامہ Pulwama میں ہوئے واقعہ کی وجہ سے خوفناک حد تک بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں اس اعلامیہ کی ایک سطرغور طلب تھی۔ اس کے ذریعے اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے مرتب ہوئی ’’دہشت گردوں کی فہرست ‘‘ کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے سے اجتناب برتا جائے۔ انگریزی زبان میں اس خواہش کو "Avoiding Politicisation of UN listing Regime"کہا گیا ہے۔

یہ فقرہ دیکھتے ہی مجھے اندازہ ہوگیا کہ اس کے ذریعے بھیجے پیغام کو بھارت India ہضم نہیں کر پائے گا۔ یہ سوچنے کے بعد ٹویٹر دیکھا توخارجہ امور پر تسلسل سے رپورٹنگ اور تبصرہ کرنے والے بھارتی Indian صحافی اور تبصرہ نگار اسی فقرے کو خطِ کشیدہ لگاکر اُجاگر کررہے تھے۔

اس فقرے کی اہمیت کو درست انداز میں سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ یہ یاد رکھا جائے کہ جیش محمد کو اقوام متحدہ نے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔اسی باعث یہ تنظیم پاکستان Pakistan میں بھی ’’کالعدم‘‘ ٹھہرائی جاچکی ہے۔ تنظیم کے علاوہ مسئلہ مگر اس کے بانی مسعود اظہر کابھی ہے۔بھارت India اقوام متحدہ کے ذریعے موصوف کو مختلف النوع پابندیوں کا نشانہ بنانا چاہ رہا ہے۔چین China مگر اس پر رضا مند ہونے کے لئے چند ’’تکنیکی‘‘ سوالات اٹھارہا ہے۔بھارتی Indian یہ سوالات اٹھانے پر بہت چراغ پا ہیں۔

پلوامہ Pulwama کے واقعہ کے بعد سے بھارتی Indian میڈیا میں چین China کے اس ضمن میں اپنائے رویے کے بارے میں بہت واویلا مچایا جارہا ہے۔پیر کے روز جاری ہوئے اعلامیے کے ذریعے سعودی عرب Saudi Arabia نے درحقیقت چینی رویے کو درست قرار دیا ہے۔پاک بھارت India کشیدگی کے تناظرمیں سعودی عرب Saudi Arabia کا اپنایا یہ رویہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ٹویٹر کے ذریعے ہمیں خارجہ امور کی نفاستیں اور باریکیاں سمجھانے کے خواہاں دانشور مگر اسے ’’دریافت‘‘ نہ کر پائے۔

ہماری رہ نمائی کو ہمہ وقت بے چین China ان دانشوروں نے اس حقیقت پر بھی خاص توجہ نہیں دی کہ پاکستان Pakistan آیا سعودی وفد اپنا دورہ مکمل کرنے کے بعد اسلام آباد Islamabad سے براہِ راست بھارتی Indian دارالحکومت نہیں گیا۔ سرکاری وفود کو لانے والا طیارہ واپس ریاض گیا اور وہاں ایک رات گزارنے کے بعد منگل کی شام دلی کے لئے روانہ ہوا۔

اسلام آباد Islamabad سے براہِ راست دہلی تک پرواز سے اجتناب سفارتی حوالے سے یہ پیغام دیتا ہے کہ پاکستان Pakistan پلوامہ Pulwama کے واقعہ کے بعد بھارت India میں میڈیا کے ذریعے پھیلائے جنون کے بارے میں Coolرویہ اپنائے ہوئے ہے۔ شاہزادہ محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman کے ساتھ ہوئی ملاقاتوں میں ان سے یہ درخواست نہیں ہوئی کہ وہ فوراََ بھارت India پہنچ کر’’معاملات کو ٹھنڈا‘‘ کرنے میں کوئی کردار ادا کریں۔ مشترکہ اعلامیہ میں اگرچہ پاکستان Pakistan اور بھارت India کے مابین ابھرتی ہوئی کشیدگی (Rising Tensions)کو مذاکرات کے ذریعے کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

اسلام آباد Islamabad سے براہِ راست دلی روانگی سے اجتناب یہ پیغام بھی دیتا ہے کہ سعودی عرب Saudi Arabia کی دانست میں اس کے پاکستان Pakistan اور بھارت India سے تعلقات کی حیثیت جداگانہ ہے۔ سفارتی زبان میں اسے دوممالک کو De-Hyphenate کرکے دیکھنا کہا جاتا ہے۔

سعودی عرب Saudi Arabia کے پاکستان Pakistan کے ساتھ تعلقات کی نوعیت بھارت India کے ساتھ اس ملک کے مراسم سے کئی حوالوں سے اپنی سرشت میں قطعاََ مختلف ہے۔ ہمارے ساتھ تعلقات میں مذہبی اور جذباتی پہلو بنیادی اہمیت کے حامل ہیں۔ بھارت India کے ساتھ سعودی عرب Saudi Arabia کے تعلقات میں معیشت اور تجارت کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔اس پہلو کی اہمیت گزشتہ چند برسوں سے بہت نمایاں ہورہی ہے۔

امریکہ United States ایران Iran کو اس کے ایٹمی پروگرام کی وجہ سے کئی برسوں سے اقتصادی پابندیوں کا نشانہ بنائے ہوئے ہے۔ اس کی شدیدخواہش رہی ہے کہ چین China اور بھارت India ایران Iran سے تیل خریدنا بند کردیں۔ صدر اوبامہ کے دنوں میں اس کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن اس امر کو یقینی بنانے خاص طورپر بھارت India گئی تھی۔دلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس نے بھارت India کو یقین دلایا تھا کہ اس کی ضرورت کا تیل سعودی عرب Saudi Arabia اسے ان ہی داموں مہیا کرنے کو تیار ہے جو ایران Iran سے میسر ہوتا ہے۔

بھارت India نے اس کی تجویز کافی حد تک مان لی۔ سعودی عرب Saudi Arabia سے کاروبار بڑھایا۔ ایران Iran اس کی وجہ سے امریکہ United States کیساتھ مذاکرات پر مجبور ہوا۔ بالاخر اوبامہ حکومت اور ایران Iran کے درمیان ایک معاہدہ ہوگیا۔ ٹرمپ نے برسراقتدار آنے کے بعد مگر یہ معاہدہ منسوخ کردیا ہے۔ ایران Iran پر دوبارہ اقتصادی پابندیاں عائد کردی ہیں۔چین China اور بھارت India پر ایک بار پھر زور دیا جارہا ہے کہ وہ ایران Iran سے تیل خریدنے کے بجائے سعودی عرب Saudi Arabia سے اس ضمن میں رجوع کریں۔

بھارت India کے لئے سعودی تیل کی رسد کو طویل المدتی بنیادوں پر یقینی بنانے کے لئے سعودی حکومت 44ارب ڈالر billion dollor کی خطیر سرمایہ کاری کے ذریعے اس ملک میں ایک ریفائنری تعمیر کرنے کا ارادہ بنائے ہوئے ہے۔بھارت India مگر صرف تیل کی رسد ہی کے لئے ایران Iran پر انحصار نہیں کررہا۔اسے افغانستان Afghanistan تک رسائی کا جنون بھی لاحق ہے۔ اس رسائی کے لئے چاہ بہار chabahar کی بندرگاہ کو جدید ترین بنایا جارہا ہے۔ اس بندرگاہ سے افغانستان Afghanistan پہنچنے کے لئے ریل کی پٹڑی اور سڑکوں کی تعمیر کے منصوبے بھی ہیں۔بھارت India ان منصوبوں کی تعمیل پر مصررہا تو ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اس کے تعلقات میں گرمجوشی برقرار نہیں رہ پائے گی۔

سعودی عرب Saudi Arabia کو بھارت India سے مذاکرات کرتے ہوئے اپنے اس Leverageکا بخوبی احساس ہے۔اس Leverageکو لیکن وہ ایک حد تک ہی استعمال کرسکتا ہے کیونکہ سعودی دورے کے فوری بعد اسرائیل کا وزیراعظم بھارت India پہنچ جائے گا اور اسرائیل کی بدولت دلی،واشنگٹن کی Deep Stateکو اپنی ترجیحات کی افادیت کا احساس دلاسکتا ہے۔

ٹویٹس اور ری ٹویٹس کے ذریعے خارجہ امور کی باریکیوں کو سمجھنے سے لہذا پرہیز کریں۔مشترکہ اعلامیوں کو ازخود غور سے پڑھنے کی عادت اپنائیں۔

 151