چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی اور تحریک عدم اعتماد

ریڈ زون سے - کنور دلشاد

15 فروری 2019

chairman public akayonts committee aur tehreek Adam aetmaad

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے عالیہ شاہ کی کتاب ''عمران خان Imran Khan اور نیا پاکستان‘‘ کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان Imran Khan غریب عوام کی آواز بنے اور مڈل کلاس کی طاقت سے نواز اور زرداری خاندان کو کاری ضرب لگائی۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ اب ان کی سیاست قصۂ پارینہ بن چکی ہے۔ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کی جانب سے پانامہ لیکس میں شامل افراد کو بے نقاب کرنا بھی وقت کے ایک اہم تقاضے کی تکمیل کے مترادف ہے کیونکہ اب تک پانامہ لیکس کے حوالے سے عملاً صرف نواز خاندان کے خلاف کارروائی ہوئی ہے جبکہ وزیر اعظم Prime Minister آفس کے ریکارڈ کے مطابق پانامہ لیکس میں شامل 250 سے زائد افراد‘ بشمول علیمہ خان ٹیکس ایمنسٹی لے چکے ہیں اور پانامہ لیکس کی بیشتر کمپنیاں بھی چین China منتقل کی جا چکی ہیں۔ 175 افراد کو تلاش نہیں کیا جا سکا جبکہ 78 افراد کی معلومات نامکمل ہیں۔

یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ محدود اور یک طرفہ احتسابی عمل ملک کو کرپشن کے روگ سے نجات دلانے کا باعث نہیں بن سکتا‘ لہٰذا پانامہ لیکس میں شامل تمام افراد کو یکساں طور پر قانون کی گرفت میں لانا عمران خان Imran Khan کی حکومت کے لیے بہت ضروری ہے‘ خواہ ان کا تعلق حکومتی میڈیا اور کاروباری طبقات سمیت کسی بھی شعبۂ زندگی سے ہو۔ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan نے وضاحت کر دی ہے کہ این آر او کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں؛ تاہم حقائق اس کے برعکس ہیں اور کچھ اور بتا رہے ہیں کیونکہ شہباز شریف Shehbaz Sharif کو قومی اسمبلی کے رولز کی آڑ میں پروڈکشن آرڈر کے ذریعے پارلیمنٹ میں پیش کرنا‘ ان کو عمران خان Imran Khan کی خواہش کے خلاف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنایا جانا‘ نواز شریف Nawaz Sharif کو ان کی خواہش کے مطابق لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں منتقل کیا جانا‘ سلمان شہباز اور حمزہ شہباز کو لندن جانے کا موقع فراہم کرنا‘ شاہد خاقان عباسی کو بیرونِ ملک جانے کی اجازت دیتے وقت چشم پوشی کرنا‘ یہ سب کیا ہے؟ میرے خیال میں یہ سب وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan اور ان کی کابینہ کی مرضی کے بغیر تو نہیں ہو رہا‘ مگر اس پر پردہ ڈالنے کے لئے شیخ رشید اور فواد چودھری کے ذریعے یہ تاثرات دیا جا رہا ہے کہ شہباز شریف Shehbaz Sharif کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے سے برطرف کرانے کے لیے ان کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لائی جائے گی۔

چونکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں 15 ارکان حکومت کی جانب سے ہیں اور 14 ارکان کا تعلق اپوزیشن سے ہے‘ لہٰذا اکثریت کے بل پر شہباز شریف Shehbaz Sharif کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جا سکتی ہے؛ تاہم میری ناقص رائے میں شہباز شریف Shehbaz Sharif کو عمران خان Imran Khan کی رضا مندی کے ساتھ اور سپیکر قومی اسمبلی کی رولنگ کے تحت بطور لیڈر آف دی اپوزیشن‘ چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی مقرر کیا گیا۔ میرا یہ بھی خیال ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی اپنی رولنگ کا دفاع کریں گے اور شہباز شریف Shehbaz Sharif کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے عہدے سے عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے تبدیل کیا گیا تو اپوزیشن فوری طور پر وزیر اعظم Prime Minister کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر کے حکومت کو آئینی و قانونی بحران کی دلدل میں دھکیل دے گی۔ اس طرح وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کی حکومت پر گرفت کمزور پڑ جائے گی‘ ڈالر کی قیمت اچانک اور غیر معمولی انداز میں تیزی سے بڑھے گی‘ بیرونی ممالک سے اس حکومت نے جو معاملات طے کیے ہیںوہ بھی ان سے اور پاکستان Pakistan کو امداد دینے سے پیچھے ہٹ جائیں گے۔ شہباز شریف Shehbaz Sharif کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کے عہدے سے لطف اندوز ہونے دیں‘ انہیں چند ہفتوں میں سزا ہونے کے امکانات ہیں؛ اگرچہ فی الحال لاہور ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے‘ انہیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔ بہرحال اگر انہیں سزا ہوئی تو وہ خود بخود قومی اسمبلی کی نشست سے محروم ہو جائیں گے‘ مگر وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کو یہ آئینی اور قانونی نکات سمجھانے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ یوں لگتا ہے کہ وزیر اعظم Prime Minister صاحب چند مشیروں کے ہاتھوں میں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔ وزیر اعظم Prime Minister اپنے وعدے کے مطابق بریگیڈیئر اعجاز شاہ کو سکیورٹی امور کا وفاقی مشیر مقرر کرنا چاہیے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے سابق شاندار ماضی اور تجربے کی بنیاد پر وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کو بحران سے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan نے این آر او کے بارے میں مؤقف اختیار کرتے ہوئے اپنے وزرا کو آگے بڑھایا ہے۔ اس کی وجہ سے ملک میں پارلیمانی بحران پیدا ہونے کے خدشات پائے جاتے ہیں‘ کیونکہ جو پس پردہ کارروائی کے تحت نواز شریف Nawaz Sharif کے خاندان کو مراعات دے رہے ہیں ان کو اب نواز شریف Nawaz Sharif سے سیاسی طور پر کوئی خاص خطرہ محسوس نہیں ہو رہا۔ دوسری جانب لوگ حکومت اور اس کے طریقہ کار سے غیر معمولی طور پر مایوس ہوتے جا رہے ہیں۔ شیخ رشید کو اس صورتحال کا ادراک ہے اور وہ جس انداز سے حملہ آور ہو رہے ہیں اس سے تحریک انصاف کے فاختہ گروپ کو شدید دکھ پہنچتا ہے‘ اور بے چینی کی لہر پیدا ہوتی ہے‘ جس سے تحریک انصاف کا پارلیمانی گروپ کئی حصوں میں مختلف رائے رکھتے ہوئے منقسم ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ اب اگر حکمران جماعت 1986 ء کی روایات کو دہراتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی کو تبدیل کرنے کی راہ ہموار کرتی ہے تو یہ اپوزیشن اتحاد کی بہت بڑی کامیابی ہو گی کیونکہ وہ اپنی بھاری اکثریت سے حکمران جماعت کی کوششوں کو ناکام بنا دے گی۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کو سبکدوش کرنے کے لئے مقررہ طریقہ کار کی غیر موجودگی میں ارکان کے لیے ممکن نہیں کہ وہ چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد لا سکیں‘ کیونکہ قومی اسمبلی کے رولز آف بزنس میں کسی بھی کمیٹی کے چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کے لئے کوئی طریقہ کار مقرر نہیں۔ پارلیمنٹ کے رولز آف بزنس کے تحت ایک مرتبہ کوئی جماعت اپنے رکن کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا رکن نامزد کر دے تو اسے وہ جماعت حتیٰ کہ سپیکر قومی اسمبلی بھی نہیں نکال سکتا۔ رکن اپنی مرضی سے کمیٹی سے علیحدہ ہو سکتا ہے جیسا کہ 2011ء میں چوہدری نثار علی خان نے از خود اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے استعفیٰ دے دیا تھا کیونکہ ان کے احکامات پر عمل کرانے کی راہ میں رکاوٹ صدر آصف علی زرداری تھے؛ چنانچہ ان کے مستعفی ہونے پر ندیم افضل چن کو چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی مقرر کیا گیا تھا۔ اسی طرح پبلک اکاؤنٹس کمیٹی سمیت کسی بھی کمیٹی کے چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے لئے کوئی بھی طریقہ کار دستیاب نہیں جبکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بھی ان قوانین کی پابند ہے‘ جو قوانین دیگر کمیٹیوں پر عائد ہیں۔ چونکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی پوری پارلیمنٹ کی نمائندگی کرتی ہے اس لئے پہلے پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں اس درونِ خانہ تبدیلی کے خلاف مزاحمت شروع ہو جائے گی۔ میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif وزیر اعظم Prime Minister کی رضا مندی سے چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی مقرر کیے گئے تھے اور اب اگر وہ قواعد و ضوابط کے خلاف احکامات جاری کرتے ہیں تو اس کی روک تھام کا بندوبست بھی قانون میں موجود ہے‘ جس کے ذریعے انہیں ایسے اقدامات سے روکا جا سکتا ہے۔ مگر اس قانونی طریقے کو اختیار کئے بغیر شہباز شریف Shehbaz Sharif کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا عندیہ دیا جا رہا ہے‘ جس سے پوری پارلیمنٹ ابہام میں مبتلا ہو گئی ہے‘ اس طرح مستقبل کے حوالے سے بھی بے یقینی بڑھ رہی ہے۔

 162