ابو ظہبی کے بعد سعوی ولی عہد Crown Prince کی آمد، اہمیت کیا ہے ؟

13 فروری 2019

abbu zhbi ke baad savi walii ehad ki aamad, ahmiyat kya hai ?

لاہور: (تجزیہ: سلمان غنی) وفاقی دارالحکومت میں ابوظہبی کے ولی عہد Crown Prince محمد بن زید کے بعد سعودی عرب Saudi Arabia کے ولی عہد Crown Prince محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman کے دورہ پاکستان Pakistan کو دو طرفہ تعلقات، وسیع پیمانے پر سعودی سرمایہ کاری اقدامات کے حوالے سے اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، بیس سال قبل سعودی عرب Saudi Arabia کی اعلیٰ شخصیت شاہ خالد نے پاکستان Pakistan کا دورہ کیا تھا۔ محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman کے دورہ پاکستان Pakistan کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ آئل ریفائنری فرٹیلائزر سمیت دیگر شعبوں میں تقریباً 20 ارب ڈالر billion dollor ز کے معاہدوں پر دستخط ہوں گے، ان معاہدوں کے بعد سعودی عرب Saudi Arabia باقاعدہ سی پیک CPEC منصوبوں میں پاکستان Pakistan کا شراکت دار بن جائے گا۔

اسلام آباد کے ذمہ دار حلقوں کا کہنا ہے کہ پاک سعودی تعلقات ہمیشہ سے دوستانہ رہے ہیں اور دونوں ملکوں کی دوستی مشکل اور آزمائش کی ہر گھڑی میں پوری اتری۔ پاکستان Pakistan پر کسی بھی مشکل صورتحال میں سعودی عرب Saudi Arabia بلاواسطہ اور بالواسطہ طور پر ساتھ کھڑا نظر آیا خصوصاً 1998ء میں ہندوستان کی جانب سے ہونے والے ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان Pakistan کی جانب سے ہونے والے ایٹمی دھماکوں پر نہ صرف سعودی عرب Saudi Arabia نے خوشی کا اظہار کیا بلکہ اس پر لگنے والی عالمی پابندیوں کے بعد اس نے علی الاعلان پاکستان Pakistan کو مفت تیل دینے کا اقدام کیا۔ پاکستان Pakistan آرڈیننس مشینری میں الخالد ٹینک بنانے کے عمل میں بھی سعودی عرب Saudi Arabia نے پاکستان Pakistan کی مدد کی اور اب ایک مرتبہ پھر سعودی عرب Saudi Arabia کی جانب سے پاکستان Pakistan کے حوالے سے دوستی کے امڈتے جذبہ کے ساتھ یہاں سرمایہ کاری کے حوالے سے موثر اقدامات ہو رہے ہیں۔ شہزادہ محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman کے ولی عہد Crown Prince بننے کے بعد وہ سعودی عرب Saudi Arabia کے وزیرِ دفاع کی ذمہ داری بھی ادا کر رہے ہیں۔ وہ ولی عہد Crown Prince بننے کے بعد خود سعودی عرب Saudi Arabia میں بہت سی اصلاحات لیکر آئے ہیں حال ہی میں سعودی عرب Saudi Arabia نے اپنا پہلا مواصلاتی سیارہ خلا میں بھیجا ہے جسے سعودی دفاع کے حوالے سے نہایت اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

سعودی عرب Saudi Arabia کے ولی عہد Crown Prince کے حوالے سے عالمی میڈیا انہیں سعودی عرب Saudi Arabia میں جدت کی نئی علامت کے طور پر دیکھ رہا ہے اور ان کے حوالے سے شائع ہونے والی رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ سعودی عرب Saudi Arabia کے روایتی حکمرانوں سے ذرا ہٹ کر لبرل ازم کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ انہوں نے پولیس میں جدید اصلاحات متعارف کرانے کے ساتھ خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دی۔ اکنامک اینڈ ڈویلپمنٹ کونسل کے چیئرمین کی حیثیت سے انہوں نے اہم شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کئے اور ماضی میں نظر انداز کئے جانے والے شعبوں پر خصوصی توجہ دی۔ ولی عہد Crown Prince محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman کی پالیسیوں کو یمن Yemen کی جنگ، قطر کے ساتھ تنازعات ، لبنان کے ساتھ کشیدگی اور کینیڈا کے ساتھ بھی تعلقات میں سرد مہری کے حوالے سے اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کی اسلام آباد آمد کے موقع پر پاکستان Pakistan کی منتخب سول اور عسکری قیادت کی جانب سے ان کے ایئر پورٹ پر استقبال کی خبریں آ رہی ہیں، اپنے دورہ اسلام آباد میں ایک بڑا عوامی استقبالیہ بھی متوقع ہے اور شہزادہ محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman کی آمد کے موقع پر اسلام آباد میں خصوصی استقبالی اقدامات ہو رہے ہیں۔

پاکستان Pakistan کے ذمہ دار حلقے سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب Saudi Arabia کے ولی عہد Crown Prince کی پاکستان Pakistan آمد کے بعد باہمی تعلقات میں گرمجوشی تو بڑھے گی لیکن اس دورہ کے نتیجہ میں پاکستان Pakistan میں معاشی سرگرمیاں اور سرمایہ کاری میں اور وسعت آئے گی جس طرح کہا جاتا ہے کہ اگر آئی ایم ایف کسی ملک کیلئے قرض کی منظوری دے دے تو پھر ورلڈ بینک ، ایشین ڈویلپمنٹ بینک سمیت دیگر ممالک بھی قرض کی فراہمی کیلئے تیار ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح کہا جا رہا ہے کہ سی پیک CPEC پر آئی ایم ایف اور خود امریکہ United States کے تحفظات کے بعد ابو ظہبی اور سعودی عرب Saudi Arabia کی قیادت کی جانب سے پاکستان Pakistan کیلئے سافٹ کارنر کا اظہار سرمایہ کاری کیلئے اقدامات سے پاکستان Pakistan پر اعتماد کا رجحان بڑھا ہے خصوصاً امریکہ United States کی جانب سے پاکستان Pakistan کیلئے جذبہ خیر سگالی اور دوستانہ تعلقات کا اظہار ہو رہا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں اس طرح کی خبریں اور تبصرے بھی گردش کر رہے ہیں کہ افغانستان Afghanistan مسئلے کے حل کیلئے پاکستانی تجویز پر عمل شروع کرتے ہوئے واشنگٹن نے اسلام آباد سے دور کھڑی سعودی حکومت اور امارات کو پاکستانی معاشی بحران میں مدد دینے کا اشارہ کیا ہے اور پھر اس کے بعد یکدم پاک سعودی اور پاک اماراتی تعلقات میں بھی برف پگھلی اور سرد مہری کی جگہ پر جوش تعلقات نے لے لی اور ان تینوں ملکوں کے ر ہنما ایک دوسرے کے دورے کر رہے ہیں۔ اس سارے منظر نامے میں ایک اور حقیقت بھی آنکھیں کھولنے کے مترادف ہے اور وہ ہے ہمسایہ ملک چین China کی خاموشی، پاکستان Pakistan کے معاشی فرنٹ پر چائنہ کا ایک لیڈنگ کردار ہے اور اگر خدانخواستہ یہ معاشی پارٹنر شپ اپنے راستے سے اتر گئی تو پھر خطے میں نئی گریٹ گیم کا آغاز ہو جائے گا۔

 123