پارلیمنٹ میں قانون سازی کا پہیہ جام کیوں؟

12 فروری 2019

parliment mein qanoon saazi ka pahiyah jaam kyun ?

لاہور: (دنیا کامران خان کے ساتھ) پالیمنٹ میں قانون سازی کا پہیہ جام ہے اور یہ ایک باقاعدہ بحران بن رہا ہے۔ چھ ماہ سے قومی اسمبلی میں کوئی نیا قانون منظور نہیں ہوسکا، صورتحال اتنی گھمبیر ہے کہ شیخ رشید اور پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے بعد پرسوں وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan نے بھی سوال اٹھا دیا ہے کہ یہ دنیا کی کیسی جمہوریت ہے جہاں جیل سے آکر ایک آدمی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی چلاتا ہے اور نیب کو طلب کرتا ہے، اس طرح سے عمران خان Imran Khan بھی اس بحث کے اندر شامل ہو گئے ہیں مگر مشکل یہ ہے کہ اگر پی ٹی آئی حکومت شہباز شریف Shehbaz Sharif کو پی اے سی کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹانے کی کوشش کرتی ہے تو یہ کوشش حکومت کو مہنگی پڑ سکتی ہے اور قانون سازی کسی صورت میں نہیں ہوسکے گی اور حکومت اس کی متحمل نہیں ہوسکتی کہ وہ شہباز شریف Shehbaz Sharif کو ہٹانے کے ساتھ اپوزیشن کے ساتھ ایک بڑی جنگ میں ملوث ہو جائے کہا جا رہا ہے کہ یہ بنیادی طور پر شیخ رشید کی پوزیشن ہے اور عمران خان Imran Khan کی حکومت اس میں شامل نہیں ہے۔

اس صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ ہم نے شہباز شریف Shehbaz Sharif کو بڑی فراخدلی سے چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی بنایا تھا۔ سندھ میں پی اے سی کا چیئرمین ابھی تک نہیں بنایا گیا اور وہ بڑے دھڑلے سے کہتے ہیں کہ ہم نہیں بنائیں گے مگر ہم نے شہباز شریف Shehbaz Sharif کو بنایا حالانکہ ہمیں بہت سے تحفظات تھے، شہباز شریف Shehbaz Sharif نے بطور اپوزیشن لیڈر اور چیئرمین پی اے سی دونوں کوڈھال کے طور پر استعمال کیا، کیا یہ ممکن ہے کہ آدمی جس کی قید میں ہو اسی سے سوال پوچھے۔ شہباز شریف Shehbaz Sharif نے نیب کو طلب کیا اور یہ بھی مطالبہ کیا کہ سعد رفیق کو بھی بلایا جائے تاکہ وہ بھی نیب پر جرح کر سکیں تا ہم حکومت نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا کہ کیا کرنا ہے۔ لیکن پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو استعمال کرنے پرتشویش ہے۔ انھوں نے کہا کہ عمران خان Imran Khan کی پہلی تقریر میں ہی اپوزیشن نے شور شرابہ کیا، جو کچھ طے ہوا تھا اس کی خلاف ورزی کی گئی۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے 5 سال اپوزیشن کی، ہم نے کبھی نواز شریف Nawaz Sharif کو تقریر کے دوران نہیں ٹوکا تھا، اپوزیشن نے با رہا طے شدہ چیزوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ جہاں تک پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا تعلق ہے اس سے پہلے اتنی بڑی زیادتی نہیں ہوئی، چودھری نثار اور خورشید شاہ Khursheed Shah بھی پی اے سی کے چیئرمین رہے ہیں لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوا کہ نیب کا ملزم ہی نیب کو طلب کر لے اور اسے تنبیہ کرے۔ برا بھلا کہے یہ کسی پارلیمانی نظام میں نہیں ہے یہ اپنے عہدے کا غلط استعمال ہے۔

شفقت محمود نے کہا کہ اپوزیشن نے جو بھی مانگا اسے دے دیا گیا ہے۔ ہمارے کئی ممبران سمجھتے ہیں کہ سپیکر ضرورت سے زیادہ ان کا خیال رکھتے ہیں ان کو وقت دیتے ہیں اور سب کچھ کرتے ہیں۔ ہمیں تو ایاز صادق نے کبھی بولنے کا موقع تک نہیں دیا تھا پانچ سال میں مشکل سے چند منٹ بولنے کا موقع دیا گیا۔ سپیکر کے بارے میں پی ٹی آئی کی پوزیشن واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا اسد قیصر Asad Qaiser ہمارے بانی کارکن ہیں، وہ پارٹی کے سینئر لیڈر ہیں، وہ بڑے مہذب انداز میں وقار کے ساتھ ایوان کو چلا رہے ہیں۔ ہم ان کا بہت احترام کرتے ہیں انہوں نے ایوان کو چلانے کی بہت زیادہ کوشش کی ہے۔ ایاز صادق تو ہر وقت حکومت کی طرفداری کرتے تھے، اسد قیصر Asad Qaiser نے غیر جانبدار ہو کر ایوان کو چلایا ہے ہم اس کی قدر کرتے ہیں۔

دوسری طرف مسلم لیگ ن کے رہنما سابق سپیکر ایاز صادق نے کہا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں تمام پارٹیوں کے نمائندے ہوتے ہیں، مجھے عمران خان Imran Khan اور پی ٹی آئی والوں کی عقل پر حیرانی ہوتی ہے پبلک اکائونٹس کمیٹی میں نیب اور ایف آئی اے کا ایک ایک نمائندہ ہمیشہ آتا ہے۔ پی اے سی میں تمام کام اتفاق رائے سے ہوتا ہے اگر شہباز شریف Shehbaz Sharif نے نیب کے حوالے سے کوئی بات کی تھی تو حکومتی ارکان اس کی نشاندہی کرسکتے تھے نہ ہی میڈیا میں کور ہوا نہ حکوت نے کوئی اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نا اہل اور نا تجربہ کار ہے ابھی تک سمت کا تعین نہیں ہوا، یہ لوگ تو سپیکر کے ڈائس کے پاس آکر کھڑے ہوتے تھے، رولز آف بزنس اچھالے جاتے تھے اور کاغذ پھاڑ کر سپیکر پر پھینک دیئے جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سپیکر کی عزت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ ہم شیخ رشید کی مذمت کرتے ہیں جنہوں نے سپیکر کے خلاف نا مناسب الفاظ استعمال کئے ہیں وہ ہمارے سپیکر ہیں، صرف پی ٹی آئی کے سپیکر نہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں نے سپیکر کو خط لکھا ہے اور درخواست کی ہے کہ مجھے سارا ڈیٹا فراہم کیا جائے کہ میں نے کس جماعت کو کتنا وقت دیا۔ میں نے پی ٹی آئی ارکان کو مختص شدہ وقت سے زیادہ وقت نہ دیا ہو تو جو چور کی سزا ہے وہ میری سزا ہوگی، میرے پاس سارا ریکارڈ ہے یہ لوگ سپیکر پر دباؤ ڈال رہے ہیں ان کو متنازعہ بنا رہے ہیں اور ابھی تک یہ لوگ اپوزیشن موڈ میں ہیں۔ کنٹینر سے نہیں اترے کیونکہ ان سے کام نہیں چل رہا۔ یہ توجہ کا رخ موڑنا چاہتے ہیں ان کو تو چاہئے کہ ٹھنڈے ہو کر ہماری باتیں سنیں اور قانون سازی کریں۔ ان کا کہنا تھا ہم حکومت گرانا نہیں چاہتے، ان کا کہنا تھا اسد قیصر Asad Qaiser بہت اچھے انسان ہیں، ان کی نیت اچھی ہے، ان کی کوشش ہے مگر حکومت ان کے لئے مشکلات پیدا کر رہی ہے، اسد قیصر Asad Qaiser کے بارے میں شیخ رشید نے غیر مہذب گفتگو کی جو قابل مذمت ہے۔ ساری اپوزیشن اسد قیصر Asad Qaiser کے ساتھ کھڑی ہو گی لگتا ہے پی ٹی آئی PTI اور خاص کر عمران خان Imran Khan کو شیخ رشید چلا رہے ہیں وہ تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں وہ کس کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ اسد قیصر Asad Qaiser اور میں بیٹھ کر اس پر بات کریں گے۔

 101