نانی نے خصم کیتا

طلوع - ارشاد احمد عارف

12 فروری 2019

nani ne Khasm kitaa

پنجابی کی کہاوت ہے’’نانی نے خصم کیتا بُرا کیتا‘ کر کے چھڈ دتا ہور وی بُرا کیتا‘‘ موجودہ حکومت کی ناتجربہ کاری اندرونی اختلافات ‘ جلد بازی اور غیر مستقل مزاجی سے اس کے نظریاتی کارکن‘ خیر خواہ اور پاکستان Pakistan میں سیاسی استحکام کے خواہش مند حلقے دل شکستہ ہیں۔ عمران خان Imran Khan میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif کو پارلیمنٹ کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین بنانے کے حق میں نہ تھے‘ وفاقی وزیر اطلاعات فواد حسین چودھری اور وزیر ریلوے شیخ رشید احمد قوم کو یہی تاثر دیتے رہے ‘مگر ایک دن میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif چیئرمین بن گئے‘ کیسے بنے؟ تحریک انصاف پارلیمنٹ کی اکثریتی پارٹی اور برسر اقتدار ہے اس کی مرضی کے بغیر بن نہیں سکتے تھے‘ مگر عمران خان Imran Khan اور ان کے قابل اعتماد ساتھیوں کے بیانات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ ان کی مرضی کے بغیر چیئرمین بنے ع اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا دانش مندی کا تقاضا یہ تھا کہ جب خاطر سے یا لحاظ سے شہباز شریف Shehbaz Sharif کو چیئرمین پبلک اکائونٹس کمیٹی مان لیا تو دودھ میں مینگنیاں ڈالنے کے بجائے حکومتی ارکان کو پابند کیا جاتا کہ وہ اجلاس میں پوری تیاری کرکے جائیں اور اپوزیشن کے گٹھ جوڑ کو بے اثر کر کے سابقہ دور حکومت کی جملہ بے ضابطگیوں‘ بداعمالیوں اور اقربا پروری کا نہ صرف پردہ چاک کریں بلکہ مختلف محکمہ جات میں ہونے والی بے قاعدگیوں پر بنے پیرا جات کو کسی صورت منظور نہ ہونے دیں‘مگر ہوا کیا؟۔ 1993ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو دوبارہ اقتدار میں آئیں تو حکومت اور اپوزیشن کے ارکان میں بمشکل بیس پچیس ارکان کا فرق تھا‘ عددی اعتبار سے پاکستان Pakistan کی مضبوط ترین اپوزیشن کی قیادت میاں نواز شریف Nawaz Sharif کر رہے تھے ‘میں نے ممتاز پارلیمنٹرین حاجی سیف اللہ مرحوم سے پوچھا کہ اس قدر مضبوط اور حکومتی کاروبار کا تجربہ رکھنے والی اپوزیشن حکومت کو کیسے چلنے دے گی؟۔ حاجی سیف اللہ خان1970ء کے عشرے میں اس منحنی اپوزیشن کا حصہ تھے جس نے پنجاب اسمبلی میں غلام مصطفی کھر اور صادق حسین قریشی کی طاقتور‘ ہتھ چھٹ حکومت کا ناک میں دم کئے رکھا جبکہ 1985ء میں جنرل ضیاء الحق Zia ul Haq کی غیر جماعتی پارلیمنٹ کو آٹھویں آئینی ترمیم کے ہنگام انوکی لاک لگایا۔ جنرل ضیاء الحق Zia ul Haq نے وزیر اعظم Prime Minister محمد خان جونیجو وزیر قانون اقبال احمد خان اور اٹارنی جنرل عزیز اے منشی کی یہ کہہ کر کلاس لی کہ ’’ایک حاجی سیف اللہ تمہاری اکثریت‘عقل و دانش‘ سیاسی تجربے اور قانونی مہارت کو مات دے گیا‘‘ یہ اکیلا حاجی سیف اللہ خان تھا جس نے آٹھویں آئینی ترمیم کا پہلا مسودہ حکومت کو واپس لینے پر مجبور کیا اور آٹھویں ترمیم پر بحث کو کئی ماہ تک طول دیا۔ آٹھویں ترمیم پر مذاکرات کے دوران ایک موقع پر جنرل ضیاء الحق Zia ul Haq نے دھمکی دی کہ اگر پارلیمنٹ نے اس ترمیم کی منظوری نہ دی جس میں فوجی آمر کو شاہانہ اختیارات دیے گئے ہیں تومیں اسے توڑ دوں گا۔ حاجی صاحب نے کہا شوق سے‘ اس دھمکی پر عمل کر کے دیکھیں۔1988ء میں ضیاء الحق Zia ul Haq نے اسمبلی توڑی تو پتہ چلا کہ وہ زندگی کی سب سے بھیانک غلطی کر بیٹھے۔ میاں نواز شریف Nawaz Sharif کی سربراہی میں اسّی نوے ارکان پر مشتمل اپوزیشن کے بارے میں حاجی صاحب نے کہا کہ اپوزیشن کمزور یا مضبوط نہیں اہل یا نااہل ہوتی ہے۔ بھٹو اور ضیاء الحق Zia ul Haq کی عددی لحاظ سے کمزور اپوزیشن اہل تھی ‘دونوں آمروں کو ناکوں چنے چبوائے‘ دیکھتے ہیں موجودہ اپوزیشن کون سا معرکہ مارتی ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اپوزیشن اگر اہل‘ لائق اور بیدار مغز ہو تو وہ تعداد میں کم بلکہ نہ ہونے کے برابر بھی حکومت کو نکیل ڈال سکتی ہے لیکن اگر یہ تماش بینوں کا ٹولہ اور مفادات و مراعات کی رسیا ہو تو کار حکمرانی میں ہرگز خلل انداز نہیں ہو سکتی۔ موجودہ اپوزیشن تجربہ کار تو ہے لیکن مضبوط اسے روزبروز حکومت میں شامل وہ نالائق وزیر اور ارکان پارلیمنٹ کر رہے ہیں جو کسی اجلاس میں تیاری کر کے آتے ہیں نہ کسی قائمہ کمیٹی میں اپنے علم‘ مطالعے اور چابکدستی سے اپوزیشن کو مرعوب کرتے اور نہ پارلیمانی روایات کے تحت اپنی اکثریت کے بل بوتے پر اپوزیشن کو من مانی سے روک پاتے ہیں۔ تحریک انصاف اپوزیشن میں تھی تو اس کے ارکان قائمہ کمیٹیوں کے اجلاس میں باقاعدگی سے شریک ہوتے‘ نہ کارروائی میں دلچسپی لیتے۔ ختم نبوت کے حوالے سے حلف نامہ میں ترمیم کی منظوری جس کمیٹی نے دی ۔ اس میں تحریک انصاف کے شفقت محمود شامل تھے مگر انہیں واردات کا پتہ ہی نہ چلا ‘اسمبلی میں بل پیش ہوا تو تحریک انصاف کے کسی رکن نے توجہ نہ دی‘ شیخ رشید نے شور مچایا تو عوام آگاہ ہوئے اور شفقت محمود وضاحتیں پیش کرتے رہے۔ دو تین روز قبل محترمہ مریم نواز Maryam Nawaz شریف Nawaz Sharif کے سمدھی چودھری منیر کی ہدایت اللہ کمپنی کے حوالے سے کیس پبلک اکائونٹس کمیٹی کے سامنے آیا تو حکومتی ارکان منزہ حسن‘شبلی فراز‘ ریاض فتیانہ ‘ عامر ڈوگر میں سے کسی نے یہ اعتراض نہ کیا کہ میاں نواز شریف Nawaz Sharif دور حکومت اور رشتہ دارکے معاملے پر غور کرنے والی کمیٹی کی صدارت میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif کو نہیں کرنی چاہیے ۔نہ یہ سوچنے کی زحمت گوارا کی کہ مریم نواز Maryam Nawaz شریف Nawaz Sharif کے سمدھی کو ریلیف دیا جا رہا ہے اور وہ اپنی اکثریت کے بل بوتے پر اپوزیشن کے اتحاد کو ناکام بنائیں۔ سردار نصراللہ خان دریشک نے اعتراض تو کیا مگر کسی نے ان کا ساتھ نہ دیا حتیٰ کہ پیپراکے چیئرمین اور ڈی جی کو کسی نے بولنے نہ دیا اور تحریک انصاف کے ارکان ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی تصویربنے‘ وقت گزارا کیے۔ عمران خان Imran Khan اپنے ارکان کی گوشمالی کرنے کے بجائے شہباز شریف Shehbaz Sharif کی چیئرمینی پر برہم اور چاہتے ہیں کہ اکثریت کے بل بوتے پر اپوزیشن لیڈر کو اس منصب سے محروم کر دیں جو حکومت اور اس کے سپیکر نے خود عطا کیا ہے۔ بجا کہ نیب کے ایک ملزم کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کا چیئرمین نہیں ہونا چاہیے یہ فواد چودھری کے بقول خربوزوں کی رکھوالی پر گیدڑ بٹھانے کے مترادف ہے مگر سوال یہ ہے کہ نانی کو اس بارے میں خصم کرنے سے قبل سوچنا چاہیے تھا‘ اگر پارلیمانی روایات کے مطابق ایوان کو چلانے کے لئے یہ کڑوا گھونٹ پی لیا گیا تو اب یو ٹرن لینے سے کیا حاصل؟ جبکہ پنجاب میںاپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز پبلک اکائونٹس کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے‘‘بہتر ہے کہ کمیٹیوں میں شامل حکومتی ارکان کو اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کا پابند کیا جائے‘ عمران خان Imran Khan خود بارہ چودہ گھنٹے کام کرتے ہیں قائمہ کمیٹیوں کے ارکان اور وفاقی وزیروں‘ مشیروں‘ پارلیمانی سیکرٹریوں کو بھی کام کی عادت ڈالی جائے‘ وہ ہر اجلاس میں تیاری کر کے جائیں اور اپوزیشن کے تجربہ کار ارکان سے مرعوب ہونے کے بجائے انہیں قدم قدم پر کنفرنٹ کریں اور کوئی ایسا پیرا منظور یا سیٹل نہ ہونے دیں جو سابقہ دو حکومتوں کی بے قاعدگی‘ بے ضابطگی اور لوٹ مار کا مظہر ہو‘ جس پر آڈٹ اینڈ اکائونٹس یا کوئی دوسرا ادارہ معترض ہے۔ اگر عمران خان Imran Khan سمجھتے ہیں کہ موجودہ پارلیمانی نظام حکومت اور مکا مکا کی سیاست کرپشن اور لوٹ مار کے انصافی ایجنڈے کی تکمیل میں رکاوٹ ہے اور تحریک انصاف میں ایک ٹولہ اپوزیشن سے اپنے تعلقات برقرار اور بہتر رکھنے کے شوق میں ایسے اقدامات اور فیصلوں پر مُصر ہے جس سے اس کی بائیس سالہ جدوجہد اکارت ہونے کا اندیشہ ہے تو وہ قوم کو کھل کر بتائیں‘کسی غیر مرئی قوت کی طرف سے دبائو کا شکار ہیں تو اس بارے میں بھی عوام کو اعتماد میں لیں اور اشاروں کنایوں میں بات کرنے کے بجائے فطری انداز میں صاف گوئی کا مظاہرہ کریں جو ان کی وجہ شہرت ہے بصورت دیگر لوگ یہی کہیں گے کہ نانی نے خصم کیتا بُرا کیتا کر کے چھوڑ دیتا ہور بُرا کیتا۔ حکومت بنتی اکثریت کی بنا پر ہے چلتی اہلیت اور بصیرت کے بل بوتے پر ہے۔چیخ پکار کے بجائے اہلیت و بصیرت حضور!

 322