’’مون سون ایشیاء ‘‘اور ا من مشقیں !

ایک اور ایک - منیر احمد بلوچ

12 فروری 2019

'' moon soon asia' ' aur a mann mashqen !

کئی شہرۂ آفاق کتابوں کے مصنف رابرٹ ڈی کپلان نے امریکہ United States کو توجہ دلاتے ہوئے اوربھارت‘ پاکستان‘ چین‘ انڈونیشیا‘ برما‘ عمان Oman ‘ سری لنکا‘ بنگلہ دیش و تنزانیہ کو ''مون سون ایشیائ‘‘ کانام دیتے ہوئے ‘ان ممالک کوکل کی جمہوریت اور مذہبی بالا دستی کی جنگ کا میدان قرار دیا ہے ۔ ایک جانب امریکہ United States امن کی کوششوںکیلئے برطانیہ‘ اٹلی ‘ روس‘ چین‘ فرانس اور پاکستان Pakistan سمیت دنیا کے 45ممالک کے ساتھ شامل ہو کر بحر ہند میں امن کی تلاش کیلئے کراچی میں ایک پلیٹ فارم پر سر گرم ہے‘ لیکن جہاں مفادات کا ٹکرائو آ جائے‘ تو کیا یہ سب ممالک پاکستان Pakistan کی اس مخلصانہ کوشش کا دُور تک ساتھ دینے کیلئے مستقل مزاجی دکھائیں گے ؟ اس سوال کا جواب تو آنے والا وقت ہی بتائے گا‘ لیکن تاریخ میں بحر ہند میںپاکستان Pakistan کی امن کیلئے کی جانے والی مخلصانہ کوششوں کا ذکر انمٹ حروف میں آنے والی نسلوں کیلئے اس کو روشن رکھے گا ۔

بدقسمتی سے امریکہ United States سمیت چند قوتوں کی طرف سے بھارت India کے ذہن میں یقین سے یہ تاثر بیٹھایا جا رہا ہے کہ کل کو تم نے ہی چین China اور پاکستان Pakistan کا مقابلہ کرتے ہوئے بحر ہند کو اپنے کنٹرول میں رکھنا ہے ۔ بحر ہند کے بعد بحر ۂ احمر کی بات کریں تو ایران Iran ‘ ترکی اور چین China اپنی اپنی جگہ پر یہ تینوں بحیرہ ٔاحمرکی جانب اپنے مضبوط قدم بڑھانے کی کوششوں میں ہیں۔ بحیرۂ احمر میں تو سوڈان کا اپنے شمالی حصے میں واقع جزیرہ ''سواکن‘‘ جو کل تک برطانیہ کی ایک مشہور بندر گاہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا‘ اس کا کنٹرول ترکی کو سونپ دینا کوئی معمولی بات نہیں ہے ۔

واضح رہے کہ امن مشقوں کے نا م سے پاکستان Pakistan کا بحیرۂ ہند کو امن کی گزرگاہ بنانا‘ 2007ء سے پاکستان Pakistan کی ایک اچھی کوشش چلی آ رہی ہے‘ لیکن بین الاقوامی مفادات کی گہرائی بتا رہی ہے کہ ہر سمندری گزرگاہ کسی نہ کسی گرداب کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے‘ جس کی واضح مثالیںبحیرۂ احمر ‘ خلیج ِعدن اور آبنائے باب المندب کی گزر گاہیں ہیں۔ باب المندب تو اس وقت سعودی اور ایرانی پشت پناہی سے حوثی باغیوں کی وجہ سے تین برس سے ایک میدان کار زار بنا ہواہے اور ابھی حال ہی میں حوثی باغیوں نے آبنائے باب المندب سے گزرنے والے دو آئل ٹینکروں کو جس طرح نشانہ بنایا‘ اس کے جواب میں سعودیہ نے یورپ کو تیل کی سپلائی کیلئے اس راستے کا استعمال ترک کر دیا ہے۔

2009ء میں رابرٹ ڈی کپلان نے بحر ہند میں عالمی قوتوں کی مداخلت اور دلچسپیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے مغرب اور امریکہ United States کو خبردارکرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ دنیا کے ایک ایسے سمندر کو نظر انداز کر رہے ہیں‘ جو اکیسویں صدی میں توانائی‘ عسکری اور تجارتی مقاصد کے استعمال کیلئے انتہائی اہمیت اختیار کر جائے گا۔ رابرٹ ڈی کپلان نے لکھا تھا: بحر ہند جیسے اہم جغرافیائی سمندر کو عرصہ دراز سے سینٹرل ایشیا اور افریقا میں وجودمیں آنے والے نت نئے ممالک اور وہاں چین China کے بڑھتے ہوئے قدموں کو نہ جانے امریکہ United States ابھی تک کیوں نظر انداز کئے ہوئے ہے؟ رابرٹ ڈی کپلان نے 9برس پہلے امریکہ United States کو جس خطرے سے خبردار کیا تھا‘ وہ آج حقیقت بن کر سامنے آ تا جا رہا ہے اور قبل از وقت یہی اندازہ کرتے ہوئے اس نے مغربی دنیا کو بتایا تھا کہ طاقت کے کھیل کا آئندہ مرکز اور آپس میں رسہ کشی کا معرکہ بحر ہند میں برپا ہونے جا رہا ہے ‘کیونکہ امریکہ United States نے کسی بھی ممکنہ جنگ کو یورپ سے نکال کر ایشیا اور خلیج میں پھینک دیا ہے اور کل کو پاکستان Pakistan کی امن کی کوششوں کو نقصان امریکہ United States ا ور بھارت India کے اسی گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہو گا ‘ جس کیلئے بین الاقوامی برادری کو ابھی سے ان کو آگے بڑھ کر روکنا ہو گا۔

تجزیہ کاروں نے شاید ایسی ہی صورت حال کو دیکھتے ہوئے بحر ہند کے نام سے تیسرے بڑے سمندر کو جو ایشیا‘ افریقا اور آسٹریلیا سے ملحق ہے‘ The Bed Of Future Conflictsکا نام دے دیا ہے ۔بحر ہند کی اہمیت کا اندازہ کرنے کیلئے کیا یہ کم ہے کہ اس وقت تیل کی 80 فیصد تجارت یہاں سے کی جا رہی ہے ۔ بحر ہند میں ڈیگو گارشیا جیسا مشہور ومعروف جزیرہ بھی شامل ہے ‘جہاں عرصہ دراز سے امریکہ United States ڈیگو گارشیا اور بحرین میں اپنے مضبوط بحری اڈوں کے ساتھ شاید اسی ضرورت کے تحت موجود ہے۔ جنوبی ایشیا سے متعلق حالات بتا رہے ہیں کہ امریکہ United States جلد ہی بھارت India کو اس بحری رستے میں چین China کا متحارب فریق بنا نے کی کوششوں میں ہے‘ کیونکہ ان دونوں ممالک کی مستقبل کی توانائی کی تمام ضروریات کا یہی راستہ ہے‘ جو دنیا کے تمام سمندروں کے پانچویں حصے پر مشتمل ہے ۔ امریکی ڈیپارٹمنٹ آف ڈیفنس کی ایک رپورٹ کے مطابق؛ 2012ء میں توانائی کی صورت میں چین China کی 84 فیصد تجارت بحر ہند کی سٹریٹ آف ملاکہ کے ذریعے کی گئی ۔امریکہ United States اس سے کبھی بھی نظریں ہٹانے کی غلطی نہیں کرے گا‘ لیکن یہ عالمی امن کیلئے ایک خطرناک بم سے کم نہیں ہو گا‘ کیونکہ چین China کی یہ تجارت امن کیلئے ہے ‘نا کہ جنگ کیلئے ‘کیونکہ بحر ہند 45 ملین مربع کلو میٹر پر مشتمل ہے‘ جس کا مطلب ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لینا ہو گا ۔

رابرٹ ڈی کپلان نے اپنے اس مضمون میں بحر ہند کی سٹریٹیجک صورت حال کی جانب اشارہ کرتے ہوئے امریکہ United States سمیت اس کی حلیف مغربی طاقتوں کو ''بحر ہند میں مسابقانہ کشمکش‘‘ کے عنوان سے خبردار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ہے کہ کل کا جنگی میدان جرمنی یا آسٹریا نہیں اور نہ ہی روس Russia اور امریکہ United States کی فضائوں اور سمندروں میں ہو گا‘ بلکہ Centre Stage For The 21st Centuary بحر ہند ہو گا ۔ اس جانب بھارت India اور اس کے اتحادیوں کی ممکن ہے کہ جلد توجہ نہ ہوتی‘ لیکن گوادر Gawadar کے جھٹکے نے انہیں نیند سے ایسا جگایا کہ امریکہ United States اور بھارت India نے گوادر Gawadar کو اپنا درد سر بنا تے ہوئے‘ اس سے چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے پاکستان Pakistan اور چین China کے گھیرائو کا فیصلہ کر لیا ہے ۔

گزشتہ نومبر میں نریندر مودی narendra modi نے انڈو پیسیفک ریجن کی سکیورٹی صورتحال کے نام سے آسٹریلیا اور تائیوان کے وزرائِ اعظم کو فلپائن میں ایشین سمٹ کے دوران اور پھر بھارت‘ امریکہ United States ‘ آسٹریلیا اور جاپان کے ساتھ چین China کی بحر ہند میں دن بدن Aggressive فوجی طاقت اور صلاحیتوں کے تنا ظر میں اس کا بھر پور مقابلہ اور اس کی بڑھتی ہوئی سمندری فوجی طاقت کا مقابلہ کرنے کیلئے اس کے سائوتھ کی سمندری حدود میں سمندری جنگی مشقیں اور اڈے بنانے شروع کر دیئے ہیںاور یہ بحر ہند کی امن کوششوں کو ٹائم بم سے اڑانے کے مترادف ہے۔

امریکہ United States گوادر Gawadar بندرگاہ اور سی پیک CPEC کے ابتدائی مراحل کی تکمیل کے عمل کو روکنے کیلئے اپنے اتحادیوں کے ساتھ بحر ہند میں اڈے بنا رہا ہے تو کہیں بھارت India اور تائیوان کی سمندری لہروں کو آپس میں جوڑنے کی کوششوں میں مصروف ہے ‘جس سے رابرٹ کپلان کا 9 برس قبل بحر ہند میں بڑھنے والی کشمکش کا اشارہ چین China کے خلاف امریکی سازشوں کی صورت میں سچ ثابت ہو تا جا رہا ہے ۔ کپلان کے اس مضمون کو لکھے9 برس گزر چکے ہیں۔ یقینا یہ مضمون پاکستانی اداروں کی نظروں سے بھی گزرا ہو گا۔

واضح رہے کہ بحر ہند نے یکدم اہمیت اختیار کی ہے۔اس کی وجوہات میں سے دہشت گردوں کی نقل و حرکت‘ منشیات کی سمگلنگ اور Piracy شامل ہے۔ اس لئے امریکہ United States کو ''مون سون ایشیا‘‘ کی بجائے بحر ہند کو امن کا گہوارہ بنانے کی کوششوں کا ساتھ دینا چاہئے ۔

 144