بلوچستان Balochistan اسمبلی: بلدیاتی انتخابات موخر کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

11 فروری 2019

Balochistan assembly : baldeati intikhabaat mokhar karne ki qarardad mutafiqa tor par Manzoor

کوئٹہ: (دنیا نیوز) بلوچستان Balochistan اسمبلی نے بلدیاتی انتخابات کو موخر کرنے کے حوالے قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔

حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے نئی مردم شماری کے تحت نئی حلقہ بندیوں اور بلدیاتی ایکٹ 2010ء میں اصلاحات کے بعد بلدیاتی انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ایوان میں تعلیم کو لازمی سروس Russia قرار دینے سے متعلق بل بھی منظور کر لیا گیا۔ بل کے تحت تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی ہڑتالوں اور تالہ بندی پر پابندی لگا دی گئی۔

بلوچستان Balochistan اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر بابر موسیٰ خیل کی صدارت میں ایک گھنٹہ 20 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزیر اطلاعات ظہور بلیدی کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کو موخر کرنے سے متعلق پیش کی جانیوالی قرارداد میں کہا گیا تھا کہ صوبائی حکومت کو بلدیاتی ایکٹ 2010ء میں اصلاحات کے لیے وقت درکار ہے۔ حکومت مردم شماری کے تحت نئی حلقہ بندیوں کے بعد بلدیاتی انتخابات کرانے کی پوزیشن میں ہو گی۔

قرارداد کی اپوزیشن جماعت بی این پی (مینگل) نے حمایت کی جبکہ اس قرارداد کی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے مخالفت کر دی۔ ایوان میں ترقیاتی محصولات کا قانون بھی منظور کر لیا گیا جس میں ریل، سڑک، فضائی اور سمندری راستے سے صوبے میں آنے والی پر اشیا پر محصول عائد کیا جائے گا۔ قانون فوری طور پر صوبے بھر میں نافذالعمل ہوگا۔

بل پر وزیراعلیٰ بلوچستان Balochistan جام کمال کا کہنا تھا کہ سندھ کے طرز پر بلوچستان Balochistan حکومت گوادر Gawadar سے ایک فیصد محصول ٹیکس لے گی جس سے بلوچستان Balochistan کے ریوینو میں اضافہ ہوگا۔

ایوان میں بلوچستان Balochistan لازمی تعلیمی خدمات بل بھی منظوری کے لیے پیش کیا گیا۔ بل کے تحت پرائمری سے ہائر سیکنڈری تک ہر طرح کی ہڑتال پر پابندی ہو گی۔

ہڑتال کرنے والوں کو ایک سال قید یا پانچ لاکھ روپے جرمانہ جبکہ ہڑتال کی مالی معاونت کرنے والوں کو 6 ماہ قید یا 3 ماہ جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے جس کے بعد اجلاس 14 فروری تک ملتوی کر دیا گیا۔

 125