لگتا ہے شہباز شریف Shehbaz Sharif کیخلاف مہم بھی دم توڑ جائے گی

11 فروری 2019

lagta hai Shahbaz shareef kay khilaaf muhim bhi dam toar jaye gi

لاہور: (تجزیہ:سلمان غنی) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف Shehbaz Sharif کی نامزدگی کے باوجود چیئرمین شپ حکومت کو ہضم نہیں ہو پا رہی۔ اسے ایشو بنا کر رکھنا وفاقی وزیر شیخ رشید نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے اور اب خود وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے بھی ننکانہ صاحب کے جلسہ میں شہباز شریف Shehbaz Sharif کا نام لئے بغیر یہ کہہ دیا کہ جمہوری تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ کوئی جیل سے آ کر چیئرمین پی اے سی بنا ہو اور نیب کو طلب کر لے جبکہ دوسری جانب خود اپوزیشن میں شامل دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے بھی اس اصولی نامزدگی پر واضح سٹینڈ لے رکھا ہے اور وہ شہباز شریف Shehbaz Sharif کی تبدیلی پر کسی قیمت پر تیار نہیں۔

لہٰذا دیکھنا یہ ہے کہ پہلے پی اے سی کی چیئرمین شپ پر شہباز شریف Shehbaz Sharif کی نامزدگی پر حکومت نے اتفاق کیوں کیا ؟ بعد ازاں اس پر معترض کیونکر ہوئی؟ شہباز شریف Shehbaz Sharif کا کونسا عمل ہے جو حکومت کو ہضم نہیں ہو پا رہا اور کونسا ایسا ذہن حکومت کے اندر کار فرما ہے جو حکومت کو الجھانے اور نت نئے ایشوز میں پھنسانے کا باعث بن رہا ہے۔ جہاں تک شہباز شریف Shehbaz Sharif کی بطور چیئر مین پی اے سی نامزدگی کے عمل کا سوال ہے تو یقیناً ماضی میں اس منصب پر اپوزیشن لیڈر کی نامزدگی کی روایت موجود تھی، لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا اور خود وزیراعظم عمران خان Imran Khan سمیت بعض وفاقی وزرا اسے اپنے لئے عزت کا مسئلہ بنا کر کسی قیمت پر انہیں بنانے کو تیار نہ تھے لیکن کہیں نہ کہیں سے کوئی سگنل آیا کہ راتوں رات سارے ڈھیر ہو گئے اور شہباز شریف Shehbaz Sharif پی اے سی کے چیئرمین بنے اور چیئرمین پی اے سی کے طور پر ان کا کردار نمایاں ہونے لگا تو حکومت کے اندر موجود لابی اسے ہضم نہ کر سکی۔

شیخ رشید نے شہباز شریف Shehbaz Sharif کی نامزدگی کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان کیا، لیکن یہ اعلان محض اعلان تک ہی رہا۔ بعد ازاں کابینہ کے اجلاس میں شہباز شریف Shehbaz Sharif کے استعفے کا مطالبہ سامنے آ گیا جس سے ظاہر ہو رہا تھا کہ شہباز شریف Shehbaz Sharif کوئی ایسا کام ضرور ڈال رہے ہیں جو حکومت کو ہضم نہیں ہو پا رہا۔ شہباز شریف Shehbaz Sharif پر حکومتی اعتراض کا پہلا جواب تو پیپلز پارٹی کی جانب سے آیا اور خورشید شاہ Khursheed Shah نے کہا کہ نیب کے مقدمہ کی بنا پر اگر شہباز شریف Shehbaz Sharif بطور چیئرمین پی اے سی قبول نہیں تو پھر اس کا آغاز وزیراعظم عمران خان Imran Khan سے کیا جائے جو سرکاری ہیلی کاپٹر کے غیر قانونی استعمال کے مقدمہ میں نیب کو مطلوب ہیں۔ شیخ رشید کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی بعض ایسے کوارٹرز پر نظر اور رابطے ہیں جہاں آج بھی شہباز شریف Shehbaz Sharif کیلئے سافٹ کارنر ہے جو انہیں جینے نہیں دے رہا۔ خود پی اے سی کے حوالے سے بھی ان کی چال کارگر نہ ہوئی اور وزیراعظم کی جانب سے منظوری لینے کے باوجود وہ رکن نہ بن سکے کیونکہ دنیا کے کسی ملک میں کسی وزیر کے مجلس قائمہ کے رکن بننے کی مثال موجود نہیں۔

شیخ رشید کا مسئلہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سیاسی محاذ پر کوئی بڑا ایشو کھڑا کر کے اپنی اہمیت قائم رکھنا چاہتے ہیں لیکن انہیں شاید یہ معلوم نہیں کہ ان کے بیانات سے خود حکومت کیلئے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ شہباز شریف Shehbaz Sharif پر وزیراعظم سمیت وزرا کی جانب سے دباؤ ظاہر کر رہا ہے کہ شہباز شریف Shehbaz Sharif انہیں کھٹک رہے ہیں۔ جہاں تک اس امر کا سوال ہے کہ کیا شہباز شریف Shehbaz Sharif حکومتی دباؤ کے نتیجہ میں یہ ذمہ داری چھوڑ دیں گے تو لگتا ہے کہ اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ پی اے سی کی چیئرمین شپ کیلئے کلیئرنس جہاں سے ہوتی ہے حکومت کو بخوبی پتہ ہے اور شہباز شریف Shehbaz Sharif پیچھے ہٹنے والے نہیں اور لگتا یوں ہے کہ شہباز شریف Shehbaz Sharif کی چیئرمین شپ کے خلاف مہم اس طرح دم توڑ جائے گی جس طرح چند ہفتے قبل وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے استعفے کیلئے حکومتی وزرا کو ابال آیا تھا۔ ہر سطح پر زور لگانے کے بعد بلآخر پسپائی اختیار کرنا پڑی تھی لیکن ایک سوال حکومتی و سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے کہ حکومتیں تو جلتی پر تیل ڈالنے کے بجائے پانی ڈالتی ہیں، بحرانوں کا خاتمہ کرتی ہیں، مسائل کا سیاسی حل پیش کرتی ہیں اور پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلنے کا ایجنڈا دے کر عوام کے سامنے سرخرو ہوتی ہے۔ آخر حکومت کا مسئلہ کیا ہے کہ وہ از خود بحران اور طوفان لا رہی ہے اور حکومتی وزرا حکومتی کارکردگی پر توجہ دینے کے بجائے اپوزیشن لیڈر پر نظر رکھے انہیں کوستے نظر آ رہے ہیں آخر مسئلہ کیا ہے اس کا جواب کوئی نہیں دے پا رہا۔

 104