خوش قسمتی کی دستک

آس - اسما طارق

11 فروری 2019

khush qismati ki dastak

سیاسی بحران بڑھ رہا ہے اور جو ملک اور قوم کو اپنی لپیٹ میں لینے کی کوشش میں ہے ۔ اس اور تو کچھ فرق پڑنا ہے یا نہیں مگر عام آدمی کی زندگی مزید تلخ ضرور بن جانی ہے ۔ مہنگائی میں کافی حد تک اضافہ ہوا ہے جس سے زندگیاں تلخ بن رہی ہیں اور لوگ پریشان ہیں مگر امید کی جاتی ہے کہ آنے والے سالوں میں کچھ بہتری آئے اور خوشحالی ہمارے مقدروں کا بھی حصہ بنے ۔ پاکستان Pakistan میں حکمرانوں کی ناچاقیوں کی وجہ سے ملکی حالات مزید خراب ہو رہے ہیں اور ہر کوئی حالات کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرا رہا ہے اور خود کو بری الذمہ قرار دے رہا ہے ۔حکومت کا کہنا ہے کہ اپوزیشن ہمیں کام کرنے نہیں دے رہی ہے اور حکومت کا کوئی کام مکمل ہونے نہیں دے رہا ۔ اپوزیشن کا شور ہے حکومت احتساب کے عمل سے انتقام لے رہی ہے جو بھی ہو ایک بات تو طے ہے اب اس عمل کو روکنا نہیں چاہیئے اور دیکھنا چاہئے کہ اونٹ کس ڈگر بیٹھتا ہے ۔ عوام کو اس قصے سے دور ہی رہنا چاہیے کسی سرگرمی کا حصہ نا بنتے ہوئے اپنے کام دھندے پر توجہ دینی چاہیے ۔ اللہ اللہ کرکے کہ لاکھوں لوگوں اور فوج کی بےشمار قربانیوں کے بعد ملک میں امن قائم ہوا ہے ۔ اب اس امن کو قائم رہنا چاہیے اور اس کے لیے ہم سب مل کر کوششیں کرنی ہیں ۔تمام اختیاطی تدابیر اختیار کرنی ہے، اور فساد کا باعث بننے والی تمام چیزوں سے دور رہنا ہے، فرقے بندیوں سے خود کو دور رکھنا ہے، اپنی رائے کے ساتھ ساتھ اپنے بھائی کی رائے کا بھی اخترام کرنا ہے، کسی بھی عمل کو انجام دینے سے پہلے اس کی سچائی کا علم لینا ہے۔

اس سال شکر گزاری کو اپنی عادت بنا کر خوش قسمتی کو اپنے دروازے پر دستک دینے کی دعوت دیں۔ کیوں شکر گزاری ہے خوش قسمتی کی گنجی ہے ۔فرمایا گیا : جو جتنی شکرگزاری کرے گا اسے اتنا ہی دیا جائے گا اس لیے شکر واجب ہے ۔ زندگی میں ہر چیز کی اہمیت ہے ایسے ہی جذبات ہیں ۔وہ جذبہ محبت ہو یا نفرت ،لڑائی ہو یا صلح ،غضہ ہو یا پیار ، ہمدردی ہو یا سخت دلی ۔ ان جذبات کا درست اور بروقت استعمال ہی انسان کو انسان کی معراج پر قائم رکھتا ہے ۔نرم دلی اور ہمدردی ہی انسان کو انسان رہنے دیتی ہے ۔ بہت سی ناخدائی کا وجود اسی ہمدردی کے عدم موجودگی کی وجہ سے ہے ۔

آج معاشرے میں جس قدر انسانوں کی تقسیم کر دی ہے ،کیٹگریز بنا دی گئی ہیں صرف اور صرف معاشرتی رتبوں کی بنا پر ۔ کوئی افسر ہے تو کوئی چپراسی اور اسی طرح انسان کے لئے اپنے جذبات کی تقسیم کر دی گئی ہے مگر ہم یہ سمجھتے نہیں کہ تقسیم ہمیشہ مزید تقسیم کو جنم دیتی ہے جو اصل چیز کو ختم کردیتی ہے ۔اس کے معاشرتی مقام و رتبے کو دیکھ کر اس کے لیے جذبات اور رویوں کا انتخاب کیا جاتا ہے ۔لوگ خود سے اونچے طبقے کے لوگوں کو عزت و احترام سے نوازتے نہیں تھکتے اور ڈرتے ہیں کہ یہ اونچے لوگ ان کی تذلیل نا کر دیں مگر یہی لوگ خود سے نچلے طبقے کے لوگوں کو انسان نہیں سمجھتے اور ان کی تذلیل کے عمل سے باز نہیں آتے ۔اس وقت معاشرے میں عجب صورتحال ہے ہر کوئی اپنی عزت و وقار کو بچانے میں مصروف ہے مگر اس کے باوجود وہ دوسروں کی تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا ۔ خیر یہاں تذکرہ یہ ہےکہ نرم دلی اور ہمدردی کا ہے تو اگر انسان میں یہ احساس نا ہو تو وہ خود کو انسانیت کے درجے سے گرا لیتا ہے اور اپنے اصل سے کٹ جاتا ہے۔ دل میں ہمدردی ہونا بھی ایک نعمت ہے جس کا شکر واجب ہے ۔

انسان دنیا کی کسی بھی چیز کا مالک کیوں نہ بن جائے مگر وہ ہمدردی اور محبت کے جذبے کے بغیر کوئی تعلق قائم نہیں رکھ سکتا ۔ وہ کتنی بھی بلندیوں کا مالک کیوں نہ بن جائے مگر وہ اس جذبہ کے بغیر کسی کے دل میں گھر نہیں کر سکتا ۔انسان ہمدردی اور محبت کا طالب ہے اور اس لیے لازم ہے کہ وہ یہ جذبہ دوسروں کے لیےبھی محسوس کرے ۔اس لیے اللہ سے اس کے لیے بھی شکر ادا کرنا چاہیے اگر یہ جذبہ آپ کے دل میں موجود ہے ۔

ڈھونڈنےوالا ستاروں کی گزرگاہوں کا

اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا

جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا

زندگی کی شب تاریک سحر کر نہ سکا

 128