اب محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman بھی پاکستان Pakistan آرہے ہیں

بات یہ ہے - ارشاد محمود

11 فروری 2019

ab Mohammad ban Salman bhi Pakistan arhay hain

سعودی عرب Saudi Arabia کے ولی عہد Crown Prince محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman کی رواں ہفتے پاکستان Pakistan آمدکو غیر معمولی اہمیت کا دورہ سمجھاجارہا ہے۔وہ سعودی عرب Saudi Arabia میں اس وقت سب سے طاقت ور اورتیزی سے فیصلے کرنے اور ان پر عمل درآمدکرانے والی شخصیت کی شناخت رکھتے ہیں۔پاکستان Pakistan کے ساتھ دوستانہ اور اسٹرٹیجک تعلقات کی وہ تجدید کرنے آرہے ہیں۔گزشتہ دس بارہ برسوں میں پاکستان Pakistan اور سعودی عرب Saudi Arabia کے تعلقات میں سرد مہری آچکی تھی۔ عمران خان Imran Khan کے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد سعودی عرب Saudi Arabia کے ساتھ تعلقات میں نہ صرف گرم جوشی پیدا ہوئی بلکہ سعودی عرب Saudi Arabia نے پاکستان Pakistan کی ڈوبتی ہوئی معیشت کو سہارا دینے کے لیے گراں قدر مالی امداد بھی فراہم کی ۔ محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman کا دورہ پاکستان Pakistan تعلقات کو مزید وسعت اور گہرائی عطا کرے گا۔ شنید ہے کہ سعودی عرب Saudi Arabia پاکستان Pakistan میں پندرہ ارب ڈالر billion dollor سے اوپر سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتاہے۔بقول وزیر خزانہ اسد عمر پاکستان Pakistan کی تاریخ کی یہ سب سے بڑی بیرونی سرمایہ کاری ہوگی۔پاکستان Pakistan کی بیمار معیشت کے لیے یہ سرمایہ کاری تریاق کا کام کرے گی۔ گزشتہ چھ ماہ میںپاکستان Pakistan کی براہ راست بیرونی سرمایہ کاری اسٹیٹ بینک کے مطابق پچاس فی صد سے زائد گر ی۔ روپے کی ڈالر کے مقابلے میں تینتیس فی صد قدر کم ہوئی۔سعودی عرب Saudi Arabia اور متحدہ عرب امارات united arab emirates پاکستان Pakistan کی مدد کو نہ آتے تو دیوالیہ ہونے کا خدشہ کب کا حقیقت بن چکاہوتا۔ سعودی عرب Saudi Arabia نے نہ صرف پاکستان Pakistan کو تین برسوں تک مفت تیل فراہم کرنے کا اعلان کیا بلکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان Pakistan میں اربوں ڈالر بھی رکھوائے تاکہ پاکستان Pakistan دیوالیہ ہونے سے بچ سکے۔ پاکستان Pakistan کے ساتھ دوستی اور محبت کی روایت محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman کے دادا شاہ عبدالعزیز مرحوم نے ڈالی۔ اب تیسری نسل اس سلسلہ مہروفا کو نبھارہی ہے۔ اس عرصے میں جہاں دنیا بدلی وہاںعالم عرب کی سیاست اور معیشت میں بھی دوررس تبدیلیاں رونما ہوئیںلیکن پاکستان Pakistan سعودی عرب Saudi Arabia اور سعودی عرب Saudi Arabia پاکستان Pakistan کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون رہے ہیں۔ سعودی عرب Saudi Arabia میں حکمران خاندان کی نئی نسل زمام کار سنبھال چکی ہے۔ کاروبارکے فروغ ، مملکت کو ترقی دینے،علاقائی سیاسی اور سماجی اثر ورسوخ کو خطے میں قائم رکھنے اور بڑھانے کے لیے جو مسلسل فکرمند ہے۔ دوسرے ملکوں کے تعلقات کو وہ ملکی مفاد کی عینک سے دیکھتے ہیں۔سعودی حکمرانوں کی نئی نسل کاروبار اور باہمی مفاد پر تعلقات استوار کرنے پر مائل ہے ۔ پاکستان Pakistan کو امداد ، مفت تیل اور ادھار حاصل کرنے سے اوپر اٹھ کر کاروباری روابط کو وسعت دینے اوردوطرفہ معاشی انحصار بڑھانے جیسے اقدامات کرنے ہوں گے۔ محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman نے حالیہ برسوں میں جہاں داخلی معاملات میں سخت گیری سے کام لیا وہاں کئی ایک اصلاحات بھی متعارف کرائیں۔قبائلی روایات کی جکڑ بندیوں اور ملائیت کے اشتراک نے سعودی شہریوں کی آزادیوں پر ناروا پابندیاں عائد کررکھی تھیں۔محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman نے بند معاشرے کو بڑی حد تک کھولا ۔ شہریوں کو سماجی آزادی دی ۔قدامت پسندی اور روایتی نظام پر اڑنے کے بجائے انہوں نے اصلاح احوال کی طرح ڈالی۔تفریح کے مواقعوں میں وسعت پیدا کی۔ اسلام اور سعودی عرب Saudi Arabia کا مثبت اور، تعمیری چہرہ دکھانے کے علاوہ ، بقائے باہمی اور تکثیریت کے اصولوں کو رواج دینے کی کوشش کی۔ ان اقدامات نے دنیا میں سعودی عر ب کے مثبت امیج کو ابھارا۔ محمدبن سلمان سعودی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی بھی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اگلے ایک ڈیڑھ عشرے میں پٹرول کی قیمت میں غیر معمولی کمی واقع ہونے کا امکان ہے۔ سائنسی ایجادات کی بدولت ٹرانسپورٹ کا لگ بھگ پورا نظام بیڑی پر منتقل ہونے جارہاہے۔ کہاجاتاہے کہ اگلے کچھ برسوں سے تمام بڑی کمپنیاں پٹرول پر چلنے والی گاڑیاں بنانا بند کردیں گی۔اس پس منظر میں سعودی عرب Saudi Arabia بھی معیشت کو جدید خطوط پر ڈھالنے کے لیے تیزی سے اقدامات کررہاہے۔ سیاحت، سائنس، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے فائدہ اٹھانے کے لیے خطیر رقم خرچ کی جارہی ہے۔غیر ملکی محنت کشوں پر انحصار کم کیا جارہاہے۔ سعودی شہریوں کو ہر شعبہ زندگی میں ذمہ داریاں سونپی جارہی ہیں۔ عورتوں کو روزگار فراہم کرکے معیشت کا فعال حصہ بنانے کے ٹھوس اقدامات کیے جارہے ہیں۔ محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman ابھی محض تنتیس برس کے ہیں لیکن کاروبار سلطنت چلارہے ہیں۔ ان کے والد شاہ سلمان بن عبدالعزیز روزمرہ کے امور میںدخل نہیں دیتے۔ اگرچہ انہیں شاہی خاندان کے اندر کئی ایک طاقت ور حریفوں کا سامنا ہے۔اس کے باوجود یہ کہاجاسکتاہے کہ اگلے کئی عشروں تک وہ سعودی عرب Saudi Arabia کے حکمران رہیں گے۔اگر حالات معمول کے مطابق رہے تو ان کا شما ر بھی طویل عرصے تک حکمران رہنے والی شخصیت میں ہوسکتاہے۔ اس پس منظر میں پاکستان Pakistan کے محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman کے ساتھ سرکاری سطح پر تعلقات بہت اہمیت کے حامل ہیں۔دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعاون اور شراکت داری کی ایک طویل تاریخ ہے۔ پاکستان Pakistan نے سعودی عرب Saudi Arabia کی فوج کو تربیت دینے اور منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے بھی حکومت اور افواج پاکستان Pakistan کے سربراہوں نے ہمیشہ غیر متزلزل عزم کا اظہار کیا ہے۔ان تعلقات میں وقت کے ساتھ وسعت آئی ہے۔دونوں ممالک کی افواج اور خفیہ اداروں میں پائی جانے والی شراکت داری خطے کے استحکام کے لیے ایک اثاثہ ہے۔ محمد بن سلمان Muhammad Bin Suleman کے دورے سے پاکستان Pakistan میں براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کے امکانات روشن ہوجائیں گے۔غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا۔ غالباًاسی پس منظر میںحکومت نے دنیا کے ایک پچاس ممالک کے لیے ای ویزہ کی سہولت کا اعلان کیا ہے۔ اسلام آباد Islamabad ، لاہور اور کراچی کے علاوہ غیر ملکیوں کو کہیں آنے جانے کی اجازت نہ تھی۔ اب اس پابندی کے خاتمے کی منادی کرادی گئی ہے۔ نوکر شاہی نے ان اصلاحات پر ان کی روح کے مطابق عمل ہونے دیا اور سیاستدانوں کی باہمی چپقلش میں کچھ کمی آئی تو اگلے چند برسوں میں پاکستان Pakistan ایک بدلا ہوا ملک ہوگا ۔ انشا اللہ۔

 162