پاکستان Pakistan کی خراب معاشی صورتحال!!

Hamza Meer

11 فروری 2019

پاکستان  کی خراب معاشی صورتحال!!

پاکستان Pakistan کی خراب معاشی صورتحال!!

کالم نگار:: حمزہ میر!!

!!کسی بھی ملک کے بارے میں جاننا ہو تو سب سے پہلے دو چیزیں دیکھنی چاہیے پہلی ملک کی سیکورٹی صورتحال اور دوسری چیز اس ملک کی معاشی صورتحال دیکھنی چاہیے پاکستان Pakistan کی سیکورٹی صورت حال مستحقم ہے پاک فوج,خفیہ ایجنسیوں، پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں نے ایسا ڈنڈا پھیرا ہے کہ طالبان سمیت دیگر قوتیں جو ملک پاکستان Pakistan کے خلاف سرگرم تھیں اور پاکستان Pakistan کو تباہ کرنا چاہتی تھیں دم دبا کر بھاگ گئے ہیں سیکورٹی اداروں نے ایسا ڈنڈا پھیرا کۓ بزدل قوتیں بھاگ گیں اس سے ملک پاکستان Pakistan کو شدید معاشی نقصان ہوا لوگوں کے کاروبار بند ہو گئے افغانستان Afghanistan کو بارڈر بند کرنا پڑا جس کی وجہ سے کاروبار شدید طریقے سے متاثر ہوئے اسی وجہ سےبےروزگاری میں اضافہ ہوا- جب ہم اپنے پاکستان Pakistan کی معاشی صورت دیکھتے ہیں تو دل خون کے آنسوں روتا ہے معشیت کا تو بیڑا غرق ہو گیا ہے پاکستان Pakistan میں مہنگای کا طوفان برپا ہے ہر چیز آسمان کو چھو رہی ہے اور حکمران خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں اور بابو افسر بھی مزے سے عیاشی کر رہے ہیں اور غیرملکی زرمبادلہ جو سال 2016 میں 23,038.7 ملین امریکی ڈالر تھے جو 2017 کے آخر میں مزید کم ہو گے اور صرف 14000 ملین ڈالر تک رہ گۓ اور حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی اور اگست میں 10 ہزار ملین ڈالر رہ گۓ لیكن ستمبر 2018 میں صرف 9036 ملین ڈالر رہ گے ہیں اور بھارت India جو کہ ہمارا ہمسایہ ہے اس کے غیرملکی زرمبادلہ 401,790 میلن ڈالر ہیں اور وہ دنیا میں 8 ویں نمبر پر ہے اور ہمارے ملک پاکستان Pakistan کا نمبر 76 واں ہیں ہمارا ملک نیپال سے بھی پیچھے ہے- ہمارا GDPریٹ اس وقت 28.5 ہے اور غیر ملکی رپوٹس کے مطابق ہمارا GDP اس سال کے آخر تک 4٪ پر پہنچ جائے گا جب کہ ہم سے ہی آزادی پانے والا ملک بنگلادیش ترقی کی طرف گامزن ہے اس کا ریٹ 7.8 ہے بھارت India بھی بنگلادیش سے پھیچے ہے-

اب تو صرف اللّه کی ذات ہی ہے جو ہمارے پر رحم کرے مگر ایک راستہ ہے جس سے ہم اپنے سارے قرضے اتار سکتے ہیں، لیكن پہلے یہ بتاتا چلوں کہ ہمارے خزانے اور معاشی صورت حال کو ایسے کس نے بنایا ہے ہمارے سرکاری بابو یعنی گریڈ 20, 21 کے افسر ہیں جو پالیسی بناتے ہیں اور کھانے کے طریقے بھی ایک بار سرکاری بابوں کا احتساب ہونا چاہیے تا کے آگے سے کوئی کچھ کر نا سکے اور احد چیمہ فواد حسسن فواد،گوندل، اور ان جیسے دیگر مگرمچھوں کو نشان عبرت بنانا چاہیے تا کے آئندہ کوئی میرے گلشن سے پھول ٹورنے کی کوشش نا کر سکے اور کسی کو جرت بھی نہ ہو ایسے غلیظ کام کرنے کی اور ملک کے چراغ کی روشنی ختم کرنے کی- معملا ایسے ہے کہ کیسے حالات ٹھیک ہوں تو اس کا حل موجود ہے جن لوگوں نے ملک کے پیسے لوٹے ہیں ان سے واپس لیۓ جایں سعودی حکومت جیسا کام کرنا چاہیے ان کو ایک بلڈنگ میں بند کر دینا چاہیے جب تک یہ لوگ پیسے نہ دیں ان کو چھوڑیں مت اس سے حساب لیں۔ لیكن ہماری قوم بہت زیاده بگڑی ہوی ہے یہاں چین China جیسا کام کرنا چاہیے لائن میں سب کو کھڑا کر دینا چاہیے اور ہر ایک سے چیک پر سائن کرواے جایں اور گولی سے غیلظ لوگوں کو مار دینا چاہیے اگر بڑھے بڑھے سیاستدان لوگوں سے اور بابو افسروں سے پیسے لے لیۓ جایں تو شاید نا صرف ہمارے قرضے ختم ہو جایں گے بلکے زرمبادلہ میں بھی اضافہ ہو گا اور ملک خوش حال ہو گا اور پروجیکٹ لگے گیں لوگوں کو روزگار ملے گا جس سے ملک خوشحالی کی طرف گامزن ہو جاے گا- لیكن اس کے لیۓ قوم کو ساتھ دینا ہو گا اور نشان دہی کرنی پڑھے گی ایسے لوگوں کی جو قوم کا مال لوٹ لیتے ہیں اور بڑھے بڑھے کرپشن کیسز میں ملوث لوگوں کو کرپشن ثابت ہونے پر پیسے واپس لینے کے بعد ڈی چوک پر الٹا لٹکا دینا چاہیے تا کے دوسروں کو نصیحت ہو کہ اگر ملک سے دھوکہ کریں گے تو یہ انجام ہو گا اس کے علاوہ کوی دوسرا طریکا نہیں کرپشن ختم کرنے کا ویسے کرپشن میں کمی واقع هوئ ہے پہلے پاکستان Pakistan 2010 میں 143 نمبر پر تھا 2016 میں 116 پر تھا لیكن 2017 میں ملک میں کرپشن میں اضافہ ہوا اور یہ نمبر117 پر آ گیا اور ماجوده نمبر 114 ہے یعنی امید باقی ہے مگر قوم کا ایک ہونا ضروری ہے-

 113