ملالہ‘ تعلیمی میدان میں تبدیلی کا پیش خیمہ

malala' taleemi maidan mein tabdeeli ka paish khaima

کم عمر ترین نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کی زندگی پر مبنی فلم کی نمائش لندن میں ہوئی‘ جس میں ملالہ یوسفزئی اور ان کی فیملی سمیت دنیا بھر کی 400 سے زائد معروف شخصیات نے شرکت کی ۔ فلم کی نمائش میرے خصوصی پیغام سے شروع ہوئی جس میں راقم الحروف نے کہا کہ ملالہ یوسفزئی کرپشن اور مکروفریب سے پاک سیاست کو فروغ دینے کا عزم رکھتی ہیں اور وہ قائداعظم محمد علی جناح کی صاف اور بے داغ سیاست کی نوید جاں فزا ثابت ہوں گی۔ ملالہ یوسفزئی وادیٔ سوات کی ایسی پرعزم بیٹی ہے‘ جو مشکل ترین حالات میں بھی ہمت و حوصلے کا پیکر بنی رہی‘ جب یہ خوبصورت وادی انتہا پسندوں کے ہاتھوں لہو لہو تھی۔پاکستان ( Pakistan )کی خواہش ہے کہ ملالہ یوسفزئی امن و تعلیم کے چراغوں کی لو بڑھاتی رہے اور ان کی روشنی بڑھتی رہے۔ ملالہ چمکتا ہوا ستارہ اور جرأت کی علامت ہے ‘جو خواتین کے حقوق کی جنگ لڑنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ میں نے نیشنل ڈیموکریٹک فائونڈیشن کی جانب سے ملالہ یوسفزئی‘ معروف ہدایت کار امجد خان ‘سنجے سنگلا اور فلم کے معاون پروڈیوسر اور بین الاقوامی شہرت کے حامل اینکر صحافی شاہد خان کو گولڈ میڈل پیش کئے۔ فلم کے دیگر اداکاروں کو بھی میرے ہاتھوں ایوارڈ تقسیم کرائے گئے۔ ملالہ یوسفزئی پر فلمائی گئی دستاویزی فلم گل مکئی کے پریمیئر میں گلوبل ورلڈ کے سفارت کار‘ اقوام متحدہ کے نمائندے‘ دولت مشترکہ کے وفد کے علاوہ امریکہ ( United States )‘ ہالینڈ اور افریقہ ( Africa ) کے کئی ممالک کے اعلیٰ سطح کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ پاکستان ( Pakistan )سے مجھے‘ سابق سینیٹر انور بیگ ‘ امتیاز گل اور قیصر رفیق کو امتیازی حیثیت سے شاہد خان نے ملالہ یوسفزئی کی مشاورت سے مدعو کیا اور مجھے چیف گیسٹ کا اعزاز دیتے ہوئے مجھ سے فلم کی ڈائریکٹر اور دیگر اہم شخصیات کو ایوارڈ تقسیم کرائے گئے۔ ملالہ یوسفزئی کی فلم کی نمائش کے موقع پر بھارت‘ امریکہ ( United States )‘ کینیڈا اور یورپ سے تعلق رکھنے والے مندوبین نے مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم عمران خان ( Imran Khan )ایشیا کی مقبول ترین شخصیت ہیں اور ان سے توقع کی جا رہی ہے کہ ان کے دورِ حکومت میں بھارت ( India )اور پاکستان ( Pakistan )کے درمیان خوشگوار تعلقات کا نیا دور شروع ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان ( Imran Khan )کو مغرب میں بھی پذیرائی مل رہی ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ پاکستان ( Pakistan )کے حوالے سے 1960 ء کی دہائی کی طرز پر بین الاقوامی برادری میں اعتماد کی فضا بنے گی اور جنرل قمر جاوید باجوہ ( General Qamar Javeed Bajwa ) کی ڈاکٹرائن پر عملدرآمد سے خطے میں امن اور آشتی کی فضا پیدا ہو گی۔ وزیراعظم عمران خان ( Imran Khan )نے کرتار پور راہداری کھول کر بھارت ( India )میں اپنی مقبولیت کے جھنڈے گاڑ دیے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان ( Imran Khan )2018ء میں انڈیا میں سب سے زیادہ سرچ کی جانے والی شخصیات میں دسویں نمبر پر رہے۔

ملالہ یوسف زئی سوات میں بین الاقوامی طرز کی ایسی یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھنے کا عزم رکھتی ہیں جس سے فارغ التحصیل طالبات کے لیے دوسرے ممالک میں روزگار کے دروازے کھل جائیں گے۔ لندن میں قیام کے دوران مجھے ملالہ کے پرستاروں نے بتایا کہ ملالہ یوسفزئی سوات میں یونیورسٹی کے قیام کے بلیو پرنٹ پر کام کر رہی ہے ۔ بے شک ملالہ یوسفزئی کے ساتھ تعلق کی وجہ سے اس یونیورسٹی کی ڈگری کو بین الاقوامی سطح پر مسلمہ حیثیت حاصل ہوگی۔ ملالہ یوسفزئی نے 2013ء میں اقوام متحدہ کے اجلاس سے بھی خطاب کیا تھا‘ جہاں اس نے کہا کہ وہ ہر بچے کو اس کا بنیادی حق یعنی تعلیم دلانے کے لیے آواز اٹھائے گی۔ ملالہ ایک علامت ہے جدوجہد اور تعلیم کی‘ جس پر تمام دنیا کی تعلیم اور دیگر حقوق سے محروم عورتوں کو فخرہے ۔

نسلی اور لسانی بنیادوں پر صوبوں پردباؤ ڈالنے سے گریز کیا جانا چاہیے کیونکہ اس سے نہ صرف متعلقہ صوبے میں تلخی بڑھتی ہے بلکہ دیگر حصوں میں بھی اس تلخی کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں جس سے نئے مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔بعض حلقوں کو لگتا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں لوگوں کو وفاق اور قومی اداروں سے شکایتیں ہیں‘ مگر ایسی شکایتیں تو اور صوبوں میں بھی ہیں‘بہرکیف ہر شکایت کنندہ فرد‘ گروہ یا دھڑے سے ریاست کے ذمہ دار اداروں کو بات چیت کرنی چاہیے اور مسائل کے حل کے لیے سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ۔جمہوری نظام میں سیاسی جماعتوں کے درمیان اس طرح کے اختلافات سامنے آتے رہتے ہیں اور ایک متحرک سیاسی نظام میں سنجیدہ دانشور اور تجربہ کار قیادت کے اختلافات میں اتفاق کی کیفیات پیدا کر کے مسائل کے حل کرنے کی کوشش کرتا ہے‘ لیکن پختونوں کو استعمال کرنے کی کوشش کرنے والے شخص کی پشت پر بعض قدآور شخصیات کھڑی ہیں‘ جنہوں نے اسے آگے لگایا ہوا ہے یعنی اسے استعمال کر رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں‘ جہاں سیاسی روایات کمزور اور نا پختہ ہیں‘ معاملات کو اسی طرح التو ا میں ڈال کر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ توقع کی جاسکتی ہے کہ مستقبل میں کچھ عرصے تک اس معاملے میں خاموشی اختیار کی جائے گی اور اگر جنوبی پنجاب اور بہاولپور صوبے کا مطالبہ کرنے والوں کے درمیان اتفاق کی کوئی صورت پیدا نہ ہوئی تو عمران خان ( Imran Khan )کی حکومت وفاق میں اپنی مقبولیت سے محروم ہو جائے گی‘ کیونکہ جنوبی پنجاب کے صوبے کے مطالبے کے پس پشت کچھ تہذیبی عوامل کارفرما ہیں اور بہت سے سیاسی۔ اس لئے یہ خیال کرنا سادگی ہوگی کہ یہ معاملہ حکومت مؤخر کردے گئی‘ کیونکہ بجٹ اجلاس کے بعد جنوبی پنجاب کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی زیادہ قوت کے ساتھ آواز بلند کریں گے اور حکومت کے لیے اس مطالبے سے صرفِ نظر کرنا آسان نہ ہو گا۔

ملک میں صوبے کی تحریک سے ایک نیا پنڈورا باکس کھل جائے گا جس کے بہت گہرے سیاسی مضمرات ہوں گے‘ جن کے اثرات پنجاب کے علاوہ دیگر صوبوں تک بھی محسوس کئے جائیں گے کیونکہ جنوبی پنجاب صوبے کے مطالبے کی طرح ملک کے دیگر حصوں میں بھی اسی قسم کے رجحانات موجود ہیں‘ لہٰذا اگر پنجاب میں سیاسی اور لسانی اندازِ فکر کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک نئے صوبے کے مطالبے کی تحریک اسمبلی میں منظور ہوجاتی ہے تو اسی بنیاد پر ایک درجن سے زائد نئے صوبوں کے قیام کے مطالبات سر اُٹھائے کھڑے ہوںگے اور ملک میں لسانی کشیدگی کے خطرات کو ہوا ملنے کا اندیشہ محسوس کیا جانے لگے گا‘ تاہم حکومت میں ایسے جھٹکے برداشت کرنے کی سکت نہیں کیونکہ عمران خان ( Imran Khan )صاحب بہت ہی معمولی اکثریت سے حکومت کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں صوبوں کی تعداد میں اضافے سے نسلی‘ لسانی اور سیاسی تعلقات کے خطرات کا سدباب از خود ہو جائے گا‘ ایک صحت مند ماحول میں فیڈریشن مضبوط ہو گی اورملک کی معیشت مضبوط ہونے سے نفرتوں کا خطرہ محدود ہوجائے گا۔اس سے بین الاقوامی سازشیںجو غیر ملکی این جی اوز کے ذریعے نشوونما پاتی ہیں‘ خود بخود ختم ہو جائیں گی اور قوم پرستی و علیحدگی پسندی کے جذبات بھی دم توڑ جائیں گے۔

ہمارے حساس اداروں کو 1953ء میں مشرق وسطیٰ میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر کرمٹ روز ویلٹ کی کتاب کا بغور مطالعہ کرنا چاہئے‘ جس میں اس نے ڈاکٹر مصدق کے خلاف کامیاب ہنگامہ کرانے کا ذکر کیا ہے‘ جو اس سے چند دن پیشتر پہلے حقیقی ریفرنڈم میں 99.33 فیصد ووٹ حاصل کر چکے تھے۔ڈاکٹر مصدق کے خلاف جلوس میں جو لوگ نعرے لگاتے تھے انہیں دس ریال یومیہ کے حساب سے اجرت ملتی تھی۔ کرمٹ کی کتاب پڑھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مارچ 1977ء میں وزیر اعظم ( Prime Minister ) ذو الفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک کے غریب شرکا کو یومیہ رقوم کتنی ملتی ہو گی۔ اس کے ذرائع کے بارے میں وزیر اعظم ( Prime Minister ) بھٹو نے 1977میں قومی اسمبلی کے پہلے اجلاس میں آگاہ کر د یاتھا۔ اسی طرح اب خیبر پختونخوامیں بنیادی حقوق کے نام پر کچھ لوگ شور شرابہ کر رہے ہیں‘مگر اس ''تحریک‘‘ کی منی ٹریل کی کھوج لگانے کیلئے کرمٹ روز ویلٹ کی کتاب سے استفادہ کرنا چاہیے۔کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی تحریک کے پس پردہ عزائم یہی تھے کہ پرویز مشرف کو سبکدوش کروایا جائے‘ حالانکہ افتخار چوہدری اپنی معزولی سے پیشتر عوام میں ہرگز مقبول نہ تھے اور وہ اس بینچ کا حصہ تھے جس نے فیصلہ دیا تھا کہ صدر پرویز مشرف وردی میں صدارتی انتخاب لڑ سکتے ہیں اور ان پر آئین کا آرٹیکل 62-63لاگو نہیں ہوتا۔

 55