پولیس، جج اور جھوٹے گواہ

وکالت نامہ - بابر اعوان

11 فروری 2019

police, judge aur jhutay gawah

تبدیلی آ نہیں رہی بلکہ تبدیلی آ گئی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان ( Pakistan )جسٹس آصف سعید خان کھوسہ صاحب، جسٹس مقبول باقر صاحب اور جسٹس سید منصور علی شاہ صاحب نے 70 سال میں پہلا جھوٹا گواہ عدالتِ عظمیٰ میں طلب کر لیا۔

مجھے یہ طلبی سال 2012 میں واپس لے گئی۔ مقام ہے، F8/2 اسلام آباد۔ میرے گھر کا سٹڈی روم۔ میز کی دوسری جانب ملک کے ایک محترم بزنس مین تشریف فرما ہیں۔ ساتھ 1 پنجابی اور 3 سندھی وزیروں کا جتھہ ہے۔ ایک کے ہاتھ میں میرا بیانِ حلفی ہے۔ پہلے سے ٹائپ شدہ۔ جس کا اشٹام پیپر (Non Judicial Paper) بھی کسی اور نے میری جگہ ایڈوانس خرید رکھا ہے۔ بیانِ حلفی میرے سامنے رکھا گیا‘ جس کے ٹائٹل پر لکھا تھا: روبرو سپریم کورٹ آف پاکستان، اسلام آباد۔ ساتھ مقدمے کا عنوان بھی درج تھا۔ جو خواتین و حضرات اس کیس کی تفصیل پڑھنا چاہیں، وہ پی ایل ڈی سپریم کورٹ، سال 2012 صفحہ نمبر553 ملاحظہ فرما لیں۔

گاجر اور سوٹا دونو ں آزمائے گئے۔ اس بر حلف بیان کا ایک پیراگرف یہ تھا ''وفاقی وزیرِ قانون کی حیثیت سے میں نے وزیر اعظم ( Prime Minister ) کو سپریم کورٹ کے حکم کے بارے میں کبھی نہیں بتایا۔ نہ ہی میری اس موضوع پر کبھی پرائم منسٹر ( Prime Minister ) سے کوئی بات ہوئی‘‘۔ میرے انکار نے مجھ پر حملہ آوروں کا فلڈ گیٹ کھول دیا۔ باقی تاریخ ہے‘ جس پر پھر کبھی بات ہو گی۔

کہنا یہ چاہ رہا ہوں‘ لوگ جھوٹا بیانِ حلفی خریدنے‘ ٹائپ کرنے اور جھوٹے حلف سمیت جھوٹ‘ خواہ سپریم کورٹ ہی کیوں نہ ہو‘ اسے وہاں استعمال کرنے کے لیے کیسے کیسے پاپڑ بیلتے ہیں۔ ایسے سماج میں جہاں جھوٹ رواج نہیں‘ بلکہ منافع بخش کاروبار بن جائے‘ وہاں فوجداری نظامِ عدل سے اس کینسر کا صفایا لازم ہے۔ صرف تقابلی مطالعے کیلئے عرض ہے، مہذب ملکوں میں جھوٹ بول کر سزا سے نہیں بچا جا سکتا۔ حال ہی میں اپنے ہاں قوم نے جھوٹ کی آتش بازی کا مسلسل مظاہرہ دیکھا۔ ایک عدالت میں ایک بیان، دوسری میں اس سے انکار۔ پارلیمانی فلور پر کچھ اور۔ ٹی وی پر اس سے فرار۔ میں سپریم کورٹ کے بینچ نمبر ایک کے تازہ فیصلے کو 'بڑی دیر کی مہرباں آتے آتے‘ نہیں کہتا۔ یہ اچھی قانونی نظیر ہے۔ ملک میں پہلے سے موجود جھوٹ بولنے پر سزا دینے کے قوانین پہ عمل درآمد کا آغاز تو ہوا۔ آئیے جھوٹی گواہی دینے‘ جھوٹا حلف اُٹھانے، جھوٹا بیان داخل کرنے‘ جھوٹ بول کر ملزم کو بچانے‘ اور جھوٹ بول کر بے گناہ کو پھنسانے کے خلاف تادیبی قوانین کا جائزہ لیں۔ہماری پارلیمانی کارکردگی کی تاریخ کیلئے باعثِ شرمندگی کہہ لیں‘ مگر یہ سچ ہے کہ جھوٹ اور جھوٹوں پر قانونی گرفت کے سارے قوانین لارڈ میکالے اور برٹش راج میں تشکیل پائے اور نافذ بھی ہوئے۔ جس کی مثالیں یہ ہیں:

پہلا قانون‘ پاکستان ( Pakistan )پینل کوڈ ہے‘ مجریہ سال 1860۔ یہ برٹش راج میں رائج ہوا۔ اس کے باب 11 میں سیکشن 193 سے دفعہ 214 تک‘ غلط گواہی دینے یا سچی شہادت چھپانے کے پاداش میں سزائیں متعین ہیں۔ یہ سزائیں دینے کا اختیار ٹرائل کورٹ کے پاس ہے‘ لیکن شاید ہی کسی فوجداری عدالت نے کبھی اس اختیار کو استعمال کیا ہو۔

دوسرا قانون ہے‘ کریمنل پروسیجر کوڈ مجریہ 1898، جس کے حصہ نمبر6، باب 15 میں فوجداری عدالتوں کے مختلف اختیارات درج ہیں۔ ان میں سے سیکشن 195(B)(C) آج کے وکالت نامے کے سرنامے پر پوری اُترتی ہے۔ اس کوڈ کی دوسری سیکشن 476 ہے‘ اور باب نمبر 35 کی منشا کے مطابق جرائم کی سزا کا طریقہ کار واضح کرتی ہے‘ جو کسی نہ کسی حوالے سے انصاف رسانی پر اثرانداز ہوتے ہوں۔ یہ عدالت کو اختیار دیتی ہے کہ وہ ملزم کو سزا دے۔

تیسرا قانون ہے‘ اینٹی ٹیررازم ایکٹ مجریہ 1997‘ جس کی دفعہ 27 کے تحت اگر ٹرائل کورٹ اس نتیجے پہ پہنچے کہ تفتیشی افسر یا کوئی دوسرا ذمہ دار افسر مقدمے کی تفتیش خوش اسلوبی سے طے کرنے یا پھر مقدمے کی مناسب پیروی نہ کرنے‘ اپنا فرض نہ نبھانے کا ذمہ دار ٹھہرے‘ تو اس صورت میں ایسے نااہل اور جھوٹے تفتیشی افسر/گواہ کو 2 سال قید کی سزا‘ جرمانہ یا پھر دونوں سزائیں ایک ساتھ دینے کا اختیار سمری پروسیجر کے طور پر رکھتی ہے۔

چوتھا قانون ہے نیشنل اکائونٹ ابیلٹی آرڈیننس مجریہ 1999‘ جس کی سیکشن 30 جھوٹی شہادت دینے پر ٹرائل کورٹ کو اختیار دیتی ہے کہ وہ مقدمے کے فیصلے کے بعد کسی بھی وقت اور اگر فیصلے کیخلاف اپیل دائر ہو تو اپیل کا فیصلہ آنے کے بعد‘ یا پھر مدعی یا ملزم کی درخواست پر فیصلہ آنے کے بعد 30 دن کے اندر جھوٹے گواہ یا تفتیشی کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر ے۔ یہاں پاکستان ( Pakistan )پینل کوڈ کی دفعات 176 تا 182 یا 191 تا 204 یا 211 تا 223، یا 225-A لاگو ہیں۔ ٹرائل کورٹ جرم کی مطابقت سے جھوٹ کے مجرم کو فوجداری سزا دینے کا اختیار رکھتی ہے۔

پانچواں قانون ہے‘ کوڈ آف سِول پروسیجر1908‘ جس کی دفعہ 35-A جھوٹا کلیم یا دعویٰ دائر کرنے پر سول ٹرائل کورٹ کو اختیار دیتی ہے کہ وہ مقدمے کے فیصلے پر جھوٹا کلیم یا فضول قسم کا دفاع یا دعویٰ کرنے والی پارٹی کے خلاف ہرجانہ بصورت (Cost And Special Cost) لاگو کر دے۔

مغربی ملکوں میں مقدمے کے اخراجات‘ جھوٹی گواہی، وکلا کی فیسیں‘ سرکاری خرچے، کاغذات اور دستاویزات کی تیاری کا خرچ‘ کیس ہارنے والے فریق پر ڈالا جاتا ہے۔ ایک دلچسپ بات اپنے ہاں قابلِ پیروی ہے۔ ٹریفک، پرسنل انجری اور فیملی، کسٹڈی سمیت کئی طرح کے کیسز سُننے کے لیے ریٹائرڈ ججز کو کیس ٹو کیس ہائر کیا جاتا ہے۔ جج کی تنخواہ ہرجانے اور جرمانے سے نکلتی ہے۔

اپنے ہاں تو سابق ججوں کا موج میلہ لذتّ اور توانائی سے بھرپور ہے۔ گورننس کا کون سا شعبہ ہے جہاں ریٹائرڈ جج انتہائی معقول پینشن کے بعد بھی اگلی نوکری پر ہاتھ صاف نہیں کرتے۔ ان میں آن والے لوگ بعد از ریٹائرمنٹ پینشن پر اکتفا کر لیتے ہیں‘ لیکن شان کے دلدادہ کئی تنخواہیں، بہت ساری پینشن، ڈبل ٹرپل پروٹوکول سمیت تادمِ مرگ غیرسرکاری خرچ پر زندگی نہ گزارنے کا حلف نبھاتے رہتے ہیں۔ ایک مرحوم چیف جسٹس آف پاکستان ( Pakistan )نے اسیِ لذتِ آشنائی کے زیرِ اثر آئی سی یو میں گورنری کا حلف لیا‘ اور سرکاری خرچ پر دفنائے جانے کا اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

فرض کاری، فورجری اور جھوٹ کا بزنس 3 سطح پر قابلِ گرفت ہے۔ اس کا پہلا ذمہ دار محکمہ پولیس ہے‘ جس کے اندر سچ پروموٹ کرنے، جھوٹے مقدمات گھڑنے‘ جھوٹی گواہیاں تیار کرنے اور جھوٹ کے نظام کی سرپرستی کے خلاف آپریشن کلین اَپ کی فوری ضرورت ہے۔ پولیس میں تاریخی اصلاحات اور اخلاقی تبدیلیاں لانے کی ذمہ دار کمیٹی ایک طرف۔ ملک بھر کے 7 آئی جی پولیس آج ہی غلط ایف آئی آر کی سزا‘ سچ چھپانے کی سزا‘ جھوٹی گواہی گھڑنے کی سزا‘ ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے رائج کر سکتے ہیں۔ کل سے ان سزائوں پر عمل درآمد شروع ہو جائے تو پَرسُوں سے فوجداری نظام میں جھوٹ کی سٹاک ایکسچینج کا دیوالیہ نکل جائے گا۔ ایسا ہی نوٹیفکیشن ملک کی پانچوں ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان جاری کر دیں‘ صرف اس قدر تبدیلی کے ساتھ کہ جونہی فوجداری کیس کا فیصلہ ہو‘ تھرڈ کلاس، سیکنڈ کلاس، فرسٹ کلاس جوڈیشل مجسٹریٹ، ایگزیکٹیو مجسٹریٹ، اسسٹنٹ ایڈیشنل سیشن جج، ضلع کے سیشن جج‘ بشمول ہائی کورٹس اپیلٹ بینچ کے جج صاحبان جھوٹا کیس بنانے والے تفتیشی‘ کچہری کے سٹاک وِٹنس اور فرض کاروں کو سزا دینا شروع کریں۔ انصاف اور بے انصافی کا فرق صاف ظاہر ہو جائے گا۔

جدیدیت پر مبنی سماج کا تجربہ سب کو دعوتِ فکر دے رہا ہے۔ بات سادہ سی ہے کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ ادارہ ہو یا ریاست بدلنے کی خواہش (Will For Change) دنیا بدل دینے کا عزّم‘ اس کی کامیابی کا پہلا اور آخری زینہ ہے۔

نظامِ انصاف سے وابستہ کوئی شعبہ روٹین کی نوکری نہیں۔ آدمی قتل ہو جائے۔ بے گناہ انسان پھانسی چڑھ جائے۔ کسی کی عمر بھر کی کمائی لُٹ جائے۔ ایسے میں ظلم کے سرپرست اور ظالموں کے سہولت کار سفید پوش ہوں یا سیاہ پوش 100 فیصد عدل کریں اور 200 فیصد عدل سے ڈریں۔ اس جہان میں تاریخ، پیشیاں ہوتی ہیں۔ سچے فیصلے سچا منصِف کرے گا۔ ہاتھ پائوں سچی گواہی دیں گے۔

عدل کریں تاں تھر تھر کمبنڑ اُچّیاں شاناں والے!!!

 170