جتنے عجیب کھانے اتنے ہی عجیب پکانے

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

08 فروری 2019

jitne ajeeb khanay itnay hi ajeeb pakanay

وطن عزیز میں گوشت کھانے کے معاملے میں کچھ انتہائی حد تک شوقین لوگ پائے جاتے ہیں۔۔ یہ لوگ جانور کا صرف مسلز والا گوشت کھانے کے قائل ہی نہیں ہوتے۔اور سر سے کر پاوں تک سارا جانور کھا جاتے ہیں ۔۔ٹھیک ہے کھاتے ہیں ان کو پسند ہیں۔۔لیکن یار گردے 'پھپھرے،پنجے ، زبان اور اس سے بھی گئی گزری چیز کھانے کی کیا تک بنتی ہے؟؟ دل نہیں دہلتا آپ لوگوں کا ؟؟ جب کسی کو بتانا پڑے کہ آج پھپڑے پکے ہیں یا گردے ۔

مجھے چند سال پہلے تک تو علم ہی نہیں تھا کہ گردے پھیپڑے بھی کھائے جاتے ہیں۔ابو کے ایک بہت اچھے دوست قریب میں گھر تھا ان کا ۔ایک بار ابو کو دعوت دی کہ آج کھانا میرے گھر کھاو۔۔ان کے خلوص کو ٹھکرانا مناسب نا سمجھا اور ہم شام کو ان کی دعوت کھانے پہنچ گئے۔۔دستر خوان سیٹ تھا ہمارا ہی انتظار تھا۔ہم نے کھانے کا آغاز کیا۔سالن پلیٹ میں ڈالا اور کھانے کے لیے پہلا نوالہ منہ میں ڈالا۔۔عجیب سا ٹیسٹ ۔ہم نے گوشت سمجھا لیکن سمجھ نا آرہی تھی کہ یہ کیا چیز ہے۔ہم باپ بیٹی تکلف میں پوچھ بھی نا سکتے تھے کہ کیا سمجھے گیں ہم جاہل ہیں اور کیا پتہ "ہرن " پکا ہو یا "تلور" سو اسی خوش فہمی کے ساتھ چپ چاپ کھا رہے اور ہم پر قیامت یوں ٹوٹی ۔ کہ انکل نے ایک دم بیوی کو آواز لگائی "بیگم سالن ختم ہوگیا ۔مزید "گردے اور پھپڑے لے آو" یہ سننے کی دیر تھی میں نے بدحواس ہوکر نوالہ منہ سے نکال کر پھینکا اور ابو کو ابکائی آتے آتے بچی۔۔انکل کو غصے سے دیکھ کر بولے"الو کے پٹھے آدم خور کس کے گردے نکال لائے ہو؟؟"

انکل ہنستے ہوے بولے "یار بھینس کے ہونگیں یا گاے کے آپ کھاو تو سہی کمال کی چیز ہے"

" پوری بھینس پر چڑھا گوشت کم پڑتا ہے تم کو نامراد گردے کھانے کی کیا مصیبت آن پڑی تھی "

ابو نے پھر سے سنا دیں اور انکل ہنس ہنس کر دہرے ہوتے رہے۔۔

" مجھے کوئی اور سالن لا دو یہ نعمت خود کھاو تم "۔۔

اس دن کے بعد آج تک وہ انکل دعوت دیں تو ابو پہلے تسلی کرواتے ہیں کہ اگر جانور کے گوشت کے علاوہ کوئی اور اعضاء پکانے ہیں تو میرا جواب سمجھو۔

کچھ لوگوں کو اوجھڑی بہت پسند ہوتی ہے۔۔خود اپنے ہاتھوں سے اس کی غلاظت دھو کر مزے سے پکائے گیں اور کھا جائے گیں۔۔زبان ۔۔۔!اب بھلا زبان بھی کھانے کی چیز ہے۔۔؟؟شوہر موصوف ایک بار کسی ہوٹل سے لے آئے۔ میں نے برتنوں میں ڈال لیا کھانا شروع کیا پوچھ بیٹھی "یہ کس جانور کا گوشت ہے لجلجہ سا ہے"

سکون سےگویا ہوے" زبان ہےاس لیے لجلجی تو ہوگی"

میرا تو دماغ گویا بھک سے اڑ گیا " کس کی زبان ہے؟؟"

"کیا پتہ بھینس یا گائے" شوہر نا ہوتے تو انکی ٹانگیں توڑنے کا دل تھا لیکن مجبورا۔۔سخت سے تاثرات اور پھٹ پڑی" چکن گوشت سب ختم ہوگیا تھا جو زبان اٹھا لائے ۔۔یہ کوئی طریقہ ہے ؟؟ حد ہے اب میں زبان کھاوں؟؟ یہ کوئی کھانے کی چیز ہے بھلا ؟؟"

ان کے چہرے پر زرا بھی پریشانی کے آثار نا آئے آرام سے کھاتے رہے ۔مجھے مزید تاو چڑھا اور آخری وارکیا"خوامخواہ پیسے بھر کر لے آئے ہو اپنے کسی رشتے دار کی کاٹ لاتے میں آپ کو پکا دیتی "

بدمزگی سے مجھے دیکھنے لگے"دماغ نا کھاو جا کر کچھ اور کھا لو"

"جی ہاں میں کچھ اور ہی کھاونگی مجھ سے یہ دہشت گردی ہوگی بھی نہیں۔"یہ کہہ کر میں باہر نکل گئی۔۔

سجی کی ریڑھیاں اکثر آپ بھی ملاحضہ کرتے ہونگیں ۔۔جہاں کچھ مرغیوں کی لاشیں نیزوں میں پروئی قطار میں کھڑی ہوتی ہیں۔۔ یار یہ بربریت کس نے سیکھی ۔۔؟ مجھے تو ہولو کاسٹ یاد آجاتا ہے ہٹلر انسانوں کے ساتھ ایسی ہی سفاکیت کرتا تھا ۔جیسی انہوں نے مرغیوں کے ساتھ کی ہوتی ہیں۔۔مان لیا بہت مزے دار ہوتی ہے سجی لیکن کوئی انڈر گراونڈ سسٹم کرلو نا ۔۔! یوں ان کو سرعام پھانسی لگانے کی کیا ضرورت؟؟ پنجے بڑے پسند ہیں ہر صورت مر کہ کھانے ہی ہیں تو چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر لو اور تناول فرما لو ۔۔ سالن میں یہ جانوروں کے ہاتھ تیرتے ہوئے دیکھ کر وحشت نہیں ہوتی ظالمو ؟"

بربریت سے چیزوں کو پکانے کے چند اور طریقہ یہ بھی ہیں۔۔

1۔کوئٹہ میں ایک ڈش بنتی ہے سالم بکرے یا دنبے کی کھال اتار کر اس کے پیٹ کو صاف کیا جاے گا اور پیٹ میں مصالحوں کو بھر کر پیٹ واپس سی دیا جاے گا ۔اور ایک انگاروں سے بھری قبر میں بھر دیں گیں۔۔میرے خیال میں پھر یہ اس کے ارد گرد وحشی رقص کرتے ہونگیں ۔خدا جانے کتنی دیر بعد اس جلی ہوئی لاش کو نکال کر پیٹ کھولتے ہیں اور مزے سے کھاتے ہیں۔۔حد ہے اور کیا کہیں۔۔ایک بھائی نے بتایا کہ عرب علاقوں میں تو اونٹ بھی اسی طریقے سے پکاے جاتے ۔۔اونٹ تو کافی بڑا ہوتا ہے شکر ہے پھر کےیہ علاقے ریتیلے ہوتے ہیں۔ورنہ تو سارے عرب علاقوں میں کھڈے ہی کھڈے ہوتے ۔

ایک پشتون علاقے کی دوست ہیں ۔ان سے میں نے ایک بار انکی مشہور ڈش پوچھی۔انھوں نے جو ۔۔ مشہور ڈش بتائی نام تھا "دم پخت" مجھے یہ نام ہی ایسا خودکش لگا کہ ریسیپی پوچھنے کی جرات نا ہوئی۔۔

پنجابی بھائی "پوے یا پاوے" نام کی کوئی ڈش بناتے ہیں جس میں جانور کا سر اور پاوں ڈال دیتے وہ ڈش ساری رات سری سے لڑتی رہتی ہے آخر کار صبح ایک ویران کھوپڑی اوپر تیر رہی ہوتی ہے ایک ایک دانت گن لو بے شک۔ اب پتہ نہیں اس خالی کھوپڑی کا مزید بھی کوئی استعمال ہوتا ہے یا اس کا کام ختم اس کا مجھے پتہ نہیں۔

اردو سپیکنگ بھی کسی سے پیچھے کیوں رہیں۔یہ "چکن منچورین" کے نام پر خون کی ہولی کھیلتے ہیں۔۔ اس سالن میں کیچپ کی مدد سے گاڑھا لال شوربہ بنایا جاتا ہے اور پھر چکن کے ٹکڑے ڈال دیے جاتے ہیں۔یوں محسوس ہوتا ہے خونی تالاب میں لاشیں تیر رہی ہیں۔

سندھ کےاور پنجاب کے صحرائی علاقوں میں بٹیر بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے۔۔بٹیر نے اپنی جان کا بوجھ بھی مشکل سے اٹھایا ہوتا ہے میں تو حیران ہوں ۔پتہ نہیں کس طرح اتنے سے پرندے کی کھال اتاری جاتی ہے؟؟کھال کے نیچے ہڈیوں سے بھرا بھوکا ننگا ڈھانچہ برآمد ہوگا ۔جس کو پکا کر یہ شوق سے کھائے گیں۔۔ٹھیک ہے مان لیا یہ بھی لذیذ ہوگا ۔۔اچھے طریقے سے پکایا جاے مصالحے جس چیز میں بھی ڈال دو کمال بن جاتی ہے۔ہم ساگ بھی تو ایسے ہی بنا کے کھاتے ہیں۔ لیکن خدارا بربریت سے نا کھائیں۔سارا جانور فرض نہیں کیا گیا کہ ہر صورت ختم کرو۔۔ کٹا کٹ کا بڑا نام سنا سوچا ریسیپی دیکھتے ہیں۔جیسے ہی انگریڈنٹس دیکھے بے ساختہ منہ سے نکلا" لا حول ولا قوت۔۔ اور کیا کہتی

 205