مومن کی فراست سے ڈرو

حرف راز - اوریا مقبول جان

08 فروری 2019

momin ki firasat se daro

یوں لگتا ہے علم و حکمت، فہم و فراست اور معاملہ فہمی اس شخص کی میراث ہو۔ جدید حالات و واقعات کا اسے مکمل ادراک اور جیسے عالمی منظر نامہ اس کی ہتھیلی پر درج ہو۔ قرون وسطیٰ کے مسلمانوں کے لباس عمامہ، شلوار قمیص میں ملبوس، چہرے پر وہ داڑھی جسے گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت کی علامت بنا کر پیش کیا گیا لیکن ماسکو کی اس میٹنگ میں اس کے مخاطب وہ لوگ تھے جنہیں اپنی عالمی امور کی ڈگریوں پر ناز تھا، جو سفارتی دنیا کے ’’مچھندر‘‘ سمجھے جاتے تھے اور آئین سازی اور جمہوریت جن کی مہارت تھی۔لیکن سترہ سال جہاد کے راستے پر گامزن یہ مرد مومن جب گویا ہوا تو ایک حیرت کا جہاں کھلنے لگا۔ طالبان سے مذاکرات کی میز ایک بار پھر ماسکو میں سجی تھی۔ اس دفعہ اور بھی کردار وہاں کھینچ کر لائے گئے تھے، سیاسیات کے ماہرین بھی اور سفارتکاری کے جغادری بھی۔ طالبان کے وفد کے سربراہ نے آدھا گھنٹہ گفتگو کی جو تقریبا پانچ صفحات پر مشتمل تھی۔ یوں لگتا تھا افغانستان Afghanistan اور علاقائی و عالمی معاملات پر کوئی اعلی سطح کا مدبر اور قوت ایمانی سے بھرپور مرد مجاہد بول رہا ہو۔ میں چند فقرے مشتے از خروارے پیش کر رہا ہوں، ورنہ پوری تقریر پر تبصرے اور تشریح کے لیے تو دفتر کے دفتر درکار ہیں۔ لہجے پر غور کریں۔ ’’اسلامی امارات افغانستان Afghanistan اللہ کی مدد اور نصرت اور اللہ پر ایمان رکھنے والی افغان قوم کے تعاون سے گزشتہ بیس سالوں سے قابض امریکہ United States اور اس کے اتحادیوں کے خلاف جہاد کر رہی ہے۔ ہم نے بار بار دنیا کو باور کرایا ہے کہ ہمارا اپنی سرزمین کے باہر کوئی ایجنڈا نہیں ،لیکن اپنے ملک کی آزادی اور افغان عوام کی خواہشوں کے مطابق یہاں شریعت کا نفاذ ہمارا بنیادی حق ہے اور اس کے لئے ہم سیاسی اور فوجی جدوجہد کر رہے ہیں۔ دوہا میں دفتر کھولنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ دنیا کو بتایا جائے کہ ہم صرف فوجی حل نہیں بلکہ پر امن حل کے بھی خواہاں ہیں۔‘‘اس کے بعد اس نے ان تمام مذاکرات کا تذکرہ کیا گیا جو امریکہ United States کے اعلی حکام سے ہوئے اور جن کا بنیادی مقصد افغانستان Afghanistan سے امریکی افواج کا انخلا تھا۔اس تمہید کے بعد مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہے جو بہت بسیط اور پر مغز ہے۔ امن: مجبور اور مظلوم افغانوں کی پہلی ضرورت امن ہے، اس کے بغیر معاشی، تعلیمی، معاشرتی اور سیاسی ترقی ناممکن ہے۔ گذشتہ پندرہ برسوں سے امن کو ایک ’’پراجیکٹ‘‘ کے طور پر لیا گیا اور خطے کے لوگوں سے آزادی کا بنیادی حق چھینا گیا۔ یہ ملک مقبوضہ ہے اور قابض افواج نے اس کے اسلامی نظام کو ختم کر دیا جو امن کا ضامن تھا۔ امن کے قیام کے لئے ہم چاہتے ہیں کہ (1) امن کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ملک میں نافد پابندیوں کی لسٹ ختم کی جائے جس کے تحت لوگوں کو ہمارے خلاف جنگ کے لیے انعامات دے کر اکسایا جاتا ہے۔ اس طرح کے ماحول میں امن نہیں صرف جنگ ہی ہو سکتی ہے۔ (2) امریکہ United States اور اس کے حواریوں نے کئی ہزار طالبان اور معصوم شہریوں کو خفیہ اور معلوم قید خانوں میں بند کیا ہے۔ یہ بذات خود امن کے راستے میں ایک رکاوٹ ہے،ان کو رہا کیا جائے۔ (3) اس وقت امارات اسلامی افغانستان Afghanistan کا کوئی علی الاعلان دفتر نہیں ہے، اسے کھولنے کی اجازت دی جائے اور نمبر(4) تمام میڈیا پر طالبان کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا بند کیا جائے۔ امن کے راستے کی رکاوٹیں: امن کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بیرونی قبضہ ہے، جو فوراً ختم ہونا چاہیے۔ امریکی فوج کا انخلاء اور امن ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ دوسری رکاوٹ اس ملک میں شریعت کا عدم نفاذ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امن اور خوشحالی کی کنجی شریعت کے نفاذ میں مضمر ہے، تیسری رکاوٹ یہ ہے کہ دنیا کے ممالک میں سے امن کی ضمانت دینے والا کوئی نہیں۔ ہمارے مذاکرات کی ضمانت دنیا کی طاقتوں اور اسلامی ممالک کو دینا ہوگی۔ چوتھی اور آخری رکاوٹ موجودہ آئین ہے۔ یہ آئین مغرب کا چربہ شدہ ہے اور اس نے افغان قوم کو محکوم بنانے کے لیے غیرملکی مغربی اقدارہم پر مسلط کی ہیں۔ ہم ایک نیا آئین چاہتے ہیں جو اسلامی شریعت اور افغان اقدار کے مطابق ہو۔امن کے بارے میں گفتگو کے بعد اس نے بتایا کہ امارات اسلامی افغانستان Afghanistan کے اصولِ حکمرانی کون سے ہوں گے۔ (1) ہم کسی دوسرے خطے میں مداخلت کے حامی نہیں۔ ہم نے سترہ سال اپنی جنگ لڑی ہے اور کسی دوسرے ملک میں اس جنگ کو لے کر نہیں گئے۔ (2) ہم ہر طرح کی نشہ آور اشیاء کی تیاری اور کاشت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ امریکی حملے کے بعد 328 ہزار ہیکڑ رقبے پر افیون کاشت ہو رہی ہے اور منشیات استعمال کرنے والوں کی تعداد 30 لاکھ ہو چکی ہے۔ (3) ہم کسی بھی قسم کی عام شہریوں کی ہلاکت کے خلاف ہیں۔ موجودہ حکومت نے اس میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ ہمارے امیرالمومنین شیخ ہیبت اللہ اخوندزادہ نے عید کے پیغام میں اس کی شدید مخالفت کی ہے۔ ہم نے بارہا اپنے آپریشن ملتوی کئے کیونکہ ان میں عام شہریوں کے قتل کا خطرہ تھا۔ اماراتِ اسلامی نے شہریوں کی ہلاکت سے بچنے کے لیے تمام مجاہدین کو قرآن Quran و حدیث کے حوالوں سے کتابچے تقسیم کیے اور علماء کی تقریریں کروائیں تاکہ ایک بھی عام شہری یا بے گناہ شخص ہلاک نہ ہو۔ ہماری سب سے بڑی ضرورت انسانی بنیادوں پر فلاحی مدد ہے اور اس جنگ زدہ افغانستان Afghanistan کو اس سے زیادہ کسی اور شئے کی ضرورت نہیں اور اسلامی امارات افغانستان Afghanistan ہر اس تنظیم اور فرد کی حفاظت کا ذمہ لیتی ہے جو اس مقصد کے لیے اس ملک میں آئے گا۔ ہمارا دوسرا مقصد خواتین کو حقوق دلانا ہے۔ وہ تمام حقوق جو اسلام نے انہیں عطا کیے ہیں، جن میں تعلیم، صحت، احترام، آزادی سب شامل ہیں۔ سترہ سال امریکی دورے اقتدار کے باوجود افغانستان Afghanistan آج بھی زچگی کے دوران ہونے والی اموات میں پہلے نمبر پر ہے۔ جدید مغربی میڈیا کے ذریعے افغان عوام میں جس اخلاقی بے راہ روی کو رواج دیا گیا اور افغان معاشرے کی اقدار کے خلاف ایک معاشرہ ترتیب دینے کی کوشش کی گئی، اس کے مقابل امارات اسلامی ایک ایسے معاشرے کے قیام کے لیے کام کرے گی جو اسلامی شریعت کے مطابق عورت کے احترام پر مبنی ہو۔ صحت وہ معاملہ ہے کہ جنگ کے دوران بھی اسلامی امارات افغانستان Afghanistan نے اپنے زیر سایہ ایک محکمہ صحت قائم کیے رکھا اور اس محکمے کے ڈاکٹرز پورے افغانستان Afghanistan میں صحت کی سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ ہم نے امریکہ United States اور کابل حکومت کے زخمیوں کا بھی علاج کیا ہے۔ ظلم کی بات یہ ہے کہ امریکہ United States اور دیگر ممالک کی افواج ہماری ایمبولینسوں اور ہسپتالوں پر بم برساتی اور نہتے ڈاکٹروں اور مریضوں کو شہید کرتی رہیں۔ اسلامی امارات افغانستان Afghanistan دنیا کی تمام عالمی تنظیموں کو اپنے یہاں آنے، کام کرنے اور سکون اور عزت سے رہنے کی ضمانت دیتی ہے۔ یہ اس شخص کی تقریر ہے جو اس گروہ یعنی طالبان کا نمائندہ ہے جس نے انسانی تاریخ کی سب سے بڑی جنگ جیتی ہے۔ زخموں سے چور افغان طالبان کے نمائندے کی زبان پر کوئی انتقام نہیں بلکہ افغان مسلمانوں کا عظیم مستقبل ہے۔ تقریر میں دو لفظ اہم ہیں، ایک جہاد جس لفظ سے سب جدید روشن خیال نفرت کرتے ہیں اور دوسری شریعت اسلامی جس سے یہی لوگ خوف کھاتے ہیں۔ لیکن انہیں دو تصورات کی بدولت افغان طالبان 17 سال میں ایک عالمی طاقت اور اسے کے حواریوں کو ذلت آمیزشکست دے سکتے ہیں مگر دوسری جانب ہم ہیں کہ 71 سال میں کشمیر کے بارے میں متذبذب ہیں۔ ہمارا عالم یہ ہے کہ ہم وہ مصلحت کوش ہیں جو بھارت India سے جنگ کی بات تو کرتے ہیں لیکن جہاد کا لفظ منہ پر نہیں لاتے۔ اللہ ایسے مصلحت کوش مسلمانوں کی نصرت نہیں کیا کرتا۔ جب وہ کسی مومن کی مدد کرتا ہے تو اسے فراست عطا کرتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے‘‘ (سنن ترمذی)۔ اس کے لیے اللہ پر کامل ایمان اور توکل شرط ہے۔ایسے ہی مومن کا لہجہ بے باک ، واضح اور فیصلہ کن ہوتا ہے۔ نوٹ: میرے گزشتہ کالم کے کچھ مندرجات سے اگر جناب اظہار الحق صاحب کی دل آزاری ہوئی ہے تو میں دل کی گہرائیوں سے معافی کا خواستگار ہوں۔

 187