پاکستانی سیاست کے تاریخی یوٹرن

Hamza Meer

06 فروری 2019

پاکستانی سیاست کے تاریخی یوٹرن

یوٹرن اور پاکستان Pakistan کی تاریخ

تحریر حمزہ میر

----پاکستان Pakistan کی سیاسی اورملکی تاریخ یوٹرن سے بھرپور ہے سب سے پہلا یوٹرن سرسید احمد خان نے لیا وہ دو قومی نظریے کے مخالف تھے اور ان کا کہنا تھا کہ مسلمان اور ہندو ایک قوم ہیں لیکن مفکر پاکستان Pakistan علامہ اقبال کی پرجوش شاعری، حالات کے تناظر اور نوابزادہ برادران نے ان کا موقف تبدیل کر دیا البتہ کچھ دیر تک علامہ اقبال بھی دو قومی نظریہ کے مخالف تھے لیکن حالات نے خود ہی ان کو الگ ریاست کے لیے قائل کر لیا۔ دوسرا تاریخی یوٹرن پاکستان Pakistan کی بنیاد رکھنے والے اور بانی پاکستان Pakistan محمد علی جناح نے لیا، محترم جناح صاحب پہلے کانگرس کے لیدڑ تھے لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ کانگرس تو صرف ہندوں کو سامنے لا رہی ہے جو مطالبات کیے جاتے ہیں ان میں بھی ہندوں کو سامنے رکھا جاتا ہے مسلمانوں کو پوچھا بھی نہیں جاتا اور کانگرس درحقیقت برطانوی حکومت کی ہی ترجمان جماعت ہے اور وہ مایوس ہو کر برطانیہ چلے گئے لیکن ایک شخص تھا جس نے منایا ان کو اور کہا کہ مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کی شدید ضرورت ہے اور اس کے لیے ہمیں متحد ہونا پڑھے گا اور وہ کوئی اور نہیں مفکر پاکستان Pakistan اور پاکستان Pakistan کا خواب دیکھنے والے حضرت علامہ اقبال تھے اور ان کا ساتھ دیا سردار عبدالرب نشتر نے اور اس طرح قائداعظم نے بھی یوٹرن لیا برظانیہ سے واپس آئے اور الگ ریاست کے لیے جدوجہد شروع کی اور یوں پاکستان Pakistan بننے کا آغاز ہوا، پاکستان Pakistan بنتے ہوئے بھی بہت سے لوگ پاکستان Pakistan کے مخالف تھے لیکن جب پاکستان Pakistan بنا تو اقتدار اور زمینوں کی خاطر انہوں نے پاکستان Pakistan کو قبول کیا-

بحثیت قوم ایک تاریخی یوٹرن ہم نے بھی لیا 1965 کے واحد صدارتی انتخاب میں جب پورے ملک سے58 ہزار کونسلر منتخب ہوئے اور انہوں نے ملک کا سربراہ چنا اور ہم لوگوں نے ایوب خان کے زیادہ تر لوگوں کو ووٹ دیا اور اس طرح ایوب خان کو منتخب کیا یہ وہ ہی واقع ہے جب ہم نے قوم کے قائد محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جناح کی بجائے ہم لوگوں نے فیلڈ مارشل ایوب خان کو صدر بنایا کیا یہ قوم کا یوٹرن نہیں؟ 3 مارچ کو ڈھاکہ سے واپسی پر سابق صدر اور آرمی چیف یحیئ خان نے علان کیا کہ وزیراعظم پاکستان Pakistan شیخ مجیب ہوں گے لیکن جب وہ ذولفقار علی بھٹو سے ملاقات کر کے واپس لاہور آئے تو انہوں نے ایسا یوٹرن لیا جس نے اس ملک کو دو ٹکرے کرنے میں چوٹی کا کردار ادا کیا یحیئ خان نے یوٹرن لیا اور اپنے اقتدار کو بڑھانے کے لیے ایسا کیا اور بھٹو کو وزیراعظم بنانے کا علان کیا یہ ایسا ہیبت ناک اور ظالم یوٹرن تھا کہ ممللکت خداد پاکستان Pakistan دو لخت ہو گیا جنرل یحیئ کہ اس یوٹرن سے قائداعظم اور مفکر پاکستان Pakistan ڈاکٹر علامہ اقبال کی اور جن لوگوں نے الگ ملک کے لیے قربانی دی تھی روح افسردہ اور دل خون کے آنسوں روتا ہو گا- بھٹو صاحب نے بھی یوٹرن لیا بھٹو صاحب جنرل ایوب کی کچن کیبنٹ کے ممبر تھے پہلے وزیرسائنس اینڈ ٹیکنالوجی بنے پھر وزیر خارجہ بنے لیکن اقتدار کی حوس نے ان کو بھی ان کا مخالف بنایا لیکن پھر ایسا یوٹرن لیا اور ایوب خان کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا مسٹر بھٹو کو ایوب خان اپنا بیٹا کہتے تھے لیکن اقتدار کا نشہ بڑا ظالم ہوتا ہے بھٹو نے یوٹرن لیا اور ایسا نعرہ لگایا جو لوگوں کے دل میں گھر کر گیا "روٹی، کپڑا اور مکان"اور اسی نعرے کی بدولت وہ اقتدار میں آ گے پیپلزپارٹی جو عمران خان Imran Khan پر یوٹرن کا الزام لگاتی ہے اگر ان سے پوچھا جائے تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ بھٹو صاحب کے لیے حالات اور تھےتو پھر کہوں گا "خان کا یوٹرن تو یوٹرن لیکن بھٹو کا یوٹرن مصلحت"- یوٹرن کی ماں تو وہ معاہدہ ہے جو پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ نے کیا "میثاق جمہوریت" اصل میں یوٹرن تو یہ تھا اور اس یوٹرن کو "" کہا جائے تو غلط نہیں- ماضی میں دونوں جماعتوں ایک دوسرے پر ایسے غلیظ الزام لگائے اور جہازوں کے زریعے ایک دوسرے کی تضحیک کرتے تھے جو الفاظ شیخ رشید بےنظیر کے لیے استعمال کرتے تھے وہ بتائے بھی نہیں جا سکتے اور جو الفاظ رانا ثنا نے مریم نواز Maryam Nawaz کے خلاف کہے جب وہ پیپلزپارٹی میں تھے معافی ایسے الفاظ سوچے بھی نہیں کا سکتے لیکن پھر ایسے کایا پلٹی اور دونوں جماعتیں ایک دوسرے کے قریب آ گیں اور دونوں جماعتوں کے بقول حالات کا تقاضہ تھا اب جب یہ خان صاحب کہ بیان پر تنقید کرتے ہیں کیا ان کو خوف خدا نہیں پیپلزپارٹی نے بھی یوٹرن لیا قاف لیف کق قاتل لیگ کہتے تھے لیکن اسی قاتل لیگ کے پرویزالہی کو ڈپیٹی وزیراعظم بھی بنایا یعنی اتنا بڑا یوٹرن کہ جس شخص پر بےنظیر کے قاتل کا الزام لگایا جاتا تھا اس کو ڈپٹی وزیراعظم بنایا اور مشرف کو ملک سے باہر جانے دیا پھر زرداری صاحب نے نوازشریف کو دھرتی کا ناسور کہا مودی کا یار کہا لیکن پھر اسی مودی کے یار کے ساتھ اپنے اربوں پیسے بچانے کے لیے اتحاد کر لیا دوسری طرف مسلم لیگ نواز کے لوگ بھی کہتے تھے زرداری کا پیٹ پھاڑ کر پیسے نکالیں گے، زرداری کرپشن کا بادشاہ ہے لیکن پھر یوں ہوا "ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے زرداری و نواز نا کوئی دھرتی کا ناسور رہا نا کسی کا پیٹ پٹھا پیسے نکالنے کے لیے"-

اصل میں یہ بات تب زبان زدے عام ہوئی جب 16 نومبر کو وزیراعظم عمران خان Imran Khan نے کچھ صحافیوں کے ساتھ گفتگو کی اور گفتگو کے درمیان ایک صحافی نے سوال کیا یوٹرن کے بارے میں اور ایسا لگا جیسے وزیراعظم اسی تاک میں تھے کہ یوٹرن کے بارے میں بات کی جائے کان میں پڑھی تو عمران خان Imran Khan نے نپولین اور ہٹلر کی مثال دی کہ اگر وہ یوٹرن لے لیتے تو شاید وہ بچ جاتے خان صاحب کی یہ منتق ناقابل فہم ہے ملک کو مدینہ کی ریاست بنانا ہے لیکن مثال نپولین کی خان صاحب نے کہا تو ٹھیک ہےکیونکہ حکومت میں آنے سے پہلے پالیسی سیاستدان کچھ اور سوچتے ہیں لیکن جب حکومت میں آتے ہیں تو ان کو معلوم ہوتا ہے کہ حالات تو ان کی پالیسی کے برعکس ہیں تو ظاہر ہے پھر یوٹرن لینا پڑتا ہے کیونکہ ان کو اقتدار میں آ کر پتا لگتا حالات کیسے ہیں لیکن خان صاحب اب تو شاید آپ نے احتساب پر بھی یوٹرن لیا ہے احتساب کے سسٹم کی سپیڈ کم ہو گئی ہے اور جن کو آپ نے جیلوں میں ڈالنا تھا ان کو سکون سے منسٹر کالونی میں رکھا ہوا ہے - آب نیت ٹھیک والا چورن نہیں سیل ہو گا کیونکہ آب آپ کو آئے 6 مہینے ہو گئے ہیں ہاں البتہ صحت کارڈ بہت احسن اقدام ہے لیکن ان جیسے بےشمار کام ابھی کرنے ہیں اور کہاں ہے آپ کی معاشی پالیسی جلدی کریں عوام صبر نہیں کر رہی حالانکہ 70 سال سے صبر کر رہی ہے عوام لیکن اب صبر نہیں ہوتا ان سے ۔

 200