جنت نظیر وادی میں خون کی ہولی

آس - اسما طارق

05 فروری 2019

jannat nazeer waadi mein khoon ki holi

قصہ کچھ یوں ہے کہ جنت نظیر وادی ریاست جموں و کشمیر Kashmir ڈوگرہ راج کے سائے میں پروان چڑھتی ہے جہاں مہاراجہ رنجیت سنگھ ڈوگراوں کے خلاف جنگ کرکے جموں کو فتح کرتا ہے اور اس کی مدد ڈوگرہ راجہ گلاب سنگھ کرتا ہے جو شوں کو پیٹھ دکھ کر مہاراجہ رنجیت سنگھ کی فوج میں ملازمت اختیار کرتا ہے اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کا ایجنٹ بن کر کئی ڈوگرہ جیالوں کو قتل کرتا ہے جس کے عوض راجہ گلاب سنگھ کو جموں کی باج گزار ریاست بطور انعام عطا ہوتی ہے ۔ جب مہاراجہ رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد جب سکھ سلطنت کا زوال شروع ہوتا ہے تو انگریز پنجاب پر چڑھائی کر کہ قبضہ کر لیتے ہیں تو اس وقت راجہ گلاب سنگھ اور اس کے پیروکار لاہورکے دربار سے غداری کرکے انگریزوں سے مل جاتے ہیں گویا کہ پیٹھ دکھانا اور غداری شروع سے ہی راجہ کی فطرت میں شامل تھا ۔ اب اس خاص خدمت اور 75 لاکھ روپے کی رقم کے عوض ”بیع نامہ امرتسر‘‘ کے ذریعے کشمیر کا صوبہ راجہ گلاب سنگھ حاصل کر لیتا ہے ۔ 1846ء سے 1947ء تک ظلم و ستم کی داستان رقم کی جاتی ہے ۔ 1947 میں جب ہندوستان کی تقسیم کا وقت قریب آن پہنچا ہے اور تمام ریاستوں کو اختیار دیا جاتا ہے کہ وہ پاکستان Pakistan یا بھارت India میں سے کسی ایک سے الحاق کریں یا اپنی الگ آزاد حیثیت برقرار رکھیں تو جیسا کہ کشمیر مسلم اکثریتی ریاست تھی،مگر ہندو مہاراجا پاکستان Pakistan سے الحاق نہیں چاہتا تھا اور عوام ہندوستان سے الحاق پر تیار نہ تھی اس لیے عوام اس فیصلے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئی مگر جیسا کہ گلاب سنگھ نے پہلے جموں کے عوام اور لاہورکے سکھ دربار سے بے وفائی کرکے جبر وتشدد کے ذریعے جموں و کشمیر Kashmir کی ریاست میں اقتدار حاصل کیا تھا اور اس کے لواحقین جانشین بن کر جاگیر دارانہ لوٹ کھسوٹ کر رہے تھے اور جاگیردارانہ نظام چل رہا تھا جو کشمیر کی تباہی و بربادی کا ایک بڑا سبب بھی ہے ۔ اس ظلم و ستم کے خلاف پونچھ کے مسلمانوں کی بغاوت آٹھ کھڑی ہوتی ہے جسےڈوگرہ فوج سختی سے کچل دیتی مگر اب مسلمانوں کے خلاف فسادات کا سلسلہ بڑھ رہا تھا چونکہ پونچھ اور جموں کے مسلمانوں کی رشتہ داریاں سرحد اور پنجاب کے دیگر علاقوں تک پھیلی ہوتی ہیں جسکے نتیجے میں قبائلی سرحد عبور کر کہ کشمیریوں کی مدد کے لیے آتے ہیں اور راجہ مدد کے واسطے ہندوستان کو پکارتا ہے اور جیسا کہ اب تک راجہ کے ساتھ الحاق کی بساط بچھ چکی تھی جسے جواز بنا کر بھارت India ریاست میں اپنی فوجیں داخل کر دیتا ہے اور یہ جنگ جاری رہتی ہے ایک طرف بھارتی Indian فوج بربریت کی حد پار کر رہا تھا تو دوسری جانب مجاہدین، کشمیر کے بہت سے علاقوں پر سے مہاراجا کا قبضہ ختم کرکے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے علاقے پاکستان Pakistan کے زیر انتظام دے دیتے ہیں ، 1948 میں یہ جنگ لڑی جاتی ہے ۔ اب جب بھارتی Indian فوج کی بات بنتی نہیں دکھائی دے رہی تھی تو اسی دوران بھارت India کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ میں لے جاتا ہے ، جہاں ایک کمیشن کے ذریعے کشمیر میں استصواب رائے کا فیصلہ کیا جاتا ہے جسے اس وقت کے بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister جواہر لعل نہرو تسلیم کرتے ہیں اور رائے شماری کے فیصلے کی تائید بھی کی جس کے مطابق کشمیر کے عوام رائے شماری کے ذریعے پاکستان Pakistan یا بھارت India سے الحاق کا فیصلہ کرینگے پاکستان Pakistan نے بھی یہ فیصلہ تسلیم کیا۔ لیکن بعد میں بھارت India اپنے اس وعدے سے انحراف کر لیتا ہے اور نتیجتا اب تک ریاست کشمیر غلامی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے اور اب تک کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ بھارت India کا رویہ جارحانہ ہے اور جو ظلم و ستم کا علم رقم کر رہا ہے کشمیر پر غاصبانہ قبضے کو کشمیری عوام نے کبھی تسلیم نہیں کیا اسی لئے آزادی کے حصول کے لئے اب تک لاکھوں کشمیری شہید ہوچکے ہیں اور مسلسل قابض بھارتی Indian افواج کی بربریت کا شکار ہیں ۔ہندو مہاراجہ کی ایک غلطی کی سزا کشمیری عوام پچھلے ستر سال سے بھگت رہی اور قربان ہو رہی ہے ۔ ماضی کی غلطیوں سے ملنے والے نقصانات سے بچنا بہت مشکل ہوتا ہے پاکستان Pakistan کو اس سے سبق حاصل کرنا چاہیئے اور تمام ریاستوں کو برابر حقوق دینے ہونگے تاکہ مستقبل میں آنے والی نسلوں کو ہماری غلطیوں کی سزا نہ بھگتنی پڑے ۔۔ ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر منایا جاتا ہے اور یہ عہد کیا جاتا ہے کہ اس تحریک آزادی میں ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں ۔ نئی نسلوں کو بھی اس کا مقصد اور اہمیت معلوم ہونا بہت ضروری ہے ۔کشمیری عوام پچھلے ستر سالوں سے آزادی کی تحریک لڑ رہے ہیں اور اب تک ہزاروں جانے قربان کر چکے ہیں ۔ 2016 میں یہ تحریک شدید زور پکڑتی ہے جب حریت پسند رانما مظفر وانی کو شہید کیا جاتا ہے تب سے لے کر اب تک تحریک بڑھتی جا رہی ہے ۔ ماں بہنیں، بھائی باپ سب آزادی کی خاطر قربان ہو رہے ہیں ،کئی گھر اور خاندان نظر آتش ہو چکے ہیں ، جنت نظیر وادی میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے ۔صرف 2018 میں پانج سو سے زائد کشمیریوں کو موت کی نیند سلایا جاتا ہے یہ ظلم ستم کی انتہائی تصویر ہے جتنی فوجیں کشمیر میں تعینات ہیں اتنی شاید ہی کسی اور خطے میں ہو مگر یہاں فوج حفاظت کے لیے نہیں ظلم و ستم کی داستانیں رقم کرنے کیلئے ہے ۔ جناب والا یہ مسئلہ صرف کشمیر کے لیے نہیں بلکہ پورے خطے کے لیے نقصان دہ ہے ۔پاکستان Pakistan اور ہندوستان نے اسے اپنی انا کا مسئلہ بنا لیا ہے اور اس کی سزا کشمیری عوام بھگت رہی ہے دونوں ممالک آپس میں الجھ رہے ہیں مگر کوئی کشمیری عوام سے پوچھ ہی نہیں رہا وہ کیا چاہتے ہیں ۔دونوں اسے اپنہ حصہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں کوئی کشمیر سے تو پوچھے اسے کسی کا حصہ بننا بھی ہے کہ نہیں ۔ بھارت India اور پاکستان Pakistan سے اپنی ریاستیں سنبھل نہیں رہی ہیں ، آزاد کشمیر کی عوام کوئی اتنی خوش نہیں حکومت سے اور دوسری طرف بھارت India میں سکھ برادری بھی انتہائی مایوس دکھائی دیتی ہے ۔۔ یہ مسئلہ تب تک نہیں حل ہو سکتا جب تک دونوں حکومتیں سنجیدگی کے ساتھ اسے طے کرنے کا فیصلہ نہیں کر لیتی ہیں اس کے لیے دونوں ممالک کو اپنے مفادات کو پیچھے چھوڑ کر ریاست کشمیر کے ممالک کو اپنے مفادات کو پیچھے چھوڑ کر ریاست کشمیر کے مفاد کو دیکھنا ہوگا کیونکہ کشمیر میں امن و امان سے ہی خطے میں امن قائم ہو سکتا ہے وگرنہ یہ نسور کی طرح دونوں ممالک کو تنگ کرتا رہے گا اور کشمیر کی حسین وادی آزادی کے حصول کے لئے جلتی رہے گی۔

بھارت India کا ریاست میں ظلم و بربریت کی تصویر کھینچی ہوئی ہے جو انتہائی گری ہوئی حرکت اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ ظلم و ستم بڑھ رہے ہیں جو خود کو سیکولر ملک کہلوانے والے بھارت India کی دوکھلے اور مکار چہرے کی وضاحت کرتا ہے ۔ خود کو امن و امان کا محافظ کہنے والا امریکہ United States اور اقوام متحدہ نجانے کیوں اس معاملے میں منہ میں انگلی دیئے بیٹھی ہے حالانکہ انہیں ساری دنیا کے امن فکر رہتی ہے مگر جب مسئلہ مسلمانوں کا آتا ہے تب انسانی حقوق نجانے کہاں چلے جاتے ہیں ۔ مگر ایک بات تو طے ہے کہ آزادی کی تحریک اب روکنے والی نہیں ہے اور اس کے لیے پاکستانی عوام بھی کشمیریوں کے ساتھ ہے مگر دیکھنا تو یہ ہے کہ بھارت India کب تک بربریت کی تصویر بنا پھرتا ہے اور عالمی طاقتیں کب تک خاموش رہتی رہتی ہیں ۔پاکستان Pakistan کو بھی کشمیر کے متعلق اپنے موقف کو واضح کرنا ہوگا اور اسے دنیا کے سامنے لانا ہوگا اور

دہشت کی تصویر بنی جنت نظیر وادی میں خون کی ہولی بند کروانا ہو گی وگرنہ حالات کی سنگینی کو کوئی نہیں روک سکتا ہے اور یہ بات کشمیر کے لیے نہیں پورے خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو گی ۔

 147