ایک صوبہ‘ دو صوبے یا دما دم مست قلندر

کٹہرا - خالد مسعود خان

03 فروری 2019

ایک صوبہ‘ دو صوبے یا دما دم مست قلندر

صوبہ جنوبی پنجاب کے معاملے میں عملی طور پر تو ایک رتی برابر بھی پیش رفت نہیں ہوئی۔ باقی کا تو چھوڑیں گھر کے اندر گھڑمس مچا ہوا ہے۔ صوبہ جنوبی پنجاب کے لیے قائم پی ٹی آئی کی کمیٹی کے سربراہ طاہر بشیر چیمہ بڑے دعوے سے کہہ رہے ہیں کہ یکم جولائی 2019 ء سے اور کچھ نہیں تو کم از کم جنوبی پنجاب کے لیے علیحدہ سیکریٹریٹ ضرور بن جائے گا اور پھر علیحدہ صوبے کے لیے بھی عملی اقدامات کیے جائیں گے۔ دوسری طرف ان کے سگے بھائی اور مسلم لیگ ق کی جانب سے منتخب ایم این اے طارق بشیر چیمہ صوبہ جنوبی پنجاب کے بجائے دو علیحدہ صوبوں کی بات کر رہے ہیں۔ صوبہ جنوبی پنجاب‘ جو ڈیرہ غازی خان اور ملتان ڈویژن پر مشتمل ہو اور صوبہ بہاولپور‘ جو بہاولپور ڈویژن پر مشتمل ہو۔ بہاولپور ڈویژن میں تین اضلاع بہاولپور‘ بہاولنگر اور رحیم یار خان شامل ہیں۔

طارق بشیر چیمہ اپنے مؤقف پر بڑے شدومد سے ڈٹے ہوئے ہیں۔ 2019 ء کے انتخابات کے دوران ان کا انتخابی الحاق نواب بہاولپور کے ساتھ بہاولپور صوبہ بنانے کی حمایت کی بنیاد پر تھا۔ صوبہ بہاولپور کے طلبگاروں کا موقف بڑا واضح اور صاف ہے۔ وہ اس وعدے کی بنیاد پر صوبہ مانگتے ہیں جو ریاست بہاولپور کے پاکستان میں الحاق کے بعد ایک علیحدہ صوبے کی صورت میں قائم ہونے کے بعد ''ون یونٹ‘‘ کے قیام کے وقت مغربی پاکستان میں ادغام کے وقت کیا گیا تھا۔

بہاولپور ایک نیم خود مختار ریاست تھی۔ 1947 ء میں جب نواب بہاولپور صادق محمد خاں عباسی خامس یعنی پنجم نے اس کا پاکستان میں الحاق کر دیا‘اس سے قبل اس کا حقیقی سٹیٹس انگریزی اصطلاح میں Princely State تھا۔ یعنی نواب بھی موجود تھا لیکن وہ تاج برطانیہ کے طابع تھا۔ 1802 ء میں ریاست بہاولپور کی بنیاد نواب محمد بہاول خان عباسی نے رکھی۔ 1833 ء میں بہاولپور تاج برطانیہ کے حلیف ہونے کے معاہدے میں بندھ گیا۔ 1947 میں نواب صاحب صادق محمد خان عباسی خامس نے پاکستان سے الحاق کا اعلان کر دیا لیکن پاکستان میں شمولیت کے باوجود اس کی علیحدہ شناخت برقرار رہی۔

5اکتوبر 1947 ء کو نواب صاحب نے ایک معاہدے کے تحت بہاولپور ریاست کا پاکستان میں ادغام کر دیا۔ نواب صاحب صادق محمد خان عباسی کی قائداعظم سے دوستی اور پاکستان کے لیے خدمات ایک بالکل علیحدہ اور بڑا طویل موضوع ہے جس پر فی الوقت بات نہیں کی جا رہی۔ 30اپریل 1951ء کو بہاولپور کا ریاستی سٹیٹس ختم ہو گیا اور وہ صوبہ بن گیا۔ 1952ء میں بہاولپور کی صوبائی اسمبلی کے الیکشن بھی ہوئے اور صوبائی اسمبلی بھی بن گئی۔ یہ صورتحال 1954ء تک جوں کی توں قائم رہی۔ 1954ء میں اس کی صوبائی حیثیت نہ صرف قائم رہی بلکہ اسے یہ آئینی حیثیت دینے کے لیے 1956ء کے آئین میں بہاولپور کا بطور ایک علیحدہ صوبے کے اندراج بھی ہوا مگر ملک غلام محمد نے یہ آئینی مسودہ مسترد کر دیا۔ 1955ء میں گورنر جنرل غلام محمد نے پورے مغربی پاکستان پر مشتمل ایک صوبہ بنا دیا اور بہاولپور کو بھی اس نئے ''ون یونٹ‘‘ میں شامل کر دیا۔ اس ادغام کے وقت نواب صاحب اور غلام محمد کے درمیان یہ طے پایا کہ نواب صاحب کا ٹائٹل ''نواب‘‘ قائم رہے گا‘ انہیں بتیس لاکھ روپے سالانہ کا وظیفہ بطور نواب پیش کیا جاتا رہے گا اور یہ کہ جب (اگر) ون یونٹ صوبہ ختم ہوا اور دوبارہ صوبوں کی تشکیل نو کی گئی تو اس ''ون یونٹ‘‘ یعنی مغربی پاکستان کو پانچ صوبوں میں منقسم کیا جائے گا۔ یہ صوبے پنجاب‘ شمال مغربی سرحدی صوبہ (تب صوبہ خیرپختونخوا کا یہی نام تھا) بلوچستان‘ سندھ اور بہاولپور تھے۔

یکم جولائی 1970 ء کو ون یونٹ ختم ہو گیا اور سابقہ صوبے بحال ہو گئے لیکن پانچ کے بجائے چار صوبوں کی تشکیل نو ہوئی۔ یہ چار صوبے پنجاب‘ شمال مغربی سرحدی صوبہ‘ بلوچستان اور سندھ تھے۔ بہاولپور کو پنجاب میں ضم کر دیا گیا۔ یہ اس معاہدے کی صریح خلاف ورزی تھی جو نواب صاحب اور حکومت پاکستان کے درمیان 1954میں ہوا تھا کہ ون یونٹ کے خاتمے کے ساتھ ہی بہاولپور کی صوبائی حیثیت دوبارہ بحال ہو جائے گی۔ اس پر بہاولپور میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ بہاولپور صوبہ تحریک نے بڑے زور و شور سے اپنی تحریک شروع کر دی۔ اس دوران ان ہنگاموں میں دو لوگ بھی شہید ہو گئے۔ بہاولپور کے لوگوں کا کہنا تھا کہ ایک علیحدہ انتظامی شناخت کے حامل ''بہاولپور‘‘ کو اس پنجاب کا حصہ بنا دیا ہے جس کا وہ ایک لمبے عرصے سے حصہ نہ ہے۔ حتیٰ کہ بہاولپور تو ''رنجیت سنگھ‘‘ کے گریٹر پنجاب میں بھی شامل نہ تھا اور اس وقت بھی اپنی علیحدہ شناخت رکھتا تھا۔ قائداعظم کا پاکستان بھی ''لودھراں‘‘ تک تھا۔ اسے بہاولپور تک کی وسعت نواب صاحب صادق محمد خان عباسی کے طفیل عطا ہوئی ‘جنہوں نے ریاست کا پاکستان میں ادغام کر دیا۔ یہ پاکستان میں شامل ہونے والی پہلی ریاست تھی جو بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئی اور بعد ازاں دیگر ریاستوں نے پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ برٹش انڈیا میں کل پانچ سو پینسٹھ پرنسلی سٹیٹس تھیں۔ ان میں سے پانچ سو باون نے بھارت میں شمولیت اختیار کی اور تیرہ ریاستوں نے پاکستان میں شمولیت اختیار کی۔ یہ تیرہ ریاستیں بہاولپور‘ خیرپور‘ چترال‘ سوات‘ ہنزہ‘ نگر‘ امب‘ پھلرہ‘ دیر‘ لس بیلہ‘ خاران‘ مکران اور قلات تھیں۔

1971ء کے الیکشن آئے اور بہاولپور میں بہاولپور متحدہ محاذ بن گیا۔ الیکشن میں قریب اسی فیصد ووٹ اس محاذ نے حاصل کیے اور یہ ثابت کر دیا کہ بہاولپور کے عوام اپنی سابقہ حیثیت کی بحالی چاہتے ہیں۔ بہاولپور ڈویژن میں تب پانچ قومی اسمبلی کی نشستیں تھیں اور ان پانچ میں چار سیٹیں متحدہ محاذ کے حمایت یافتہ امیدواروں نے جیت لیں۔ تب عالم یہ تھا کہ لوگ گو کہ اپنی اپنی پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے تھے مگر ان کو متحدہ محاذ کی نہ صرف حمایت حاصل تھی بلکہ متحدہ محاذ نے انہیں اپنا امیدوار بھی قرار دیا ہوا تھا اور ان کے پوسٹروں پر متحدہ محاذ کا نام درج تھا۔ بہاولپور اور رحیم یار خان میں متحدہ محاذ نے کلین سویپ کیا جبکہ بہاولنگر سے ایک سیٹ پر ہار گئے۔ یہ الیکشن نہیں ''ریفرنڈم‘‘ تھا جو بہاولپور والوں نے ''بہاولپور متحدہ محاذ‘‘ کے نام سے لڑا اور جیت کر دکھایا۔

اس الیکشن کے بعد مشرقی پاکستان کے حالات خراب ہو گئے جو بالآخر بنگلہ دیش کے قیام پر منتج ہوئے۔ اس ساری گڑ بڑ کے دوران مغربی پاکستان کی قومی اسمبلی کے ارکان جن کی اکثریت پیپلز پارٹی سے تعلق رکھتی تھی‘ نے مرکز میں حکومت بنا لی۔ صوبوں میں بھی حکومتیں بن گئیں۔ پنجاب اور سندھ بھی پیپلز پارٹی کے پاس چلے گئے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد باقی بچے ہوئے پاکستان میں سیاسی حالات نے اس تیزی سے کروٹ لی کہ بہاولپور صوبہ تحریک پس منظر میں چلی گئی اور حالات کے نئے تقاضوں نے یہ سارا مسئلہ وقت کی گرد میں دھندلا کر دیا۔ کبھی کبھار اس باسی کڑھی میں ابال آ جاتا تھا۔ ہمارے دوست محمد علی درانی بھی اس مسئلے پر کبھی بڑے سرگرم تھے اور آج کل کبھی کبھار ٹی وی پر اس ایشو کو زندہ رکھنے کے علاوہ گوشہ نشین بلکہ کسی کونے کھدرے میں روپوش ہیں۔ اب اس مسئلے کو طارق بشیر چیمہ نے اچھال رکھا ہے اور صوبہ جنوبی پنجاب کے مقابلے میں صوبہ بہاولپور کا معاملہ نہ صرف اٹھا رکھا ہے بلکہ وہ اس معاملے میں بہت تندوتیز بیانات بھی دے رہے ہیں اور اپنے موقف پر بڑی سختی اور ثابت قدمی سے ڈٹے ہوئے ہیں۔

دوسری طرف پی ٹی آئی کی صوبہ جنوبی پنجاب کے لیے قائم کردہ کمیٹی کے سربراہ ان کے سگے بھائی طاہر بشیر چیمہ صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کے لیے نہ صرف پرامید ہیں بلکہ اس پر کام بھی کر رہے ہیں۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ نئے صوبہ کے قیام کے لیے آئینی طے شدہ طریقہ کار کے مطابق صوبہ پنجاب‘ قومی اسمبلی اور سینٹ میں دوتہائی اکثریت کے ووٹ درکار ہیں۔ اگر دوسری صورت اختیار کی جائے اور آئین میں نئے صوبے بنانے کے لیے اس پیچیدہ طریقہ کار کو ہی بدلنے کے لیے ترمیم کی جائے‘ تب بھی قومی اسمبلی میں دوتہائی اکثریت درکار ہے جو تحریک انصاف کو حاصل نہیں۔ بلکہ دوتہائی چھوڑیں‘ صورتحال یہ ہے کہ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کو جو سادہ اکثریت حاصل ہے اس میں ایک بڑا کردار مسلم لیگ ق کے پانچ ووٹوں کا ہے اور طارق بشیر چیمہ جو ان پانچ ووٹوں کی حامل جماعت کے زور دار لیڈر ہیں انہوں نے کہا ہے کہ یا بہاولپور صوبہ بنے گا یا پھر کوئی صوبہ نہیں بنے گا۔ یعنی دما دم مست قلندر ہوگا۔

 404