عنوان::زرداری اور بلاول کیوں گبھراہٹ کا شکار ہیں!!!

Hamza Meer

02 فروری 2019

عنوان::زرداری اور بلاول کیوں گبھراہٹ کا شکار ہیں!!!

کالم نگار ::حمزہ میر!!!

جب پاکستان Pakistan میں حالیہ انتخابات ہوئے اور تحریک انصاف نے ملک پاکستان Pakistan میں حکومت بنائی لیکن مسلم لیگ نواز اور مولانہ فضل الرحمان شروع دن سے ہی نا حکومت کو مان رہے تھے اور یہاں تک کہ وہ حلف بھی نہیں اٹھانا چاہتے تھے لیکن زرداری اینڈ کمپنی نے ان دونوں جماعتوں کو منایا اور اسمبلی میں لائے اور اہم مواقع پر حکومت کا ساتھ بھی دیا لیکن سپریم کورٹ کا جعلی بینک اکاوئنٹ کیس کھولنا تھا اور جے-آئی-ٹی بننی تھی زرداری صاحب کا نظریہ اچانک تبدیل ہو گیا مفاہمت کی جگہ مظاہمت سامنے آ گئی اور وہ بھی دونوں جماعتوں کی طرح چیخیں مارنے لگ پڑے اور حکومت کے خلاف صف اول میں آ گئے اور حکومت مخالف تحریک کےسربراہ بن گئے-اصل مسلہ وہ جے-آئی-ٹی رپوٹ ہے کیونکہ اس رپوٹ میں سنگین قسم کے ہوش آڑانے والے انکشافات کیے جے-آئی-ٹی نے مجموی طور پر 11500 بینک اکاوئنٹ چیک کیے 924 لوگوں کے اور تقریبا 24500 ٹرانزیکشن شامل کیں اور 4 بڑھے اور مرکزی کردار لوگوں سے تفتیش بھی کی گئی رپوٹ 128 صفحات پر مشتمل ہے- رپوٹ میں صاف الفاظ میں کہا گیا کہ آصف زرداری منی لانڈرنگ Money laundering کرنے والے گروپ کے سربراہ ہیں اور کیسے سندھ حکومت کا پیسا اومنی اکاونٹ کے ذریعے ملک سے باہر بھیجا گیا اور رپوٹ نے انکشاف کیا کہ بحریہ ٹاون میں بننے والے بلاول ہاوس کی قیمت سندھ حکومت نے ادا کی کوئی گفٹ نہیں دیا گیا اور ساتھ ہی بتایا گیا کہ بحریہ ٹاون کراچی نے سرکاری اراضی پر قبضہ کیا ہے اور بحریہ ٹاون کے پیسے بھی اومنی گروپ کے ذریعے استعمال ہوئے یہ سنتے ہی چیف جسٹس نے کہا تھا ملک ریاض کو نوٹس بھیجا جائے اور بلایا جائے اور جسٹس اعجازالحسن نے کہا ملک ریاض تو کہتے ہیں پیسے کوئی نہیں "تو یہ کیا ہے ملک کو اتنی بےدردی کے ساتھ لوٹا گیا ہے حساب ہو گا"۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے آصف زرداری،فریال تالپور، اومنی گروپ، اور ملک ریاض کے اکاوئنٹ منجمند کرنے کا حکم دیا- جے-آئی-ٹی نے مزید یہ بھی بتایا کہ 1.5 ارب روپے اومنی اکاونٹ کے ذریعے فریال تالپور کے بنیک اکاونٹ میں ٹرانسفر کیے گئے اور بلاول کے اکاونٹ میں بھی پیسے ٹرانسفر کیے گئے یہاں سے پیسا دبئی جاتا اور پھر زرداری کے اکاونٹ میں جاتا۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا تھا کہاں ہیں ایان علی؟ ہائے!-

صاف معلوم ہوتا ہے کہ سندھ کے غریب لوگوں کا پیسہ بےدردی کے ساتھ لوٹا گیا اور وزیراعلی سندھ ملوث پائے گئے ہیں اور لگتا ہے آرٹیکل 62 کا شکار ہو جائیں گے سندھ کے وزیراعلی، اور اگر دیکھا جائے تو زرداری صاحب پر صاف صاف آرٹیکل 62 کا کیس بنتا ہے اور زرداری صاحب فارغ ہو جائیں گے بڑھی بےدردی کے ساتھ قوم کا پیسا لوٹا گیا 32 جعلی اکاوئنٹ پکڑے گئے ہیں اور رقم ہے 4،2373 ملین جن بینک میں پیسے پکڑے گئے ہیں وہ یہ ہیں-

Summit Bank=15 account

UBL Bank=08 account

Sindh Bank=07 account

MCB Bank=01 account

Faysal Bank=01 account

عمیر جو کہ آفس بوائے ہے اومنی گروپ کا اس کے 7 بینک اکاوئنٹ نکل آئے، اقبال جو کہ سینٹری ورکر ہے بینک کا اور وفات پا چکا ہے اس کے 4 اکاوئنٹ نکل آئے ہیں اشرف صاحب جو کہ اومنی فروپ کہ ملازم ہیں ان کے 5 اکاوئنٹ سامنے آ گئے ہیں،طارق سلطان کے 5 اکاوئنٹ سامنے آ گئے ہیں، قاسم جو کہ اومنی گروپ کا ہی ملازم ہے اس کے 3 جعلی اکاوئنٹ سامنے آئے ہیں، ارم بی بی جو کہ گھریلو خاتون ہیں ان کا ایک جعلی اکاوئنٹ نکل آیا ہے، عدنان جواد کو کہ مکینک ہے اس کے 3 اکاوئنٹ سامنے آ گئے ہیں، قادر فالودے والا ان کا ایک جعلی اکاوئنٹ نکل آیا ہے، رشید رکشے والے کا بھی ایک جعلی اکاوئنٹ نکل آیا ہے عرفان صاحب کا بھی ایک جعلی اکاوئنٹ نکل آیا ہے اور ان تمام اکاوئنٹ سے پیسے زرداری اور اومنی گروپ کو ٹرانسفر ہوئے ہیں جے-آئی-ٹی نے سپریم کورٹ سے نیب کو کیسز بجوانے کی استدا کر دی ہے پہلا کیس سمت بینک کا جس سے بہت سارا پیسا باہر بھیجا گیا ہے تقریبا 15 اکاوئنٹ ہیں اس بینک میں اور اس کےعلاوہ اس بینک کی برانچ کا مینجر براہ راست ملوث پایا گیا ہے جو اپنی صوابدید پر ہی اکاوئنٹ اوپن کر دیتا تھا اور بھی بہت سے معملات ہیں جن کی نشاندہی کی ہے دوسرا کیس اومنی گروپ کے 53.53 بلن لون کا ہے اور اس لون سے 10.90 بلن زرداری کو دیا گیا تھا پوچھا جائے کیوں دیا گیا اور جو کمپنی بنائی گئیں وہ ہیں 2000 میں اومنی،2001 میں نوڈیرو شوگر مل،2002 میں ریگرٹ سروسز،2004 میں کمپنی 2005 میں اومنی پولمر ان کے متعلق پوچھا جائے اتنے سے وقت میں کیسے سب ہو گیا ایک اور کیس داڈو شوگر مل کا پیسے کہاں سے آئے ایک اہم بات ان 12 جعلی اکاوئنٹ سے زارداری کی پارک لین فرم کی کمپنی پراتھنن کو 357.7 ملن ٹرانسفر کیے گئے اور 266 ملن ملک ریاض کی بحریہ ٹاون کے اکاوئنٹ سے ٹرانسفر کیے گیے- پارک لین میں آصف زرداری 25٪ مالک ہیں بلاول بھی 25٪ مالک ہیں اور زرداری کے فرنٹ مین کے والد رحمت حبیب 12.5٪ اور یونس خداوئی 12.5 ٪ کے مالک ہیں اور پارک لین جائیداد ذرداری نے بےنیظیر کے پہلے دور حکومت میں قائم کی یعنی 1989 میں قائم کی اس جیسے بےشمار انکشاف ہوئے ہیں جو رونگٹے کھڑے کر دیتے ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ آصف زرداری شور مچا رہے ہیں کیونکہ عمران خان Imran Khan کسی کو بھی رعایت نہیں دے رہے-

 207