ڈرائیونگ لائسنس

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

02 فروری 2019

driving licence

یہ لائسنس کسی بھی موٹر وہیکل رکھنے والوں کے لیے بہت ضروری ہوتا ہے اور ہمارے ملک میں آرام سے جعلی لائسنس بن جاتا ہے۔ زیادہ تر ڈرائیورز حضرات نے پیسے بھر کر بنوایا ہوتا ہے۔البتہ پڑھے لکھےذمے دار شہری جعل سازی کی بجاے مکمل پراسس کے ساتھ بنواتے ہیں۔

میرے علم میں نا تھا کہ ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کا کیا پراسس ہوتا ہے ۔

اس بار بھائی اور کزن کی بدولت مجھے تفصیلی طور پر علم ہوا کہ یہ کتنے اہم مراحل سے گزر کر بنتا ہے۔آئیے آپ کو بھی اس معلومات سے واقف کردیں ۔۔شاید کچھ لوگوں نے بنوانا ہو اور انکا بھلا ہی ہوجاے۔

چند دن پہلے بھائی اور کزن اس لائسنس کو بنوانے کے لیے خدمت مرکز پہنچے۔وہاں سے ان کو "لرنر " سرٹیفکٹ ملا جس میں ان کو گاڑی ڈرائیو اور سیکھنے کی اجازت ملی اور مزید ہدایات

۔۔دو دن بعد یہ لوگ بن ٹھن کے اچھی سی تصویریں بنوا کر پہنچ گئے۔جو انھوں نے دیکھتے ہی ریجکیٹ کردیں کہ ہم خود بنائیں گیں۔ اور ایک تھکے ہوئے کیمرے سے ان کی تصویریں لیں جب ڈیولپ ہو کے آئیں بھائی جتیندر لگ رہا اور کزن بونی کپور لگ رہا تھا۔ یہ دونوں سخت کبیدہ خاطر ہوئے۔پہلے آئی ڈی کارڈ والی تصویر پر ہی شرمندہ تھے اب مزید بد تر رزلٹ اس کیمرے کا تھا۔۔ان کو چند دن بعد آنے کو کہا گیا کہ جناب وائیوا اور پریکٹیکل ہوگا آپ لوگ پیپر دینے آجانا۔۔

اب ڈرائیونگ میں کیونکہ یہ لوگ خود کو بے تاج بادشاہ سمجھتے تھے لہذا کوئی خاص پریشانی نا لی ٹیسٹ کی۔بھائی نے نیٹ پر کچھ سائن دیکھ لیے اور بس۔ البتہ کزن نے کوئی تیاری سرے سے نا کی ۔کیونکہ وہ دفتر میں کسی سے ڈیل کر چکا تھا کہ پیسے بھر کر پاس ہو جاے گا۔۔

پیپر کا دن آن پہنچا یہ دونوں صبح روانہ ہوگئے۔شام کوئی پانچ بجے کے قریب ان کی واپسی ہوئی دونوں کے منہ اترے ہوئے۔۔میں نے پیپر کے متعلق سرسری سا دریافت کیا۔۔

بھائی سےپہلے کزن بول پڑا "فیل تھی گئے توہاڈا لایق فائق بھائی تے منہ کالا کروا کے اساں دونوں آگئے آں"

ہم سب نے حیرانگی سے بھائی کو دیکھا "واٹ؟؟؟؟؟"

بھائی شکل سے صدماتی کیفیت کا شکار لگ رہا تھا ۔۔شرمندگی سے بولا "ہاں یار۔۔۔فیل کردیا "

میں نے سوال کیا " ایسا کیا تھا کہ تم فیل ہوگئے؟؟ پوزیشن ہولڈر بندے سے توقع نا تھی کہ ایسے چھوٹے سے پیپر میں فیل کیسے ہوا۔

کزن نے اس کے کندھے کو دھموکا دیا۔"ہنڑ ڈس کیا تیر مار آیا ایں انہاں نوں وی ڈس"

خونخوار نظروں سے اس کو دیکھتا ہوا جھجھکتے ہوے گویا ہوا۔۔ابو جی پیپر مشکل تھا سمجھ ہی نا آیا "100 میں سے 80 والا پاس ہوتا ہے اور میرے 70 نمبر آئے۔

ابو ہنس دیے"مثلاً کیا تھا اس پیپر میں؟؟

"یار ابو عجیب سے سوال تھے۔۔پہلا سوال یوں تھا کہ سورج غروب ہونے سے کتنی دیر بعد لائٹ جلاوگے ۔اب اس کے آپشن تھے پندرہ منٹ ،بیس منٹ ، تیس منٹ ، اب ابو جی یہ تو مجھ پر ڈپینڈ کرتا ہے نا جب مجھے اندھیرا محسوس ہوگا چلا لونگا۔لیکن میں نے تکے سے پندرہ منٹ لگایا انہوں نے غلط کردیا ۔۔ ایک اور آپشن تھا "مجھے نہیں معلوم " میں ہنس پڑی اور بولی "اس پر ٹک لگاتے شرم آتی تمکو "

دوسرا سوال ملاحظہ کریں ۔ایک 36 ویلر ٹرالے سے کتنے فاصلے پر رہنا چاہیے دس فٹ، پندرہ یا آٹھ ۔۔اب ابو جی سردیوں میں یہی ٹرالے تو نعمت ثابت ہوتے ہیں۔۔اب مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا جواب لگاوں تو میں نے تکے سے آٹھ فٹ لگایا جو انہوں نے غلط کردیا ۔۔ابو اس بار قہقہہ مارتے ہوے بولے "بیٹا یہ لکھ دیتے کہ مجھے پتہ ہوتا تو چند مہینے پہلےکھڑے ہوئے ٹرالے کےپیچھے گاڑی نا ٹھوک دیتا ۔۔ہم سب کا قہقہہ ساتھ میں گونجنے لگا بھائی جزبز ہوکر شرمندگی سے وضاحت دی "ابو اس دن تو مجھے بخار تھا اور سر درد اس لیے یوں ہوا "

میں نے لقمہ دیا "چلو یہ بھی ساتھ میں لکھ دیتے کہ میں بخار اورسردرد میں ٹھوک دیتا ہوں ویسے بڑا اچھا ڈرائیور ہوں"اس نے مجھے گھورا ہم نے پوچھا اچھا اگلا سوال کونسا غلط ہوا۔

بولا یار سائینز بھی عجیب سے تھے ۔۔ایک دو وہاں سے بھی غلط ہوے۔ایک کراس بنا ہوا تھا میرا دل چاہا لکھ دوں "کراس پانا" لیکن ابو واقعی میں پتہ نا تھا کہ یہ کیا ہے۔۔چائے کا کپ بنا ہوا تھا۔پہلے لکھنے لگا "ڈھابہ " پھر کاٹ کر ریسٹورنٹ لکھا ۔تو اسی لیے بس فیل ہوگیا۔۔اس نے شرمندگی سے سر جھکا لیا۔۔ابو نے تسلی دی۔۔کوئی بات نہیں ایک ڈیڑھ مہینے بعد دے دینا پیپر مکمل تیاری کے ساتھ۔۔

اب کزن کی طرف متوجہ ہوئے ہاں بھئی اب تم اپنا "منہ کالا " سناو۔۔یہ ڈھٹائی سے ہنسنے لگا ۔۔

یار انکل کیا پوچھتے ہیں رل گیا میں تو ۔۔وہاں جا کے اپنے مطلوبہ بندے کو بڑا ڈھونڈا بے غیرت پتہ نہیں کہاں غائب ہوگیا میں ادھر ادھر ٹہلتا رہا اس کو بار بار کال ملا رہا لیکن نمبر بند جا رہا ۔۔لوگ آہستہ آہستہ کم ہونے لگے میری بد قسمتی کہ ڈی ایس پی صاحب تشریف لائے وزٹ کے لیے۔ہم سے پوچھا کوئی پریشانی تو نہیں۔۔ ہم نے نفی میں سر ہلایا ۔مجھ سے پوچھا پیپر دے دیا ۔۔؟ میں نے تھوک نگل کر نفی میں سر ہلایا "نہیں سر ابھی نہیں ملا پیپر "

ڈی ایس پی نے عملے کو ڈانٹا کہ بچے سے اب تک پیپر نہیں لیا ۔۔اور مجھے لے کر آفس آگئے۔آو بیٹا آپ آفس میں پیپر دے دو۔اب میں مرتا کیا نا کرتا ڈی ایس پی کی تقلید میں پہنچا ۔۔کچھ دیر میں جناب پیپر آگیا ۔میں نے تیاری کی ہوتی تو پرچہ حل کرتا ۔لہذا میں نے ڈی ایس پی صاحب سے ریکویسٹ کی کہ باہر پین لینے جانا ہے ۔۔بولے "میرا لے لو"

میں نے روہانسا ہوکر کہا نہیں سر میں اپنے پین سے لکھنے کا عادی ہوں۔۔انہوں نے اجازت دی میں وہاں سے سیدھا نکلا رکشہ پکڑا ۔سارا راستہ مڑ مڑ کے دیکھتا آیا کہ ڈی ایس پی صاحب نا آرہے ہوں۔۔ اور اب آپ لوگوں کے سامنے ہوں ۔ اور ہم اس کی روداد سن کر ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوتے رہے۔۔

اب یہ ایک دوسرے کو طعنے دینے لگے بھائی بولا" یہ تو اتنا نکما ہے اس کو ایک ساِئن بھی نہیں آتا"

آگے سے کزن تنک کر بولا "تم نے تو ہفتہ یاد بھی کیے تو تم کونسا پاس ہوگئے؟؟"

بڑا بھائی بولا بڑے آئے دونوں قابل فاضل ۔۔دیکھ لو میں نے ایک ہی اٹیمپٹ میں پاس کر لیا تھا۔۔" چھوٹا مزید اداس ہوا مجھ سے رہا نا گیا۔۔تو بڑے کو جھاڑا" ہاں بڑے جی تم "فاسٹ اینڈ فیورس " کے ڈرائیور ہو ۔اپنا وقت بھول گئے جب تم نے سڑک کنارے بیٹھے اونٹ پر ناگہانی آفت بن کر گاڑی چڑھا دی تھی اور وہ تو تمہاری قسمت اچھی تھی کہ اونٹ بچ گیا ورنہ اگلے تمہاری ٹانگیں بھی توڑتے اور تم گاڑی بیچ کر اونٹ لے دیتے ان کو۔۔"بڑا سخت بدمزگی سےمجھے دیکھنے لگا "اچھا مرا تو نہیں تھا نا اونٹ۔۔۔"

"تم نے تو کوئی کثر نا چھوڑی تھی اونٹ کی زندگی باقی تھی" میں نے بھی جوابی وار کیا۔۔

کمرہ سب کے قہقہوں سے بھر گیا ۔۔یہ دونوں البتہ 45 دن۔بعد پھر جائنگیں پیپر دینے اور دیکھتے ہیں کیا گل کھلائینگے

 226