پاک بحریہ کی امن مشقیں ‘لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک اور ایک - منیر احمد بلوچ

02 فروری 2019

pak behria ki aman mashqen' lekin. .. .. .. .

پاکستان Pakistan ایک بار پھر فروری کے دوسرے ہفتے کے آغاز میں'' امن19‘‘ کے نام سے دو روزہ سمندری مشقوں کی میزبانی کر رہا ہے ۔2007ء سے پاکستان Pakistan کی میزبانی میں جب ان مشقوں کا آغاز ہوا تو بنگلہ دیش‘ چین‘ فرانس‘اٹلی‘ ملائیشیا Malaysia ‘ برطانیہ‘ اور امریکی نیول فورسز کے14 جہاز وں نے حصہ لیا‘ جبکہ21 ممالک بطور مبصر شریک ہوئے۔ 2009ء میں ہونے والی امن مشقوں میں23 جہاز اور13 ائر کرافٹ تھے ۔ رفتہ رفتہ دنیا کے بہت سے دوسرے ممالک نے بھی ان مشقوں میں دلچسپی لینا شروع کر دی اور نتیجہ یہ نکلا کہ گزشتہ برس جب یہ مشقیں کی گئیں تو پاکستان Pakistan کی پالیسیوں سے اتفاق کرنے والے35 ممالک کی نیول فورسز اس امن مشق میں شرکت کیلئے کراچی پہنچیں ۔ اتنی بڑی تعداد کا شمولیت اختیار کرنا کسی بھی ملک کیلئے ایک اعزاز ہے اور یہ سب اسی وقت ممکن ہو تا ہے جب کسی بھی مہمان ملک کو اس ملک کی سکیورٹی اور پالیسیوں سے مکمل اتفاق ہوتا ہے۔ ان امن مشقوں کے ذریعے پاکستان Pakistan دنیا کو واضح پیغام دے رہا ہے کہ وہ کسی سے جنگ نہیں چاہتا‘ وہ اپنی حدود‘ اپنے خطے اور دنیا بھر میں امن کا خواہاں ہے۔ اس کے کوئی جنگی منصوبے نہیں ‘وہ کسی بھی ملک پر قبضہ یا اسے نقصان پہچانے کا خواشمند نہیں ہے‘ سوائے اس کے کہ اپنی سرحدوں اور حدود کی حفاظت کیلئے وہ اپنی فوج کو ہمہ وقت تیار رکھنے پر مجبور ہے‘ کیونکہ اس کا واسطہ ایک ایسے دشمن ملک سے ہے جو بد قسمتی سے اس کا سب سے قریبی ہمسایہ ہے‘بلکہ جس کی جارحیت کا بار بار نشانہ بھی بنتا چلا آ رہا ہے۔

عالمی رائے عامہ بخوبی جانتی ہے کہ پاکستان Pakistan کا بھارت India جیسے بڑے اور طاقتور دشمن کا مقابلہ کرنے کیلئے خود کو ہر طرح سے تیار رکھنا انتہائی ضروری ہے اور یقینایہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان Pakistan کی عالمی امن کیلئے کی جانے والی کوششوں سے اتفاق کرتے ہوئے ان سمندری مشقوں میں دلچسپی لیتے ہیں ۔یہ نیوی کی مہارت اور کارکردگی کا ثبوت ہے کہ وہ ان امن مشقوں کے بہترین اور کامیاب انعقاد کیلئے دنیا کی نظروں میں پاکستان Pakistan اور اس کی چھوٹی سی نیوی کا ایک بہترین فورس کی حیثیت سے پہچان کا باعث بن رہی ہے۔ان امن مشقوں میں شرکت کیلئے جاپانی بحریہ کے دو P3C ائر کرافٹ کراچی پہنچ چکے ہیںاور امید کی جا رہی ہے کہ چالیس ممالک ان امن مشقوں میں شرکت کیلئے اگلے چند روز میں کراچی پہنچ جائیں گے۔

ان امن مشقوں میں شرکت کیلئے مغربی اور مشرقی ممالک کی اکثریت Together For Peaceکے بینر تلے اکٹھے ہو کر اپنے شہریوں اور دنیا بھر کو پیغام دیتی ہے کہ جو مسرت امن میں ہے وہ جنگی جنون اور جنگ میں نہیں۔ اگر پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں سات کروڑ سے زائد انسانوں کی ہلاکت اور پانچ کروڑ لوگوں کے زخمی اور زندگی بھر کیلئے اپاہج ہو نے کی تفصیلات دیکھیں تو ان جنگوں میں ہونے والی تباہی اور بربادی کا انجام ایک فریق کی شکست کی صورت میں ہوا اور فاتح قوم کی مرضی سے طے کئے گئے امن معاہدے کی صورت میں ہی یہ ختم ہو ئیں۔ جب انجام لڑنے جھگڑنے کے بعد امن معاہدہ ہی ہوتا ہے تو کیوں نہ تنازعات کو جنگ کی بجائے باہمی بات چیت کے ذریعے طے کر لیا جائے؟

پاکستان Pakistan اور بھارت India کے درمیان مسئلہ کشمیر Kashmir Issue پر اب تک تین جنگیں اور لاتعداد جھڑپیں ہو چکی ہیں ‘جن کے نتیجے میں دونوں اطراف سے بھاری جانی اور مالی نقصانات ہو ئے ہیں‘ جسے دونوں ممالک تسلیم بھی کرتے ہیں اور ان جنگوں اور جھڑپوں کے بعد پاکستان Pakistan اور بھارت India نے طاقتور عالمی رہنمائوں کے دبائو کے بعد اپنی اپنی فوجیں واپس اپنی حدود میں لے جانے کیلئے امن معاہدے ہی طے کئے ہیں‘ تو پھر کیوں نہــ امن کو فتح تسلیم کرتے ہوئے پاکستان Pakistan اور بھارت India نتیجہ خیز مذاکرات کیلئے ایک میز پر بیٹھ جائیں؟ امریکہ United States اکتوبر 2001ء میں القاعدہ اور طالبان پر قابو پانے کیلئے افغانستان Afghanistan میں داخل ہو اور 17 برس تک افغانستان Afghanistan کے ہر گائوں‘ ہر گلی اور ہر بازار میں خون اور بارود کے بعد نتیجہ ' قطر میں امن مذاکرات ‘‘کی صورت میں طالبان سے بھیک مانگنے کی صورت میں نکلا۔ اس معاہدے میں امریکہ United States نے قبول کیا کہ وہ اٹھارہ ماہ کے اندر افغانستان Afghanistan سے اپنے فوجی واپس لے جائے گا۔

آج کی دنیا میں جینے کیلئے سمندر انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں اور ثابت ہوتا جا رہا ہے کہ آئندہ کوئی بھی جنگ سمندروں میں ہی لڑی جائے گی اور شائد یہی وجہ ہے کہ'' میری ٹائم سکیورٹی‘‘ کسی بھی ملک اور اس کی نیول فورسز کیلئے سب سے اہم ہو چکی ہے۔پاکستان Pakistan کی Geo-Strategic Locationاس کیلئے ایک نعمت سے کم نہیں‘ ورنہ پاکستان Pakistan کے وجود میں آتے ہی جس طرح بھارت India اور اس کی شہ پر افغانستان Afghanistan نے پاکستان Pakistan کو روندنے کی کوششیں کیں‘ ان کو روکنا انتہائی مشکل تھا۔ یہ جغرافیائی محل وقوع ہی ہے جس نے پاکستان Pakistan سے کسی بھی طریقے سے منسلک ممالک کو محسوس کرا دیا کہ اگر پاکستان Pakistan ان کے درمیان میں یا سرحدوں کے ذریعے ان کے ساتھ منسلک نہ رہاتو ان کیلئے بہت سی پریشانیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ پاکستانی بحریہ کے چیف ایڈمرل ظفرمحمود عبا سی کا کہنا درست ہے کہ اﷲ کی عطا کی گئی اس سمندری ساخت پر اس کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے کہ یہ Crossroads Of World Energy Routes بے شک اس وقت بحیرہ عرب بین الاقوامی تجارتی گزرگاہوں کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور پاکستانی بحریہ بھر پور کوششوں اور مہارت کی وجہ سے '' میری ٹائم سکیورٹی ‘‘ کی وجہ سے خطے میں انتہائی اہمیت اختیار چکی ہے۔

پاکستان Pakistan تواپنی امن پالیسی پر قائم چلا آ رہا ہے جبکہ بھارت India کے حال ہی میں منظور کئے گئے فوجی منصوبے خطرات کی نشاندہی کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ رافیل طیاروں کے علا وہ بھارت India فرانس سے 10 ارب بھارتی Indian روپے کے جدید ترین اور تباہ کن 300 MILAN 2T ٹینک شکن میزائل خریدنے جا رہا ہے ۔ ایک جانب پاکستان Pakistan اور چین China نیول فورسز کے ساتھ امن مشن کی کامیابی کیلئے کوشاں ہیں تو دوسری جانب بھارت India چین China کی بحریہ کے جہازوں کو نشانہ بنانے کیلئے امریکہ United States سے ایک ہزار میل تک مار کرنے والےSUPER GUNS حاصل کر رہا ہے ۔ جنوبی چین China کی سمندری حدود میں چینی بحریہ کو نشانہ بنانے کیلئے بھارت India کے پاس بلا شبہ یہ ایک انتہائی مہلک ترین ہتھیار ہو گا۔ خطے میں کل کو ہونے والی کسی بھی جنگ میں وہی کامیاب ہو گا جو سمندروں پر اپنا کنٹرول بر قرار رکھ سکے گا‘ اگر چین China سے تائیوان‘ سوڈان‘ انڈو نیشیا‘ فلپائن اور بھارت India کی نیول فورسز کی تیاریاں سامنے رکھیں تو جنگ کیلئے آپریشن روم کا نقشہ کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں۔

کیا پاکستانی بحریہ اور ہمارے وزیر اعظم Prime Minister ‘ وزیر خزانہ کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہئے کہ بھارت India نے امریکہ United States اور مغرنی ممالک سے جو اسلحہ چین China کے خطرے کی دہائیاں دیتے ہوئے اکٹھا کیا تھا وہ پاکستان Pakistan کے ساتھ بھارت India کی ہر جنگ میں بھر پور طریقے سے استعمال ہوا اور ہماری حکومتیں دنیا کو یہ بتا ہی نہ سکیں کہ روس Russia کی صورت میں اس وقت کی سب سے بڑی کمیونسٹ طاقت جو امریکہ United States اور مغرب سمیت چین China کیلئے بھی سب سے بڑا خطرہ تھی‘ کشمیر کے مسئلے پر ہر لمحے سکیورٹی کونسل اور اقوام متحدہ میں پاکستان Pakistan اور کشمیریوں کے خلاف بھارت India کی مدد کیلئے ویٹو کے اختیارات اور اسلحے کے ڈھیر لگا رہی تھی!

 140