گاڑی بیچیں‘ سزائیں بھگتیں!

gaari bechen' sazayen bhgtin !

سانحہ ساہیوال سے ایک نکتہ یہ برآمد ہوا کہ اگر آپ اپنی استعمال شدہ گاڑی کسی کو فروخت کرتے ہیں اور وہ شخص وہ گاڑی اپنے نام پر منتقل نہیں کرواتا تو پھر آپ ایک ایسے ناکردہ جرم میں پھنس سکتے ہیں جس سے آپ کا دُور دُور کا بھی تعلق نہ ہو۔ آپ کی وہ گاڑی‘ جسے آپ عرصہ پہلے فروخت کر چکے ہیں‘ اگر اوپن لیٹر پر چلتی ہوئی کئی ہاتھوں میں فروخت ہونے کے بعد کسی جرم میں استعمال ہو جاتی ہے‘ تو پھر آپ کو تھانے کچہری کی پیشیاں بھگتنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔

پاکستان ( Pakistan )میں استعمال شدہ گاڑیوں کی خریدوفروخت کا رواج عام ہے۔ ملک بھر میں پرانی گاڑیوں کے اتوار بازار لگتے ہیں‘ جہاں گاہک کم قیمت کی گاڑی کی تلاش میں آتے ہیں۔ گاڑیوں کی خریدوفروخت کی کئی موبائل ایپلی کیشنز بھی ہیں‘ جہاں سے عوام گاڑی کی تصاویر اور دیگر معلومات حاصل کرتے ہیں‘ اور متعلقہ شخص کے گھر یا شوروم سے جا کر گاڑی خرید لیتے ہیں۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب گاڑی خریدنے والا گاڑی اپنے نام کرانے کو تیار نہیں ہوتا اور فروخت کنندہ خطرے کی سولی پر لٹک جاتا ہے۔ اس کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ مثلاً یہ کہ گاڑی اگر فرسٹ ہینڈ ہے تو اسے اس لئے ٹرانسفر نہیں کیا جاتا کہ دوسرے خریدار کے نام پر رجسٹر کرانے کے بعد گاڑی کی دوبارہ فروخت کے وقت قیمت قدرے کم ہو جائے گی۔ دوسری وجہ وہ ڈیلر مالکان ہیں جو گاڑی آگے بیچنے کے لئے خریدتے ہیں۔ تیسری وجہ وہ لوگ ہیں‘ جو گاڑی تو خرید لیتے ہیں لیکن ایف بی آر اور متعلقہ اداروں سے بچنے کے لئے اپنے نام نہیں لگواتے کیونکہ اس طرح اس کا شمار ان کے اثاثوں میں ہو جائے گا۔ ایسے لوگ اپنے ملازمین کے ناموں پر گاڑیاں نکلوا لیتے ہیں۔ ایک عجیب کام یہ بھی ہو رہا ہے کہ تین بڑی کار کمپنیوں میں چھوٹے بڑے سرمایہ کار زیرومیٹر نئی گاڑیاں بُک کرا لیتے ہیں لیکن اس کے لئے وہ شناختی کارڈ بونیر‘ دیر‘ سوات اور اس جیسے دور دراز علاقوں کے لوگوں کا استعمال کرتے ہیں۔ یہ کام بھی ٹیکس سے بچنے کے لئے کیا جاتا ہے۔ حیرت ہے کہ ایف بی آر نے اس پر ابھی تک کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا۔ اس طرح کروڑوں کا ٹیکس چوری کیا جا رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سرمایہ کار یہ گاڑیاں اجنبی ناموں پر بُک کرواتے ہیں اور ساتھ میں پریمیم یا اون الگ سے وصول کرتے ہیں۔ جو لوگ چار چھ ماہ گاڑیاں بُک کروا کر انتظار نہیں کر سکتے‘ وہ فوری ڈلیوری کے لئے دو تین لاکھ روپے اون دینے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ اس طرح صرف نئی گاڑی کی رجسٹریشن کروا لی جاتی ہے‘ لیکن پرانی گاڑی اوپن لیٹر پر کئی کئی ماہ بلکہ کئی سال تک چلتی رہتی ہے۔ محکمہ ایکسائزسے ڈیٹا نکلوایا جائے تو علم ہو گا کہ کس طرح لوگ دس دس برس سے اوپن لیٹر پر گاڑیاں چلا رہے ہیں۔ اس کا نقصان اس وقت معلوم ہوتا ہے جب وہ گاڑی کسی واردات میں استعمال ہوتی ہے‘ اور سب سے پہلے پولیس انویسٹی گیشن کے لئے گاڑی کے اسی مالک کو اندر کرتی ہے جس کا پتہ اور نمبر رجسٹریشن کاپی پر لکھا ہوتا ہے۔ وہ بے چارا لاکھ دہائیاں دیتا رہے کہ وہ گاڑی کب کا فروخت کر چکا ہے لیکن اسے اس وقت تک شامل تفتیش رکھا جاتا ہے جب تک گاڑی کے تازہ ترین مالک کا سراغ نہیں مل جاتا۔ اس مقصد کے لئے وہ گاڑی کی فروخت کی دستاویز بھی دکھاتا ہے لیکن اس سب کے باوجود اس کا اچھا خاصا وقت ضائع کیا جاتا ہے اور اسے تھانوں میں بلا کر خوار کیا جاتا ہے۔ اوپن لیٹر پر گاڑی کی خریدوفروخت کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ ایک گاڑی اگر چار برس میں چار مرتبہ فروخت ہوتی ہے تو حکومت کو اس حوالے سے ایک آنہ بھی ٹیکس وصول نہیں ہوتا۔

بدقسمتی سے ہم لوگ سانحات کے بعد بھی سیکھنے میں بڑی دیر لگاتے ہیں۔ دس پندرہ برس قبل جب مشرف دور میں یہاں تین چار موبائل کمپنیاں لانچ ہوئیں تب بھی سکیورٹی کے انتہائی بنیادی اصولوں کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا جس کا نتیجہ بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی صورت میں سامنے آیا۔ کسی بھی واردات میں تین چار چیزیں استعمال ہوتی ہیں۔ موبائل سم‘ گاڑی‘ اسلحہ اور انسان۔ ہم نے موبائل سموں‘ اسلحہ اور انسانوں کی رجسٹریشن کے لئے تو کچھ کام کر لیا لیکن گاڑیوں کو محفوظ کرنا ضروری نہ سمجھا۔ اسی طرح نائن الیون کے بعد ہم نے امریکہ ( United States ) کا ساتھ دینے کا فیصلہ تو کیا لیکن ایک عرصے تک یہاں پر موبائل سمیں بھی ریڑھیوں پر بغیر شناختی کارڈ اور بغیر بائیومیٹرک کے فروخت ہوتی رہیں۔ ایک ایک شخص کے نام پر بیس بیس سمیں رجسٹر ہوئیں۔ دہشت گردوں نے اس کا خوب فائدہ اٹھایا۔ وہ ایک سم لیتے‘ دہشت گردی میں استعمال کرکے پھینک دیتے اور اگلی مرتبہ نئی سم لے لیتے۔ جب ہم نے ہزاروں جانیں گنوا دیں تب ایک عشرے بعد جا کر خیال آیا کہ جعلی موبائل سمیں بند کی جائیں اور نئی و پرانی سمیں بائیومیٹرک نظام کے تحت فعال کی جائیں۔ یہ فیصلہ بھی بڑی دیر بعد کیا گیا کہ ایک شخص پانچ سے زیادہ سمیں نہیں رکھ سکتا۔ سوال یہ ہے کہ اگر پچاس روپے کی ایک موبائل سم کو زیر استعمال شخص کے نام پر رجسٹر کرانا لازمی ہے اور اس شخص کو خود دفتر جا کر انگوٹھا لگانا پڑتا ہے چاہے وہ ملک کا صدر ہو یا بزنس مین‘ تو پھر کروڑوں کی مالیت کی گاڑیاں پرانی رجسٹریشن اور اوپن لیٹر پر انجان لوگوں کے ہاتھوں میں چلنے کی اجازت کیوں دی جا رہی ہے؟ کیا اس کا حل تب نکالا جائے گا جب کوئی پہلے سے بڑا سانحہ ہو جائے گا؟ ہر انسان کے لئے جس طرح شناختی کارڈ ‘ ڈرائیونگ لائسنس نمبر‘ اسلحہ لائسنس نمبراور منفرد موبائل نمبر کی بائیومیٹرک رجسٹریشن لازمی ہے تو پھرگاڑی بھی اسی کے نام پر رجسٹر ہونی چاہیے جو استعمال کر رہا ہے یا جسے فروخت کی جا چکی ہے۔ میرے اپنے بھائی نے گزشتہ برس اپنی گاڑی فروخت کی۔ بارہا خریدار سے کہا گیا کہ وہ اسے اپنے نام کرا لے لیکن چونکہ وہ فرسٹ ہینڈ تھی اس لئے آگے سے آگے منافع کے لئے فروخت ہوتی رہی۔ لاہور میں دو مرتبہ فروخت ہونے کے بعد ایک شخص اسلام آباد ( Islamabad )سے آ کر لے گیا۔ اس سے رابطہ کرکے کہا گیا کہ وہ اپنے نام کرا لے تو اس نے کہا کہ اس نے تو گاڑی آگے بیچ دی ہے اور مردان کا کوئی رہائشی لے گیا ہے۔ اب گاڑی مردان میں ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ گاڑی کسی جرم میں استعمال ہو گئی تو پولیس نے تو سب سے پہلے ایکسائز سے ریکارڈ مانگنا ہے جہاں صرف پہلے مالک کا نام درج ہو گا۔ اس قدر بوگس نظام کے ساتھ ہم کیسے دہشت گردی کو جڑ سے ختم کر سکتے ہیں؟ انہی کمزوریوں کے باعث آئے روز دہشت گردی کے واقعات سر اٹھاتے رہتے ہیں۔ پرانی گاڑی کی ٹرانسفر پر بھی ویسے ہی اصول لاگو ہونے چاہئیں جیسے نئی گاڑی پر۔ حکومت ایسا میکانزم بنائے جس کے تحت فروخت کنندہ گاڑی بیچنے کے بعد بری الذمہ ہو جائے اور خریدار چاہے وہ ڈیلر ہو یا اصل گاہک‘ اسے ایک مرتبہ ضرور رجسٹر کیا جائے۔ ضروری نہیں اس کے لئے کوئی بہت زیادہ پیچیدہ عمل اختیار کیا جائے کہ آج انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں ہر کام کم وقت اور سہل انداز میں ہو سکتا ہے۔ جس طرح تعلیمی ڈگری کی تصدیق وغیرہ کے لئے ہائر ایجوکیشن کا آن لائن پورٹل کام کرتا ہے اور آپ اپنی دستاویزات اس پر اپ لوڈ کر دیتے ہیں‘ اسی طرح کا آن لائن پورٹل پرانی گاڑیوں کی خرید و فروخت کے لئے بھی بنایا جا سکتا ہے‘ جہاں فروخت کنندہ اپنے شناختی کارڈ نمبر سے لاگ اِن ہو کر خریدار اور گاڑی کی تفصیل کا اندراج کر سکے۔ یہ پورٹل ایکسائز کے حکام کی زیر نگرانی کام کرے‘ اور جہاں سے خریدار کو خودکار طریقے سے پیغامات دئیے جائیں کہ وہ اگلے تیس دنوں میں گاڑی اپنے نام ٹرانسفر کروا لے‘ وگرنہ اس کے بعد ٹرانسفر فیس کئی گنا بڑھ جائے گی۔ یہ بھی ضروری ہے کہ حکومت تمام کار ڈیلرز کا آن لائن اندراج کرے‘ یہ ڈیلر اگر کوئی گاڑی آگے فروخت کرنے کے لئے خریدیں تو اس کی عارضی ٹرانسفر اس ڈیلر کی کمپنی کے نام پر کی جائے‘ اور جب وہ ڈیلر وہ گاڑی آگے گاہک کو فروخت کرے تو دونوں کا آن لائن اندراج کروایا جائے۔ اس طرح حکومت کو پرانی گاڑیوں کی ٹرانسفر کی مد میں معقول رقم بھی حاصل ہو گی‘ گاڑی کی تاخیر سے ٹرانسفر یا عدم منتقلی کے رجحان کی حوصلہ شکنی بھی ہو گی اور جرائم اور دہشت گردی کو بھی جڑوں سے اکھاڑا جا سکے گا۔

 110