Let's Kill Gandhi

آخر کیوں - رؤف کلاسرا

01 فروری 2019

Let's Kill Gandhi

30 جنوری 2019ء کو بھارت India کے شہر علی گڑھ میں ایک خاتون پوجا شوکن کو ہاتھ میں پستول پکڑے گاندھی جی کی برسی کے موقع پر ان کے پتلے پر گولی چلاتے اور آگ لگاتے دیکھ کر 30 جنوری 1948ء کے دن والی نتھورام کی بیوی یاد آئی‘ جو اپنے خاوند کو پونے ریلوے سٹیشن پر اپنی چار ماہ کی بیٹی کے ساتھ الوداع کرنے آئی تھی۔ ستر سال بعد بھی گاندھی کو دوبارہ قتل کرنے کی خواہش ایک خاتون میں ابھری‘ جس کی اس نے ویڈیو بنا کر پوری دنیا میں پھیلا دی۔

پورے ہندوستان میں صرف اسے پتہ تھا کہ اس کا خاوند دلی کیوں جا رہا ہے۔ جب ٹرین روانہ ہونے لگی تو اسے احساس ہوا کہ خاوند کے حوصلے کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ وہ اپنی بیوی اور چار ماہ کی بیٹی کو دیکھ کر کمزور نہ پڑ جائے اور اسے یہ خیال نہ آئے کہ اس کے بعد ان کا کیا بنے گا؟ جونہی سیٹی کی گونج ابھری اور ٹرین پلیٹ فارم پر کھسکنے لگی تو اپنے خاوند کی آنکھوں میں دیکھ کر نتھورام کی بیوی نے کہا: وہ ہرگز اپنی بیٹی کے لیے پریشان نہ ہو‘ وہ اپنا اور بیٹی کا خیال رکھے گی۔ یہ کہہ کر اس نے وہ روٹیاں‘ جو گھر سے پکا کر لائی تھی تاکہ وہ سفر میں کھاتا جائے‘ ایک رومال میں لپیٹ کر خاوند کے حوالے کر دیں۔ وہ اپنے خاوندکے خیالات سے متفق تھی کہ گاندھی نے پہلے مسلمانوں کی حمایت اور اب پاکستان Pakistan کو پچپن کروڑ روپے دلوانے کا جو جرم کیا‘ اس کی سزا موت ہے۔ انہوں نے پستول خریدا۔ اس پستول کو جنگل میں جا کر تین چار گولیاں چلا کر بھی دیکھا‘ اور اب وہ مطمئن تھا کہ وہ گاندھی جی کو گولیاں مار سکتا ہے۔ نتھورام کے ذہن پر بوجھ تھا۔ اس نے اپنے بھائی سے وعدہ کیا تھا کہ وہ گاندھی کو قتل کرے گا۔ کبھی یہ نتھورام گاندھی جی کے لیے جیل گیا تھا‘ اور آج انہیں قتل کرنے دہلی جا رہا تھا۔

گوپال سے یہ بات ہضم نہیں ہوپارہی تھی کہ گاندھی کیسے نہرو اور پٹیل کو مجبور کرنے کیلئے مرتے دم تک بھوک ہڑتال کرسکتے ہیں ‘تاکہ وہ دونوں پاکستان Pakistan کو اس کے حصے کے پچپن کروڑ روپے ادا کریں جو نہرو نے کشمیر میں جنگ کے بعد روک لیے تھے۔ تقسیم کے وقت بھارت India کے پاس کل چار ارب کی نقدی تھی جس میں سے پاکستان Pakistan کا حصہ پچھتر کروڑ بنتا تھا ۔ نہرو اور سردار پٹیل نے پہلے بیس کروڑ روپے ادا کر دیے تھے‘ باقی کا حصہ روک لیا تھا۔اس خبر کا پاکستان Pakistan میں بہت برا اثر ہوا۔

قائداعظمؒ اور گاندھی کے تعلقات کبھی اچھے نہ تھے۔ قائداعظمؒ نے گاندھی کو مکار لومڑی کا لقب دیا ہوا تھا ۔ قائداعظمؒ پاکستان Pakistan بننے کی راہ میں رکاوٹ گاندھی کو سمجھتے تھے۔ گاندھی نے ہندوستان کی تقسیم روکنے کے لیے لارڈ مائونٹ بیٹن کو یہ پیشکش کی تھی وہ قائداعظم ؒ کو ہندوستان کا وزیراعظم بنانے کو تیار ہیں۔ وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن نے گاندھی کو کہا تھا کہ وہ نہرو اور سردار پٹیل کو منا لیں۔ یہی بات ہے کہ سابق بھارتی Indian وزیرخارجہ جسونت سنگھ نے قائداعظمؒ پر اپنی کتاب میں ان تاریخی حوالوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہندوستان کی تقسیم کے ذمہ دار انگریزوں اور قائداعظم ؒسے زیادہ نہرو اور پٹیل تھے ۔

گاندھی کو اس بات کا علم تھا کہ قائداعظمؒ انہیں پسند نہیں کرتے۔ پاکستان Pakistan بننے کے بعد جب پاکستان Pakistan کے پیسے روکے گئے اور پاکستان Pakistan کا ایک ایسے جہاز کو دیا گیا چیک باؤنس ہوگیا ‘ جس نے بھارت India سے مہاجرین کا لانا تھا تو گاندھی کو احساس ہوا کہ یہ بہت غلط ہورہا ہے۔ گاندھی کے خیال میں یہ اچھا موقع تھا کہ وہ قائداعظمؒ اور ان کی نئی ریاست کو یہ پیغام بھیجیں کہ وہ ہندوستان کی تقسیم کے خلاف ضرور تھے‘ لیکن وہ پاکستان Pakistan کو دیوالیہ کرنے کی بھارتی Indian لیڈروں کی کوشش کا ساتھ نہیں دیں گے۔ ان کے خیال میں یہ بہترین موقع تھا کہ وہ اپنے پرانے ناراض ساتھی کا دل جیتیں اور ساتھ ہی مسلمانوں کو پیغام دیں کہ وہ سچ اور انصاف کے ساتھ کھڑے ہیں اور وہ پاکستان Pakistan کو ناکام بنانے کی کوششوں میں شریک نہیں ہوں گے۔

اس دوران گاندھی کے ذہن میں خیال آیا کہ انہیں پاکستان Pakistan کا دورہ کرنا چاہیے‘ لیکن قائداعظمؒ کو کیسے راضی کیا جائے کہ وہ کراچی آنا چاہتے ہیں؟ گاندھی کے ذہن میںیہ بھی تھا کہ جس پیمانے پر پاکستان Pakistan اور ہندوستان میں لہو بہایا جارہا ہے اس کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پاکستان Pakistan جائیں۔ ان دونوں کی ملاقات سے ہندوئوں اور مسلمانوں میں بڑے پیمانے پر جاری خون خرابے اور دشمنی میں کمی آ سکتی ہے ۔ دوسری طرف دلی کے مسلمان کسی قیمت پر نہیں چاہتے تھے کہ گاندھی جی شہر چھوڑ کر کہیں جائیں ‘کیونکہ انہیں خطرہ تھا کہ اگر وہ شہر سے باہر گئے تو ہندوئوں نے حملہ کردینا ہے۔

گاندھی نے بھارتی Indian حکومت کو مسلمانوں کے گھر پاکستان Pakistan سے آئے ہندو مہاجرین کو الاٹ کرنے سے بھی روک دیا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ ایک دفعہ خون خرابہ رک جائے تو وہ خود جا کر ان مسلمانوں کو واپس لا کر ان گھروں کی چابیاں دیں گے۔ کئی مسجدوں پر سے قبضہ بھی چھڑا گیا تھا۔ گاندھی کے عدم تشدد پر اعتراضات آنا شروع ہوگئے تھے کہ پاکستان Pakistan میں ہندو مارے جارہے ہیں اور وہ یہاں دلی میں مسلمانوں کے گھروں پر پہرہ دینے بیٹھے ہوئے ہیں ۔ گاندھی نے جواب میں کہا: پاکستان Pakistan میں سب ہندوئوں اور سکھوں کو بھی قتل کر دیا جائے تو پھر بھی ہندوستان میں ایک چھوٹے سے مسلمان بچے کی زندگی کی حفاظت کی جائے گی۔

ہندوستان میں فسادات میں گھرے مسلمانوں کی آخری امید گاندھی تھے۔

اب گاندھی جی نے خفیہ پلان بنایا کہ انہیں پاکستان Pakistan جانا چاہیے۔ سوال یہ تھا کہ قائداعظم کو کیسے راضی کیا جائے۔ گاندھی نے ایک دن برلہ ہاؤس میں بمبئی کے ایک کاٹن بروکر کو بلایا کہ وہ خفیہ مشن پر کراچی جائے ‘جس کاوزیراعظم نہرو اور سردار پٹیل تک کو بھی پتہ نہیں چلنا چاہیے۔ وہ کراچی جا کر پاکستان Pakistan کے دورے کی راہ ہموار کرے۔ بروکر نے باپو سے یہ سنا تو آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔ یہ پا گل پن تھا ۔ بروکر بولا: باپو آپ نے یہ کام کرنے کی کوشش کی تو آپ کو قتل کر دیا جائے گا۔ گاندھی بولے: میری زندگی خدا کے ہاتھ میں ہے‘ اسے کوئی لمبا یا مختصر نہیں کرسکتا۔

پاکستان Pakistan سے جانے سے پہلے وہ کیا اپنے ساتھ لے کر جاسکتے تھے ‘جس سے دونوں ملکوں کے درمیان پھیلی دشمنی میں کچھ کمی ہو؟

قائداعظمؒ شروع میں اس حق میں نہ تھے‘ لیکن پھر وہ بھی تیار ہوگئے تھے‘ تاہم قائداعظمؒ کا خیال تھا کہ گاندھی کو بمبئی سے کراچی سمندری راستے سے آنا چاہیے جبکہ گاندھی چاہتے تھے کہ وہ ننگے پائوں چلتے ہوئے ہندوستان سے پاکستان Pakistan آئیں ۔ لیکن گاندھی خالی ہاتھ پاکستان Pakistan نہیں آ نا چاہتے تھے۔

دوسری طرف وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن کو جب یہ پتہ چلا کہ نہرو نے پاکستان Pakistan کے حصے کے پچپن کروڑ روپے روک لیے ہیں تو انہیں دکھ ہوا ۔ پہلے انہوں نے کشمیر پر پاکستان Pakistan اور بھارت India کی جنگ کو بڑھنے سے روکا اور نہرو پر دبائو ڈالا کہ وہ معاملہ اقوام متحدہ لے جا کر جنگ بندی کرائیں۔ ساتھ میں وائسرائے نے برطانوی وزیراعظم کو تجویز دی کہ وہ فوراً ہندوستان پہنچ کر‘ دونوں ملکوںمیں کشمیر سمیت سب مسائل حل کرائیں ۔ مائونٹ بیٹن کو خطرہ تھا کہ اگر پاکستان Pakistan کے پچپن کروڑ روپے روکے گئے تو دونوں ملکوں میں جنگ چھڑ جائے گی ۔ نہرو اور پٹیل کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزی پر لارڈ مائونٹ بیٹن بہت ناخوش تھے ۔یہ پیسے روک کر ہندوستان نہ صرف غیراخلاقی حرکت کررہا تھا بلکہ لارڈ مائونٹ بیٹن کے نزدیک تو عالمی ڈاکہ تھا جو پاکستان Pakistan کے حق پر ہندوستان مار رہا تھا۔

گاندھی یہ سوچ کر ڈسٹرب تھے کہ ہندوستان اپنی تاریخ کا آغاز ایک فراڈ اور غیراخلاقی کام سے کررہا ہے ۔ ایک دن گاندھی نے لارڈ مائونٹ بیٹن سے اپنا راز شیئر کیا کہ وہ نہرو اور پٹیل کو پاکستان Pakistan کے حق پر ڈاکہ نہیں مارنے دیں گے۔ وہ مرتے دم تک بھوک ہڑتال کریں گے۔ دوسری طرف گاندھی کے کراچی دورے کے خفیہ معاملات ابھی طے ہورہے تھے۔

گاندھی جی بھوک ہڑتال پر بیٹھے تو نہرو لال قلعے پر دس ہزار کے مجمع کو خبردار کرنے دوڑے دوڑے گئے کہ اگر باپو کو کچھ ہوگیا تو ہندوستان پر کیا بھیانک اثرات ہوں گے۔ نتھورام ان سب باتوں سے بے پروا پندرہ سو کلو میٹر دور پونے ریلوے سٹیشن پر ٹرین میں بیٹھ کر دلی کی طرف نکل پڑا تھا ۔

(اس کالم کو لکھنے کے لیے جن کتابوں سے مدد لی گئی ہے ان میں دلی کے سابق کمشنرکنور مہندر سنگھ بیدی سحرؔ کی یادداشتیں اور Freedom at Midnightشامل ہیں(

 487