حکومت اور اپوزیشن

ریڈ زون سے - کنور دلشاد

31 جنوری 2019

hukoomat aur oppostion

عمران خان Imran Khan بین الاقوامی سطح پر مقبول ترین قومی راہنما کی حیثیت سے ابھرے‘ لیکن صرف چھ ماہ کی کارکردگی کے باعث تحریک انصاف کا بطور سیاسی جماعت مقبولیت کا گراف گر چکا ہے‘ ان کی ٹیم کی وجہ سے وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کے تمام دعوے اور وعدے ہوا میں تحلیل ہوتے جا رہے ہیں اور بار بار دوسرے ممالک سے قرض لینے سے عوام کی سبکی ہو رہی ہے۔ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کو ملک میں سادگی کی مہم چلانے کیلئے خود سادگی کا مظہر بننا چاہیے تھا‘ لیکن وزرا ان کے احکامات پر عمل درآمد نہیں کر رہے ہیں۔ دوسری جانب ماضی کے حکمرانوں پر بھی کوئی آہنی ہاتھ نہیں ڈال سکا‘ اور وہ جیل میں ہوتے ہوئے بھی اقتدار سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ناقص ثبوتوں کی وجہ سے کسی سے ایک ڈالر بھی وصول نہیں کیا جا سکا۔ خاص طور پر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود کرپٹ سابق حکمرانوں سے کچھ نہیں نکلوا سکے۔ ان کی رخصتی پر سابق حکمران خاندان اور ان کے اتحادیوں نے خوشی کا اظہار کیا مگر عوام میں مایوسی پھیل گئی۔ سابق چیف جسٹس نے اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک ہفتہ پہلے جو فیصلے کیے وہ شاید قوم کی توقع کے مطابق نہیں تھے۔

چھ ماہ کے مختصر عرصہ میں عوام نے محسوس کر لیا ہے کہ حکومت خود مسائل کو دعوت دے رہی ہے‘ اور خصوصی حکمت عملی کے تحت بلا وجہ اپوزیشن کو اشتعال دلا رہی ہے جس کے باعث تنائو کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ اس پر دو آرا نہیں کہ سندھ سمیت ملک گیر سطح پر سیاسی استحکام، معاشی ترقی پر توجہ مرکوز کرنے‘ اور سیاسی مخاصمت کا گراف گرانے کی اشد ضرورت ہے۔ وقت تیزی سے گزر رہا ہے‘ ایسا نہ ہو کہ ہاتھ سے نکل جائے۔ سسٹم کو مضبوط کرنے کیلئے سیاسی قیادتوں پر قومی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قوم کو مشکل صورتحال سے نکالیں۔ حقیقت یہ ہے کہ متحدہ اپوزیشن سے تشویش کی کوئی بات نہیں۔ اگر جمہوریت کی سر بلندی اور حزب اقتدار کی اصلاح کے لیے اپوزیشن اتحاد کرتی ہے تو اس سے پارلیمنٹ کی بالادستی قائم ہو گی۔ وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan اپنی ناپختہ ٹیم کے سحر سے باہر نکلیں، قوم ان کو پانچ سال تک اقتدار میں دیکھنا چاہتی ہے اور گورننس بہتر ہوتی ہے تو ان کے لیے اقتدار کی صورت میں توسیع بھی ہوتی چلی جائے گی۔

پارلیمنٹ کی بالا دستی کے لیے وزیر اعظم Prime Minister کو پارلیمنٹ میں آنے کی روایت قائم کرنی چاہئے۔ اس وقت جمہوری اور پارلیمانی روایات کے مطابق شہباز شریف Shehbaz Sharif شیڈو وزیر اعظم Prime Minister کے روپ میں پارلیمنٹ میں کھڑے ہیں‘ لہٰذا ملکی سیاست میں برپا تلاطم کا ادراک کرتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ٹکراؤ کے خدشات اور کشیدگی کم کرنے کا دریچہ کھلا رہنا چاہیے۔ کرپشن اور منی لانڈرنگ Money laundering کے جو مقدمات اداروں میں زیر سماعت ہیں‘ ان پر وزرا کو سرعام تذکرہ کرنے اور تضحیک کی راہ اپنانے سے گریز کرنا چاہئے۔ اداروں کو اپنے فیصلے آزادانہ ماحول میں کرنے دیجئے۔ اس حوالے سے چیئرمین قومی احتساب بیورو نے جرأت مندانہ اور چشم کشا وارننگ دی ہے کہ کسی وزیر کی خواہش پر زرداری، مراد علی شاہ اور فریال تالپور کو گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔

تحریک انصاف کو درحقیقت عمران خان Imran Khan کے کرپشن فری سوسائٹی کے نعرے کے باعث عوامی پذیرائی حاصل ہوئی۔ انہیں قومی اور صوبائی اسمبلیوں ماسوائے سندھ میں اتنی نشستیں حاصل ہو گئیں کہ حکومت سازی کے مراحل میں عددی اکثریت حاصل کرنا آسان تھا۔ غربت‘ مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مسائل کے حل اور کرپشن سے نجات کے لیے عوام کی توقعات بھی تحریک انصاف کی حکومت سے وابستہ ہو گئیں۔ پھر وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد عمران خان Imran Khan صاحب نے ریاست مدینہ کا تصور پیش کرکے خود بھی عوام کی توقعات بڑھائیں۔ یہ توقعات اس حد تک بڑھ گئیں کہ عوام اپنے گوناگوں مسائل کے فوری حل کے متمنی نظر آنے لگے‘ مگر تحریک انصاف کی حکومت کی ابتدائی پالیسیوں کی وجہ سے مہنگائی کے طوفان اٹھے جبکہ ادویات کے نرخوں میں ہوشربا اضافے سے عوامی مسائل میں کمی کے بجائے ان میں اضافہ ہوتا نظر آیا تو اس پر عوامی حلقوں میں اضطراب کی کیفیت پیدا ہونا فطری امر تھا۔ اپوزیشن جماعتوں کے لیے یہ نادر موقع تھا کہ وہ عوام میں پیدا ہونے والے اس اضطراب کو حکومت مخالف تحریک کے لیے بروئے کار لائے‘ مگر اس نے گریز کی پالیسی اختیار کی۔ شیخ رشید احمد اور ان کے جنگجو ساتھیوں کو ادراک ہونا چاہیے کہ اس میں حکمت عملی شہباز شریف Shehbaz Sharif کی ہے‘ اور وہ اپنی مخصوص در پردہ پالیسی میں اپنے خاندان کو ریلیف دلانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف‘ مریم نواز Maryam Nawaz اور ان کے حامی خاموش ہیں۔ اور یہ شہباز شریف Shehbaz Sharif کی کامیاب حکمت عملی کی وجہ سے ہی ہے کہ وہ متحدہ اپوزیشن کے لیڈر ہیں‘ اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔ آئینی اور قانونی طور پر یہ اہم ترین فورم ہے جہاں حکمران جماعت کے وزرا اور بڑے تحقیقاتی ادارے ان کے سامنے پیش ہو رہے ہیں‘ اور ان کے سامنے جواب دہ بھی ہیں۔

پاکستان Pakistan میں پارلیمانی نظام ناکام ہو چکا ہے، برطانوی طرز کے پارلیمانی نظام حکومت کو اپنانا ہم پر واجب نہیں، قائد اعظم محمد علی جناحؒ قیام پاکستان Pakistan سے پہلے ہی اس نتیجہ پر پہنچ گئے تھے کہ برطانوی طرز پر پارلیمانی نظام پاکستان Pakistan کے لیے موزوں نہیں کیونکہ پاکستان Pakistan برطانوی طرز کا لسانی و نسلی وحدت رکھنے والا ملک ہرگز نہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان Pakistan کی سول سوسائٹی پر زمین داروں‘ جاگیرداروں‘ مخدوم زادوں کا غلبہ اس قدر تھا کہ برطانیہ کی طرز کی جمہوریت کا مطلب یہاں منتخب افراد کی مستقل حکومت کے سوا اور کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ قائد اعظمؒ کی دوربین نظروں نے یہ دیکھ لیا تھا کہ برطانوی طرز کی جمہوریت کا مطلب پنجاب کے جاگیرداروں کو پنجاب پر سندھ کے وڈیروں کو سندھ پر بلوچستان Balochistan کے سرداروں کو بلوچستان Balochistan پر اور صوبہ سرحد کے خوانین کو پختونخوا پر مکمل تسلط قائم کرنے کی سند دے دی جائے۔ کہا جاتا ہے کہ مشرقی پاکستان Pakistan کے غریب نمائندگان کو علیحدہ کرنے کی سازش بڑے صوبے سے شروع ہوئی‘ لہٰذا قائداعظمؒ کے اندیشے غلط ثابت نہیں ہوئے۔ پاکستان Pakistan پر ایک ایسا نظام مسلط ہو چکا ہے جو ایک طرف مملکت پاکستان Pakistan کی فکری اساس اور دوسری طرف اہل پاکستان Pakistan کی قومی شناخت کی نفی کرتا ہے۔ دنیا کی تمام حقیقی جمہوریتوں میں وزیراعظم کا انتخاب براہ راست عوام کرتے ہیں‘ اگر نظام پارلیمانی ہو تو بھی وہ جب اپنا ووٹ ڈالنے کیلئے نکلتے ہیں‘ تو ان کے ذہن میں اس شخص کا نام گونج رہا ہوتا ہے‘ جس کے ہاتھوں میں وہ اپنا مستقبل اور اپنا مقدر دینے کا فیصلہ کر چکے ہوتے ہیں۔ اب تک جتنے بھی انتخابات پاکستان Pakistan میں ہو چکے ہیں‘ ان میں چیف ایگزیکٹو ہمیشہ اپنے کردار اور عمل سے متنازعہ ہی رہے ہیں۔ اب عمران خان Imran Khan انتہائی باریک لکیر کے سہارے حکومت کر رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں جمہوریت ایسے نظام کے تحت قائم ہونی چاہیے جس میں علاقائی اور نسلی شناختوںکا وجود نہ ہو۔

مجھے ملالہ یوسفزئی کی حیات پر مبنی فلم ''گل مکئی‘‘ کے پریمیئر میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کا موقع ملا۔ بین الاقوامی سطح کی درجنوں عالمی شہرت کی حامل شخصیات موجود تھیں۔ ان سے اپنے تبادلہ خیالات پر مبنی کالم علیحدہ کسی مرحلے پر تحریر کروں گا۔ فی الحال یہ بتانا چاہتا ہوں کہ لندن میں موجودہ پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی طرز حکومت کا نظام لانے کی سرگوشیاں ہو رہی تھیں اور موجودہ پارلیمانی نظام کے متبادل نظام لانے کا تذکرہ لندن کی اعلیٰ محافل میں سننے میں آیا۔ ایک سیاسی جماعت کی تشکیل کا ذکر بھی سننے میں آیا۔ نواز فیملی کے ارکان ہمیشہ کیلئے برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کی جستجو میں ہیں۔ نواز شریف Nawaz Sharif بیماری کی آڑ میں لندن چلے جائیں گے اور ہمیشہ کیلئے پاکستان Pakistan کے عوام سے اوجھل ہو جائیں گے۔ سندھ حکومت آزمائشی دور میں داخل ہونے والی ہے اور چند روز میں اہم فیصلے ہونے والے ہیں۔ فروری میں ہی تحریک انصاف کا غیر ملکی فنڈنگ کا فیصلہ متوقع ہے اور بین السطور اور بادی النظر میں اس فیصلے سے الیکشن کمیشن کی ساکھ مضبوط ہو جائے گی۔ سپریم کورٹ اس تناظر میں جو اہم فیصلے کرے گی چند روز پیشتر جہانگیر ترین اور اسحاق خاکوانی کو حفظ ماتقدم کے طور پر اپنی رائے سے آگاہ کر چکا ہوں۔

 141