طالبان، امریکہ United States مذاکرات

زیر بحث - عارف نظامی

30 جنوری 2019

taliban, America mazakraat

حال ہی میں قطر سے اچھی خبر آئی ہے کہ امریکی حکام اور طالبان کے درمیان امن معاہد ے کے ایک مسودے پر عمومی اتفاق رائے ہو گیاہے، چونکہ یہ خبر پہلے طالبان ذرائع کے حوالے سے آئی ہے لہٰذا اس پر کسی حد تک یقین کیا جاسکتا ہے۔ گویا کہ امریکہ United States کی تاریخ میں 17سالہ طویل ترین جنگ کے خاتمے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ پاکستان Pakistan بجا طور پر کریڈٹ لے رہا ہے کہ ہم نے طالبان اور امریکہ United States کی براہ راست بات چیت کروا کر اپنا مثبت رول اداکر دیا ہے۔ امریکی حکومت اور عوام دونوں اس جنگ سے تنگ آئے ہوئے ہیں۔ 2001ء میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں افغانستان Afghanistan پر فوجی یلغار کر کے کابل میں حامد کرزئی کی سربراہی میں کٹھ پتلی حکومت قائم کر دی گئی تھی۔ اس وقت بھی سوائے اس کے کہ القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن تورا بورا کی پہاڑیوں میں چھپے بیٹھے تھے، اس جنگ میں جانے کا کوئی جواز نہیں تھا کیونکہ ’نائن الیون‘ کے کردار افغان شہری تھے اور نہ ہی وہ طالبان تھے۔ افغانستان Afghanistan کا امریکہ United States سے کوئی براہ راست تصادم بھی نہیں تھا لیکن ویتنام کی جنگ سے سبق نہ سیکھنے والی امریکی دفاعی اسٹیبلشمنٹ نے طاقت کے نشے میں بدمست ہو کر وہاں چڑھائی کردی۔ امریکہ United States کواس وقت بھی یہ علم ہونا چاہئے تھا کہ افغان بڑے جنگجو اور خوددار ہیں، اسی لیے کہا جا تا ہے کہ افغانستان Afghanistan جارح اور استعماری قوتوں کا قبرستان ہے۔ برطانیہ اور اس کے بعد سابق سوویت یونین وہاں جارحیت کر کے منہ کی کھا چکے ہیں۔ اس وقت بھی افغانستان Afghanistan میں نیٹوکی کمان تلے چودہ ہزار امریکی فوجی موجود ہیں۔ گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جو اپنے پیشروؤں کے برعکس امریکی اسٹیبلشمنٹ سے تعلق نہ رکھنے کی بنا پر معاملات کو اپنے انداز سے دیکھتے ہیں ‘کہا تھا کہ امریکہ United States اپنی آدھی افواج افغانستان Afghanistan سے ہٹانے پر غور کر رہا ہے۔ اب تازہ معاہدے کے مطابق جو طالبان حکام اور امریکی خصوصی نمائندہ برائے امن زلمے خلیل زاد کے درمیان اصولی طور پر ہوا ہے۔ امریکی افواج اگلے اٹھارہ ماہ میں وہاں سے نکل جائیں گی۔ اگرچہ کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا لیکن زلمے خلیل زاد کے ایک ٹویٹ کے مطابق مذاکرات میں خاصی پیشرفت ہوئی ہے اور اب وہ افغانستان Afghanistan جا کر صدر اشرف غنی سے بات چیت کریں گے۔ فریقین کی طرف سے خاصے محتاط بیانات دیئے جا رہے ہیں۔ طالبان ذرا ئع کے مطابق سیزفائر پر بھی اصولی طور پر اتفاق ہو گیا ہے لیکن طالبان نے سیز فائر کو امریکی افواج کے افغانستان Afghanistan سے مکمل انخلا سے منسلک کر دیا ہے اور طالبان کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان Afghanistan کی سرزمین القاعدہ اور داعش کے جنگجوؤں کو استعمال کرنے کی اجازت نہیںدی جائے گی۔ ڈرافٹ معاہدے میں جنگی قیدیوں کے تبادلے کی شق بھی شامل ہے لیکن ابھی بہت سے پیچیدہ اور گنجلک معاملات پر معاہدہ ہونا باقی ہے۔طالبان موجودہ افغان حکومت جسے وہ کٹھ پتلی کہتے ہیں‘ کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ نہیںان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ سیز فائر کے بعد بننے والی عبوری حکومت میں اشرف غنی یا ان کے نمائندوں کے ساتھ بیٹھیں گے تاحال ممکن نہیں نظر آرہا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ طالبان افغانستان Afghanistan کے وسیع و عریض حصے پر قابض ہیں یا وہ ان کے زیر اثرہے۔ لگتا ہے کہ مذاکرات کے نتیجے میں اشرف غنی جو جولائی میں ہونے والے آئندہ صدارتی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کر چکے ہیں کے اقتدار کا دھڑن تختہ ہو جائے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ کسی سطح پر ان مغرب نواز افغانوں کو جن کی حیثیت کٹھ پتلی سے زیادہ نہیں ہے ‘کو کچھ نمائندگی دے دی جائے لیکن ایسے لگتا ہے کہ امریکہ United States نے بالآخر طالبان کے سامنے سجدہ سہو کرنے کا ارادہ کرلیا ہے۔ معاہدے میںطالبان کی طرف سے یہ یقین دہانی بھی شامل ہے کہ پاکستان Pakistan سے گئے ہوئے بلوچ جنگجوؤں کو بھی افغانستان Afghanistan کی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان مذاکرات سے پہلے قریباً روزانہ ہی افغان حکومت اور مغر ب کی افغانستان Afghanistan میں تنصیبات پر طالبان کے حملے جا ری تھے۔ گزشتہ برس جولائی کے آخر تک امریکہ United States کے 2372 فوجی اس جنگ کی نذر ہو چکے ہیںجبکہ اشرف غنی کے مطابق 2014ء تک افغان سکیورٹی فورسز کے45 ہزار اہلکار مارے جا چکے ہیں۔ اب مذاکرات کا آئندہ دور فروری میں متوقع ہے اور اس کی قیادت ملا عبدالغنی برادر جنہیں حال ہی میں پاکستان Pakistan نے مذاکرات کی خاطر رہاکیا تھا اور جو طالبان تحریک کے بانیوں میں سے ہیںکریں گے۔ جیسا کہ زلمے خلیل زاد نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ جب تک حتمی اتفاق رائے نہیں ہوجاتا جس میں افغانوں کے آپس میں مذاکرات اور سیزفائر بھی شامل ہے اس وقت تک یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ یقینا امریکی اسٹیبلشمنٹ کو یہ بھی سوچنا پڑے گا کہ ہزاروں جانیں اور کھربوں ڈالر خرچ کرنے کے بعد امریکہ United States کو افغانستان Afghanistan میں فوج کشی سے کیا حاصل ہوا؟۔ وہ محض پاکستان Pakistan کو’ڈومور‘ کی رٹ لگا کر مطعون کرتا رہا لیکن مسئلے کی اصل جڑ کی طرف توجہ نہیں دی گئی کہ خوددار قوموں کو فوج کشی کے ذریعے فتح نہیںکیا جاسکتا۔ اب وہ بالآخر اس نتیجے پر پہنچ گیا ہے کہ مذاکرات ہی اس مسئلے کا حل ہے اوران لو گوں کے ساتھ مذاکرات جنہیں سترہ برس قبل فوجی قوت کے بل بوتے پر نکالا تھا۔ اس دوران افغانستان Afghanistan پر ہر قسم کے ہتھیار اورحربے آزمائے گئے حتیٰ کہ گوانتانا موبے جیسے عقوبت خانوںکے بعد بالآخر انہی طالبان سے مذاکرات کرنا پڑے جنہیں وہ زیر کر کے اپنے ڈھب کے لوگوں کو بٹھانا چاہتے تھے۔ حالیہ پیشرفت کے باوجود امریکہ United States کی ’ڈومور‘ کی رٹ ختم نہیں ہو گی کیونکہ افغانستان Afghanistan میں طالبان کے علاوہ القاعدہ اور داعش اپنی کارروائیاں بدستورجاری رکھے ہوئے ہیںاور اس ضمن میں پاکستان Pakistan کو مورد الزام ٹھہرانے کی پالیسی ترک نہیںکی جائے گی لیکن بالآخر 1975ء میںجیسے ویتنام جنگ کے خاتمے پر امریکی سفیر کو وہاں سے ہیلی کاپٹر پر فرار ہونا پڑا تھا شاید افغانستان Afghanistan میں بھی امریکہ United States اورمغرب کا یہی حشر ہو۔

 218