امریکہ United States کی افغانستان Afghanistan سے پسپائی، پاکستان Pakistan کا اہم کردار

28 جنوری 2019

America ki Afghanistan se paspaai, Pakistan ka ahem kirdaar

لاہور: (تجزیہ سلمان غنی) امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان Afghanistan زلمے خلیل زاد دوحہ میں ہونے والے طالبان سے چھ روزہ مذاکرات کے بعد مزید مشاورت کیلئے کابل پہنچ چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دوحہ میں طالبان کے ساتھ بنیادی معاملات پر اہم ترین پیش رفت کر چکے ہیں۔ مذاکرات کا یہ دور کچھ معاملات کو لیکر بہت جلد دوبارہ شروع ہوگا اور کوئی بھی معاہدہ کسی چیز کو زیر بحث لائے بغیر نہیں ہوگا۔

اہم ترین نکتہ کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان Afghanistan کے مستقبل کے حوالے سے خود افغانستان Afghanistan کی تین اہم قوتوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے سیز فائر کا معاہدہ ہو گا لہٰذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دوحہ میں ہونے والی پیش رفت فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہو چکی ہے؟ کیا افغانستان Afghanistan کے اندر شمالی اتحاد اور اشرف غنی انتظامیہ سے بات چیت کے عمل میں افغان طالبان بھی شامل ہوں گے؟

زلمے خلیل زاد نے طالبان سے مذاکرات میں قطری حکومت کا تو شکریہ ادا کیا ہے مگر پاکستان Pakistan کے کردار کو کیوں نظر انداز کیا گیا۔ گزشتہ صدی کی ایک بڑی تبدیلی سوویت یونین کا افغانستان Afghanistan کے پہاڑوں میں ٹوٹ جانا تھا مگر اس صدی کی پہلی بڑی ڈویلپمنٹ شاید مورخ یہی لکھے کہ افغانستان Afghanistan سے برطانیہ اور روس Russia کے بعد امریکہ United States بھی واپس جا رہا ہے اور مقامی افغانوں سے امن مذاکرات کے ذریعے ایک با عزت واپسی کا راستہ ڈھونڈ رہا ہے۔

گو کہ امریکہ United States میں اوبامہ انتظامیہ کے بعد صدر ٹرمپ کی پالیسی کا بھی اس میں عمل دخل ہے اور وہ امریکہ United States کے بیرونی دنیا کے جھگڑوں میں الجھاؤ کے بجائے اپنے ڈومیسٹک معاملات پر توجہ دینا چاہتے ہیں، اس لئے مشرقِ وسطیٰ میں بھی شام کے تنازع میں امریکہ United States نے یکطرفہ اقدامات کرنے کا اعلان کیا اور پھر اب افغان معاملے پر بھی امریکہ United States نے یکطرفہ جلد بازی سے کام لیا ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ افغان طالبان کو افغانستان Afghanistan میں ختم کرنے میں امریکی انتظامیہ مکمل تنہائی کا شکار تھی اور اس پر اربوں ڈالر کا بوجھ بھی تھا جس سے اسے افغان انتظامیہ کی فوج اور دیگر انتظامی معاملات میں مشاورت اور تعاون کرنا پڑ رہا تھا۔ مگر اس کے جواب میں افغان وار لارڈز اور سیاسی اشرافیہ طالبان کا کردار ختم کرنے میں ناکام رہیں بلکہ صورتحال اس کے برعکس رہی اور افغانستان Afghanistan کے اندر بہت سا علاقہ افغان طالبان کابل انتظامیہ سے چھین چکے ہیں۔ شاید یہ بوجھ اور پریشانی ہے جو صدر ٹرمپ انتظامیہ افغانستان Afghanistan میں محسوس کر رہی تھی۔

اس کیلئے گزشتہ سال کے شروع میں صدر ٹرمپ نے پاکستان Pakistan پر ’’ڈو مور‘‘ کا دباؤ ڈالا تھا اور اس سے بڑھ کر ان کا بیانیہ تھا کہ پاکستان Pakistan نے اربوں ڈالر امداد لی مگر محض دھوکے بازی کے علاوہ امریکہ United States کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ پاکستان Pakistan میں بھی سیاسی تبدیلی کا سال تھا اور پھر عمران خان Imran Khan جیسے غیر روایتی سیاستدان نے بھی صدر ٹرمپ کو ٹویٹر بیانات پر خوب جواب دئیے۔

ساتھ ساتھ پاکستان Pakistan نے اپنا روایتی بیانیہ دہرایا کہ افغان تنازع محض مذاکرات سے حل ہو گا اور پاکستان Pakistan تمام فریقین کو مذاکراتی میز پر لانے کیلئے کردار ادا کرے گا۔ بعد از خرابی بسیار اس تجویز پر عمل ہوا اسلام آباد اور کابل کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کئے گئے۔ پاکستان Pakistan نے افغان مذاکرات میں طالبان کی قیادت کرنے والے ملا برادر کو رہا کیا اور پھر مذاکرات کیلئے راہ ہموار ہونا شروع ہوئی۔ ان مذاکرات میں پاکستان Pakistan کے ساتھ سعودی عرب Saudi Arabia ، امارات اور قطر بھی اپنا اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔

طالبان نے موجودہ قطر مذاکرات سے پہلے افغان انتظامیہ کو فریق ماننے سے انکار کیا تھا اور ان کی سیاسی حیثیت تسلیم کرنے کے بجائے انہیں امریکی حکام کی کٹھ پتلی حکومت قرار دیتے ہوئے ملنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ مگر شاید امریکہ United States کے جزوی انخلا کے اعلان کے ساتھ طالبان نے بھی اپنا رویہ نرم کیا اور قطر میں 6 روزہ مذاکرات کے کئی دور ہوئے اس میں اہم ترین معاملات اور انخلا جیسے بنیادی مطالبے پر پیشرفت ہوئی مگر زلمے خلیل زاد نے کسی بھی اعلان سے پہلے افغانستان Afghanistan کی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینے کی بات کی ہے جس سے واضح ہو رہا ہے کہ’’ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں‘‘۔ مگر ایک بات طے ہے کہ جامع سیز فائر کے معاہدے تک پہنچنا ہے تو پھر طالبان کو افغانستان Afghanistan کے اندر کابل میں اشرف غنی اور دیگر سیاسی کرداروں سے بات چیت کا دروازہ کھولنا ہوگا اور ذرائع کہہ رہے ہیں کہ اس کی بھی راہ ہموار ہو چکی ہے۔

اس تمام صورتحال میں پاکستان Pakistan کا بھی ایک نقطہ نظر ہے کہ اس سارے عمل میں بنیادی کریڈٹ پاکستانی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا بھی ہے جس نے تمام امریکی دباؤ کو 17 سال برداشت کیا۔ کابل کے الزامات سہے، افغان سر زمین سے دہشت گردی اس کی سرحدوں میں در آئی اور پھر طالبان سے بہت سی غلط فہمیوں اور الجھنوں کے باوجود اس نے اعتماد سازی اور مذاکراتی فضا بنانے میں خلوصِ دل سے کام کیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھی ایک عرب نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیا اور کہا کہ پاکستان Pakistan کا ہمیشہ ایک کردار رہا اور مستقبل میں بھی رہے گا۔ مگر الجھن اُس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب امریکی مذاکرات کار زلمے خلیل زاد نے ان مذاکرات کے نتائج پر قطر کے کردار کو تسلیم کیا، مگر پاکستان Pakistan کا ذکر ان کے لبوں تک نہ آیا۔ اندیشہ ہے کہ یہی وہ رویہ ہے جو افغان مسئلہ کے حل کیلئے پاکستان Pakistan اور امریکہ United States کے تعاون کی راہ میں رکاوٹ نہ بن جائے۔

امریکہ United States اگر مذاکراتی عمل کے ذریعے افغان مسئلہ کے حل کے قریب ہے تو اس میں پاکستان Pakistan کا بنیادی کردار شامل ہے اور اسے تسلیم نہ کرنے یا اس کا کھل کر اظہار نہ کرنا سفارتی بددیانتی ہو گی۔ پاکستانی خارجہ آفس اس معاملے پر حقیقت پسندی سے اپنی آنکھیں کھلی رکھے کیونکہ جو فریق کامیابی کا کریڈٹ نہ دے وہ ناکامی کا بوجھ بھی پاکستان Pakistan پر ڈال سکتا ہے۔

 161