طالبان سے مذاکرات میں امریکی فوج کے انخلا کا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا: زلمے

28 جنوری 2019

taliban se mazakraat mein Amrici fouj ke inkhala ka koi moahida tay nahi paaya : zlme

کابل: امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے طالبان اور امریکا کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات سے متعلق افغان صدر اشرف غنی کو تفصیلات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ طالبان اور امریکا کے درمیان امریکی فوج کے انخلا کا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔

افغان صدارتی محل سے جاری بیان میں زلمے خلیل زاد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے افغان قیادت کو طالبان اور امریکا کے درمیان حالیہ مذاکرات کی تفصیلات بتائیں اور کہا کہ طالبان امریکا مذاکرات میں افغانستان Afghanistan میں سیاسی نظام کی تبدیلی پر بات نہیں کی گئی۔

افغان صدارتی محل سے جاری بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں افغانستان Afghanistan میں عبوری حکومت کے قیام سے متعلق بھی کوئی بات نہیں کی گئی جب کہ طالبان سے جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کیے جس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

افغان صدارتی محل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق زلمے خلیل زاد نے کہا کہ مذاکرات میں طالبان رہنماؤں نے افغانستان Afghanistan سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا مطالبہ دہرایا تاہم اس موقع پر امریکی فوج کے انخلا کا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔

افغان میڈیا نے دعویٰ کیا کہ طالبان اور امریکا کے درمیان باقی رہ جانے والے معاملات پر زلمے خیل زاد طالبان قیادت سے دوبارہ ملاقات کریں گے۔

دوسری جانب زلمے خلیل زاد یا امریکی سفارتخانے کی جانب سے اب تک افغان صدارتی محل کے بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا، زلمے خلیل زاد کی جانب سے امریکا طالبان مذاکرات کے بعد اسے نمایاں کامیابی قرار دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ قطر کے شہر دوحہ میں امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مسلسل 6 روز تک مذاکرات جاری رہے اور 27 جنوری کو سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق فریقین نے 18 ماہ کے اندر افغانستان Afghanistan سے غیر ملکی افواج کے انخلاء پر اتفاق کیا۔

امریکا اور طالبان مذاکرات میں جنگ بندی کا شيڈول آئندہ چند روز میں طے کرنے پر بھی اتفاق ہوا اور مذاکرات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ طالبان جنگ بندی کے بعد افغان حکومت سے براہ راست بات کریں گے۔

 124