جذباتی انکل

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

26 جنوری 2019

jazbati uncle

نئی کالونی میں شفٹ ہونے کے بعد سب سے پہلے جس ہستی سے تعارف ہوا وہ ہیں میرے شمشیر انکل۔ یہ اسی کالونی میں قابلِ زکر سوشل ورکر ہیں۔۔اور انہی خدمات کی وجہ سے ان کے نام کا ڈنکا آس پاس کی کالونیوں میں بھی بجتا رہتا ہے۔۔نہایت خدمت گزار ، ہنس مکھ اور بے ضرر قسم کے بندے ہیں۔۔ خدمت خلق کا اتنا جنون چڑھا رہتا ہے کہ گھر والوں کو ٹائم نہیں دے پاتے لہذا اکثر وپیشتر ان کے لیے گھر میں حالات تنگ ہی رہتے ہیں ۔ابو کے ساتھ خدمت خلق والی عادت مل گئی لہذا یہ ہماری فیملی کے کچھ زیادہ ہی بے تکلف ہوگئے۔۔ ابو کی غیر موجودگی میں ہمارے تقریبا اہم کام وہی کرتے۔۔اور ہمہ وقت دل وجان سے حاضر رہتے۔ایک عادت ابو کی دیکھا دیکھی انھوں نے فٹ سیکھ لی ۔ابو جی کو گھر میں جو بھی کام ہو ہمیشہ مجھے بلائیں گیں۔۔کرااااان۔۔۔۔۔تب تک پکارتے رہیں گیں جب تک میں ان کے حضور پیش نا ہوجاوں۔۔

اب یہ انکل جی ابھی گھر سے دس کوس باہر بھی ہوتے تو زوردار آواز سے مجھے پکارتے "کرن بیٹا۔۔۔۔۔۔" میرے گیٹ کھولنے تک یہ تکرار جاری رہتی۔۔ باہر سے اپنے نام کا نعرہ سن کر میں سخت بدمزہ ہوتی اور ابو کو دیکھتی "ابو جی یہ کوئی طریقہ ہے ؟؟ انکل کو سمجھائیں کسی اور کو پکار لیا کریں۔ان کی بدولت سارے علاقے کو پتہ چل گیا ہے کہ اس گھر میں کرن رہتی ہے ۔ساتھ ہی ایک اور شکایت گوش گزار کی " اور تو اور کل سامنے والے گھر میں کام ہورہا تھا ۔۔کسی مزدور کی آواز آئی " کرااان بیٹا ہمیں پانی تو دے دو " یعنی حد ہے اس علاقے میں آپ لوگوں سے زیادہ میرا نام مشہور ہوگا اور مجھے تو ڈر ہے کبھی یہ باہر سڑک پر بھی دیکھ لینگیں تو ایسے ہی کرن بیٹا کہہ کر دس بندوں کو متوجہ کریں گیں۔۔"

ابو ہنس پڑتے اور بے بسی سے کہتے۔۔"سمجھایا ہے ایک دو دفعہ لیکن اس کو بھی میری طرح عادت پڑ گئی ہے"

انکل کی اس عادت کو ابو تو بریک نا لگوا سکے لیکن بڑے ماموں نے لگا دی ۔۔ ایک دن انہوں نے ہمیشہ کی طرح گیٹ پر میرے نام سے پکارا ۔۔میں نے بیزاری سے جا کے دروازہ کھولا ۔۔سلام کرکے اندر آگِئے ۔۔ماموں کے چہرے پر بھی سخت سے تاثرات اور بولے " کھوتے دا پتر آ تیکوں تمیز نی سکھائی کسی نے ؟؟؟"

ماموں ان سے بڑے تھے وہ بات واشگاف انداز سے کر ڈالی جو میں ذرا مہذب طریقے سے صرف دل میں سوچتی تھی ۔۔انکل کے چہرے پر شرمندگی کے آثار نمایاں ہوئے لیکن فورا ہی غائب ہوگئے ۔۔ہنسنے لگے۔۔"یار بیٹی کا نام زبان پر گیا ہے ۔۔میں کوشش کرونگا آیندہ ایسا نا کروں۔۔ان کا انداز ایسا لجاجت بھرا تھا کہ میں دل ہی دل میں شرمندہ ہوئی کہ ماموں ان کو نا ڈانٹتے ۔۔ویسے ہی میرا نام تو مشہور کرچکے جتنا انھوں نے کرنا تھا۔۔

ایک اور خطرناک چیز ان میں یہ کہ یہ بہت جذباتی بھی واقع ہوئے ہیں۔۔ہمارے گھر کی عورتوں کو اپنے گھر کی عورتیں ہی سمجھتے ہیں لہذا جوش خطابت میں یہ بھول جائنگیں کہ عورتوں سے کس طرح بات کرنی ہے۔۔ایک بار خوش خبری دینے آئے کہ ہمارے علاقے میں نیا ٹرانسفارمر لگ رہا ہے۔۔ہم سب ٹی وی لاونج میں بیٹھے تھے یہ بھی وہی پر آکے ایک صوفے پر بیٹھ گئے ۔۔گپ شپ کے دوران ایک دم اچھلے امی سے گویا ہوئے " بھابھی ایک خوش خبری ہے آپ کے لیے " امی نے محتاط انداز سےان سے گڈ نیوز پوچھی کیونکہ یہ جتنے زیادہ ایکسائیٹڈ ہوتے ایسے اچھل اچھل کر ادھر ادھر لپکتے گویا کسی کے اوپر جا گریں گیں۔۔امی کا ڈر سچ ثابت ہوا اور انکل اپنی جگہ سے دو فٹ آگے لپک کر ہمارے صوفے کی طرف بڑھے۔۔ہمارے ارد گرد ناچ ناچ کر خبر سناتے یہ ان کا انداز تھا خبر سنانے کا ۔میں اور امی بد حواس ہوکے اپنی اپنی جگہوں سے اٹھیں۔۔میں فورا پیچھے بیڈ پر جا گری اور امی نے صوفے کے آخری کونے کو تھام لیا کہ اب کہاں جاوں ۔۔ انکل کو شاید ہماری بد حواسی نے تھوڑا احساس دلایا کہ یہ کچھ زیادہ ایکسایٹڈ ہو گئے ہیں۔ اس لیے تھوڑی شرمندگی سے واپس بیٹھ گئے اور پھر خبر سنا دی۔۔

ان کی خوشیاں بھی نہایت چھوٹی چھوٹی ہوتیں۔۔اور ایسے والہانہ انداز سے خوش ہوتے ۔دور سے ہی ان کی ترنگ سے بھر پور آواز سنائی پڑ جاتی۔۔اور ہم سب عورتیں فورا الرٹ ہو کر وہ محفوظ مقام ڈھونڈتیں تاکہ یہ سارے گھر میں چھلانگیں لگا کر بھی بات کریں تو ہم زد میں نا آئیں ۔

چار پانچ سالوں میں جتنا میں ان کی نیچر کو سمجھی یہ بہت سادہ دل اور نہایت ایکسپریسو بندے ہیں اور انکو خود کو بھی احساس نہیں ہوتا کہ مخاطب اگر عورتیں ہیں تو ان سے کس طرح بات کرنی ہے۔ کبھی سڑک پر ہماری گاڑی دیکھ لیں گیں تو والہانہ انداز میں ہاتھ ہلائے گیں۔اور میں فورا نیچے کو جھک جاونگی مبادا میرا نام لے کر نا پکاریں۔

پچھلے دنوں کالونی کی گلیوں میں ٹف ٹائلز لگنے کا آغاز ہوا۔ ان انکل کی دیوانگی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔۔دن میں دس بار کسی نا کسی کام سے گھر آنا ہوتا دروازہ بجاتے اور دروازہ کھولتے ہی ہمیں بھاگ کر جان بچانی پڑتی کیونکہ یہ پیچھے چھلانگ لگا کر دوڑے آتے۔۔باقاعدہ قلانچیں بھر کر ادھر لگتے ادھر لگتے پھر اسی طرح ناچتے گاتے باہر نکل جاتے۔

پرسوں فیملی سمیت انکو کسی شادی میں جانا تھا۔جلدی میں تھے انہوں نے آکے دھڑا دھڑ دروازہ پیٹا ۔۔بھابھی جا کر کھولنے لگیں میں نے پیچھے سے انکو کہا اگر انکل شمشیر ہو تو دوازہ کھول کر دوڑی آنا رکنا مت ورنہ یہ ٹکر مار کر گرا دے گیں۔

۔بھابھی ہنستے ہوئے دروازے تک پہنچی اور پوچھا . کون؟؟

آواز آئی . "بیٹا میں تمہارا چاچو " یہ سننے کی دیر تھی الٹے قدموں واپس بھاگیں اور مجھ کو اشارہ کیا کہ خود جا کر کھولو میں اتنا تیز نہیں دوڑ سکتی ۔۔میں نے جا کر دروازہ کھولا اور ایک طرف کو ہو گئی۔ اور پہلی بار انکل اندر نا آئے اور کہا "یہ لو بیٹا میرے گھر کی چابی ہم دو تین دن بعد آئیں گیں۔۔میں نے جلدی سے لے لی اور کہا اللہ حافظ انکل جی۔۔اور اس سے پہلے کہ میں دروازہ بند کردیتی پھر سے مڑے رکو رکو بیٹا ۔۔۔میں بادل نخواستہ رکی "جی۔۔۔۔"

جیتی رہو کہہ کر میرے سر پر ہاتھ رکھا اور اسی سبک رفتاری سے روانہ ہوگئے ۔۔

 205