یہ ظلم کا نظام

نغمئہ بےصدا - زیمشا سید

22 جنوری 2019

یہ ظلم کا نظام

جس طرح ڈاکٹر کا پیٹ پالنے کے لیئے لوگوں کا بیمار ہونا ضروری ہے اسی طرح صحافیوں اور سیاستدانوں کا منجن بکنے کے لیئے حادثات کا ہونا ضروری ہے۔۔۔یہ لوگ بھوکے گدھ کی مانند کسی سانحے کے منتظر رہتے ہیں۔۔۔

وہی معمول کی مذمتیں اور الزام تراشیاں۔۔۔ایک کے بعد ایک بریکنگ نیوز۔۔

ساہیوال میں کاونٹر ٹیررزم پولیس کے جعلی انکاونٹر نے ظلم و بربریت کی وہ داستان رقم کی ہے جسے رقم کرنا بھی ممکن نہیں۔۔۔ میں کیسے عمیر کا درد لکھوں؟ جو ویران آنکھوں سے اپنے ماں باپ اور بہن کے مرنے کی بریکنگ نیوز دے رہا تھا ۔۔۔

ہسپتال کے بستر پر وہ تڑپ رہا تھا پانی مانگ رہا تھا اک پل میں اسکا بچپن رخصت ہوگیا سر پر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔۔۔کیسے نبیلہ کی اذیت لکھوں جب اسنے اپنے تین بچوں کو آغوش میں چھپایا ہوگا کہ انہیں گولی نہ لگ جائے اور اریبہ جو کہ بڑی ہونے کے باعث ماں کی آڑ میں چھپ نہ سکی اس نے آخر دم اپنا قصور تو سوچا ہوگا

میں چشم تصور سے خود کو اس گاڑی میں دیکھتی ہوں سامنے میرے ملک کے "محافظ" بندوقیں تانے کھڑے ہیں

یا اللہ!! یہ تصور اتنا تکلیف دہ ہے کہ یوں لگتا ہے کہ دل پھٹ جائے گا!!

نہ ادھر ادھر کی تو بات کر بتا یہ قافلہ کیوں لٹا

مجھے رہزنوں کی خبر نہیں تیری رہبری سے سوال ہے

یہ ماڈل ٹاون نہیں تھا نہ یہ شریفوں زرداریوں کا دور ہے عثمان بزدار نے پھول پیش کردیئے وزیر اعظم Prime Minister اور صدر نے دردمندانہ ٹویٹس کردی۔۔ انصاف کا بول بالا ہوگیا؟؟

نہیں جناب! اب وہ وقت گیا جب عوام چپ کر کے اگلے سانحے کا انتظار کرتی تھی۔۔۔ اب اگر اس معاملے کو دبانے کی کوشش کی گئ تو حکومت ڈوب جائے گی

یہ عمران خان Imran Khan کے لیئے ٹیسٹ کیس بن گیا ہے ۔۔۔ چوبیس گھنٹوں کے اندر ایف آئی آر درج ہوئی اور مجرم پکڑے بھی گئے لیکن ایف آئی آر میں انکی نامزدگی نہ ہوسکی۔۔۔

پیٹی بند بھائی ایک دوسرے کو بچانے کے لیئے سرگرداں ہیں۔۔

اور پاکستان Pakistan کا قانون مجرموں کا سب سے بڑا محافظ ہے

معلوم ہوتا ہے کہ زینب کیس کی طرح اس میں بھی ایک آدھ کو تختئہ دار پر لٹکا کر معاملہ رفع دفع کردیا جائے گا جبکہ اطلاعات کے مطابق جےآئی ٹی پتہ لگا چکی ہے کہ اسمیں کونسے افسران ملوث تھے۔۔۔

سی ٹی ڈی اہلکار تو مہرے ہوتے ہیں اوپر سے آڈر کرنے والوں کی پکڑ ہونی چاہیئے اور پکڑ تو ان نام نہاد وزرا کی بھی ہونی چاہیئے جو ٹی وی پر آنے کے شوق میں پریس کے آگے بیٹھ کر ہذیان بکتے رہتے ہیں۔۔

وقوعے پر موجود لوگوں کی بنائی گئی ویڈیوز یکے بعد دیگرے وائرل ہوتی رہیں اور کچھ ہی گھنٹوں میں سارا کچا چٹھا سامنے تھا۔۔ ایک ویڈیو حیرت انگیز طور پر انتہائی قریب سے بنائی گئی HD کوالٹی ویڈیو اسوقت کی ہے جب اہلکار قتل عام کے بعد بچوں کو گاڑی میں ڈال رہے تھے یعنی ان ہی میں سے کسی نے بنائی اور سوشل میڈیا پر ڈال دی۔۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب باقاعدہ پلاننگ سے کیا گیا کڑیاں کہاں سے کہاں جاکر ملتی ہیں یہ بھی نظر آرہا ہے لیکن کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔۔۔چار لوگوں پر اندھا دھند گولیاں برسانے والوں نے پل پل مرنے کے لیئے بچوں کو زندہ چھوڑ دیا

اور راو انور جیسے قاتل کو بغل میں لیئے پھرنے والے آج بیان بازیاں کر رہے ہیں۔۔ کس کس کو روئیں ہم؟ اگر نقیب اللہ محسود کے قتل پر راو انور کو سزا ہوجاتی تو پشتون تحفظ موومنٹ افغانی ایجنٹوں کا کھلونا نہ بنتی

ماڈل ٹاون میں نامزد مجرموں کو سزا ہوجاتی تو یہ تین بچے آج یوں بے یارو مددگار نہ ہوتے۔۔۔

مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے

منصف ہوتو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے

 323