افغانستان Afghanistan میں امن ۔ اب یا کبھی نہیں

جر گہ - سلیم صافی

19 جنوری 2019

Afghanistan mein aman. ab ya kabhi nahi

سب فریق متحرک ہوگئے ہیں اور سب کو جلدی ہے۔ امریکہ United States کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد طالبان کے ساتھ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ اب کی بار انہوں نے قطر، سعودی عرب Saudi Arabia اور یو اے ای کے حکام سے ملاقاتوں کے علاوہ ہندوستان اور چین China کا بھی دورہ کیا۔ وہاں سے براستہ یو اے ای کابل گئے اور کابل میں تین روز تک تمام مشاورت کے بعد وہ پاکستان Pakistan پہنچے ہیں۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ، پنٹاگون اور سی آئی اے کے متعلقہ لوگ بھی ان کے ساتھ ہیں۔ کابل میں انہوں نے افغان حکومت سے نہیں بلکہ ہائی پیس کونسل اور دیگر متعلقہ لوگوں سے بھی بات چیت کی۔ ماضی کی کوششوں کے مقابلے میں فرق یہ ہے کہ اب کی بار زلمے خلیل زاد حد درجہ سنجیدہ ہیں اور انہیں جلدی بھی ہے۔ ان پر زیادہ دبائو اپنے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ہے۔ خلیل زاد، سی آئی اے، پنٹا گون اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو ڈر ہے کہ اگر انہوں نے کوئی حل نہ نکالا تو عنقریب اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ یکطرفہ طور پر کوئی بھی بڑ ااعلان کرسکتے ہیں۔ خود ڈونلڈ ٹرمپ کو افغان مسئلے کے حل میں زیادہ دلچسپی نہیں لیکن وہ بہر صورت اخراجات کم کرنا چاہتے ہیں اور خود امریکی اسٹیبلشمنٹ کو خدشہ ہے کہ اس سوچ کے تحت وہ کوئی بھی عاجلانہ اور غیرعاقلانہ قدم اٹھا سکتے ہیں۔افغان حکومت بھی پہلی بار حد سنجیدگی دکھارہی ہے او راسے بھی جلدی ہے۔ افغان حکومت بھی سب سے زیادہ ڈونلڈ ٹرمپ سے خوفزدہ ہے۔ ان کی طرف سے افغانستان Afghanistan سے افواج کے انخلا کے اشارے نے افغان حکومت کے مورال پر کافی اثر ڈالا ہے۔ افغان حکومت کو خدشہ ہے کہ کہیں امریکی اسے اسی حالت میں تنہا چھوڑ کر نکل نہ جائیں۔ اسے یہ بھی خوف لاحق ہے کہ اسے بائی پاس کرکے کہیں امریکہ United States اور پاکستان Pakistan مل کر طالبان کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہ کرلیں جو افغانستان Afghanistan نہیں بلکہ خود افغان حکومت کے لئے بھی تباہ کن ہوگا۔ اسی خوف کے پیش نظر افغان حکومت نے جہاں ایک طرف داخلی محاذ پر طالبان کے ساتھ رابطے بڑھادئیے ہیں وہاں وہ وقتی طور پر سہی لیکن پاکستان Pakistan کے آگے بالکل سرنڈر ہوگیا ہے۔ افغان صدر اشرف غنی جو گزشتہ دو سالوں کے دوران پاکستان Pakistan سے شدید ناراض تھے مسلسل مثبت پیغامات بھیج رہے ہیں۔ اپنے خصوصی نمائندے محمد عمر دائود زئی کے ذریعے انہوں نے پاکستانی حکام کو یہ پیغام بھیجا ہے کہ اگر پاکستان Pakistan طالبان کے ساتھ مفاہمت میں سنجیدگی دکھائے تو وہ جواب میں ان کے ملک کے حوالے سے پاکستان Pakistan کے تمام خدشات کو رفع کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یہ پیغامات وہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa کو بھی مسلسل دے رہے ہیں اور اگر اس موقع پر پاکستان Pakistan بھی گرمجوشی دکھائے تو مجھے یقین ہے کہ افغان حکومت پاکستان Pakistan کے ساتھ اسٹرٹیجک تعاون کے معاہدے کے لئے بھی تیار ہوجائے گی۔

پاکستان Pakistan مفاہمتی عمل کو کامیاب بنانے کے لئے پہلی بار پوری طرح کمربستہ ہوا ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa صرف جلوتوں میں نہیں بلکہ خلوتوں میں بھی یہی عزم ظاہر کررہے ہیں کہ افغان بحران کو بہر صورت حل کرلینا چاہئے۔ طالبان کو مفاہمت کے لئے آمادہ کرنے کی غرض سے انہوں نے ان دنوں پوری قوت لگا رکھی ہے۔ نہ صرف آئی ایس آئی پوری طرح سرگرم عمل ہے بلکہ جنرل قمر جاوید باجوہ General Qamar Javeed Bajwa ذاتی طور پر ان سیاسی اور مذہبی عناصر سے کام لے رہے ہیں جو طالبان پر کسی نہ کسی شکل میں اثر ڈال سکتے ہیں۔ طالبان کا منت ترلہ تو ہوہی رہا ہے پہلی بار طالبان شکایت کررہے ہیں کہ پاکستان Pakistan دبائو ڈال کر ان کو مجبور کررہا ہے اور گزشتہ روز پشاور سے طالبان کے ایک سابق وزیر کی گرفتاری کو وہ اس دبائو کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔پاکستان Pakistan کی سنجیدگی کی وجہ صرف یہ نہیں کہ اس کی موجودہ عسکری قیادت دلی طور پر مسئلے کے حل کا خواہش مند ہے بلکہ پاکستانی حکام کو بھی یہ خوف لاحق ہے کہ اگر امریکہ United States افغانستان Afghanistan کو اسی حال پر چھوڑ کر چلا گیا تو وہاں پر خانہ جنگی سے سب سے زیادہ پاکستان Pakistan متاثر ہوگا۔ ادھر امریکہ United States نے بھرپور دبائو ڈال رکھا ہے اور تعاون کی صورت میں آئی ایم ایف وغیرہ کے معاملات میں مدد کا لالچ بھی دے رہا ہے۔ علاوہ ازیں اپنی خواہش پر یا پھر امریکہ United States کے ایماپر سعودی عرب Saudi Arabia ، یواے ای اور قطر کی طرف سے بھی پاکستان Pakistan کو بار بار کہلوایا جارہا ہے کہ وہ طالبان کو مفاہمت کے لئے آمادہ کرلیں۔ اور تو اور چین China بھی پاکستان Pakistan کو امریکہ United States اور افغان حکومت کے ساتھ تعاون سے منع نہیں کررہا ہے بلکہ وہ کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ افغانستان Afghanistan میں امن کا متمنی ہے۔ یوں پاکستان Pakistan پہلی بار تمام تر وسائل بروئے کار لارہا ہے۔ اب کی بار پاکستان Pakistan کی سنجیدگی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سردست ہندوستان کو اس عمل سے باہر رکھا گیا ہے اور افغان حکومت مستقبل کے حوالے سے اس کے خدشات کا ازالہ کرنے کو بھی تیار نظر آتی ہے۔

مذکورہ تناظر میں دیکھا جائے تو افغانستان Afghanistan میں امن کے حوالے سے اب یا کبھی نہیں والی صورت حال بن گئی ہے۔ مفاہمتی عمل کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لئے ضروری ہے کہ امریکہ United States اپنے ہاں کے تضاد کو ختم کردے اور وائٹ ہائوس سمیت تمام ادارے افغانستان Afghanistan کے حوالے سے ایک فارمولے کو یکسوئی کے ساتھ آگے بڑھائیں۔ امریکہ United States اب بھی بعض اوقات پاکستان Pakistan کے ساتھ اور بعض اوقات افغان حکومت کے ساتھ کھیلتا ہوا نظر آتاہے۔ اسے ڈبل گیم ختم کرکے پاکستان Pakistan اور افغان حکومت کے ساتھ مل کر ایک قابل عمل فارمولا سامنے رکھنا چاہئے۔ اب اسے اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہئے کہ پاکستان Pakistan کے بغیر معاملہ آگے نہیں بڑھ سکتا لیکن ساتھ ساتھ دونوں کو یہ بھی تسلیم کرنا چاہے کہ افغان حکومت کے بغیر بھی معاملہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ افغان حکومت کمزور سہی لیکن وہ کسی بھی عمل کو کسی بھی وقت سبوتاژ کرسکتی ہے۔ اسی طرح ایران Iran جیسے ممالک کو بھی اعتماد میں لینا ہوگا اور ایران Iran کو امریکہ United States براہ راست اعتماد میں نہیں لے سکتا بلکہ یہ کام صرف افغان حکومت ہی کرسکتی ہے۔ اسی طرح امریکہ United States ہندوستان کو اعتماد میں ضرور لیتا رہے لیکن اسے دخیل کرنے سے باز رہے کیونکہ امن عمل میں پاکستان Pakistan کو جو کریڈٹ مل رہا ہے اس کے تناظر میں ہندوستان ضرور معاملات کو خراب کرے گا جبکہ دوسری طرف اس کے دخیل ہوجانے سے پاکستان Pakistan بھی دوبارہ ہاتھ اٹھا سکتا ہے۔ افغان حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ ماضی کی طرح جلدبازی نہ دکھائے اور ہندوستان یا کسی اور کی شہ پر پاکستان Pakistan کو آنکھیں دکھانے سے گریز کرے۔ افغان حکومت کو چاہئے کہ وہ اسٹرٹیجک پارٹنرشپ معاہدہ کرکے پاکستان Pakistan کے خدشات کو حقیقی معنوں میں رفع کرے۔ طالبان کو بھی چاہئے کہ وہ اپنے رویے میں لچک لائیں۔ انہیں یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ افواج نکالنے کے معاملے پر امریکی کسی بھی وقت یوٹرن لے سکتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ طالبان کو شکست نہیں دی جاسکی لیکن طالبان کو یہ بات بھی مدنظر رکھنی چاہئے کہ افغان عوام اور خطے کے ممالک بھی جنگوں سے تنگ آچکے ہیں۔ طالبان نے نیٹوافواج کے مقابلے میں تاریخی جنگ لڑی ہے لیکن اگر پاکستان، سعودی عرب Saudi Arabia ، یو اے ای ور قطر جیسے ممالک بھی مخالف بن گئے تو پھر ان کا کام بہت مشکل ہوجائے گا۔

 299