بیوٹی پارلر

کھٹی میٹھی کرنیں - کرن خان

15 جنوری 2019

beauty parlour

چند سال پہلے کی بات ہے ۔ چاچو کی شادی تھی ہم بہنوں نے طے کیا اس بار ہم بھی بیوٹی پارلر سے تیار ہو کے دیکھتی ہیں۔۔اس سے قبل نا شوق تھا نا ضرورت؛ لیکن اس شادی پر پہلی بار پارلر سے تیار ہونے کی ٹھانی۔ایک اچھے سے پارلر کا انتخاب کیا اور بھائی کے ساتھ شادی والے دن دوپہر کو پہنچ گئے۔امی کی سخت ہدایت تھی کی شام کو بارات روانگی سے قبل واپس آنا ہے۔ ہمیں قطعا اندازہ نا تھا کہ کتنی دیر لگتی ہے۔ خیر ہم تھوڑے بہت نروس Russia کہ دیکھو ہمیں یہ کیا شکل دیتی ہے۔میں نے احتیاطا پارلر والی سے کہا۔۔"دیکھیں بیس زیادہ نا لگائیے گا"کیونکہ میں نے اکثر شادیوں پرکئی لٹھے جیسی سفید لاشیں دیکھیں تھیں اور دل میں ڈر کہ ہم کو بھی ایک ایسی ہی لاش نا بنا دے۔ پارلر والی نے ایک کان سے سنا دوسرے سے نکال دیا۔لیپا پوتی شروع کردی ۔مجھے تشویش تو ہو رہی تھی لیکن میک کرنے والی نے سر اٹھا کر شیشہ دیکھنے کی اجازت نا دی۔۔کوئی آدھہ گھنٹہ میرے چہرے پر کاری گری کرنے کے بعد اب اس نے اجازت دی کہ شیشہ دیکھ لو ،میں نے اب آپکے بال بنانے ہیں۔ میں نے فورا کرسی پر رکھا سر اٹھایا اور شیشے پر نظر پڑتے ہی میرے چھکے چھوٹ گئے۔ اس نے میری شکل بدل دی مجھے اپنی پہچان ہی نا ہو ئی۔بیسں کی ایک موٹی سی تہہ جمی ہوئی جس نے میرے چہرے کے نیچرل تاثرات کو سپاٹ کردیا۔آنکھوں کا میک اپ ایسا تھا کہ ان کو کھینچ کر گویا کانوں تک ملا دیا تھا میں نے حیرت سے ان کو دیکھا اور پوچھا "آنکھوں کے ساتھ کیا کیا"؟

۔بتایا گیا یہ سموکی ٹچ والی بنائی ہیں۔ مجھے تو یوں لگا جیسے دونوں آنکھوں پر کوئی وزنی چیز گزر گئی ہے لہذا یہ پھیل کر کالی نیلی ہوگئی ہیں۔

لپ اسٹک ہونٹوں سے باہر تک لگائی گئی اور وہ بھی ڈارک ریڈ ،یوں محسوس ہورہا تھا تازہ تازہ کسی کا خون پیا ہے۔۔سادہ معصوم شکل لے کر آئی تھی اور بدلے میں خرانٹ اور مکار شکل بنوا کر اب صدمے سے گنگ بیٹھی تھی۔

حواس بحال ہوئے ڈرتے ڈرتے بہن پر نظرڈالی مجھ سے بھی بدتر انجام اسکا ہوا پڑا تھا۔کپڑوں سے ہی پہچان پائی میں کہ یہ بہن پڑی ہے۔کیونکہ ہیوی میک اپ سے اسکے بھی سارے نقوش چھپ گئے اور اس کی جگہ ایک بے تاثر "چینی مجسمہ "پڑا ہوا تھا۔میں پریشان کہ میری بہن کی ناک تو اچھی خاصی لمبی تھی انہوں نے کاٹ لی یا سرجری کی کچھ سمجھ نا آرہا تھا کیونکہ ناک چھوٹی ہو چکی تھی۔اس کے گھنے بالوں میں کوئی ایسا سپرے کیا کہ اب یوں پھولے ہوئے تھے جیسے اس کے بالوں میں بم پھٹا ہو۔

وہ البتہ اپنے حلیے سے خوش نظر آرہی تھی کیونکہ اس کو یہ چینج پسند آیا تھا۔میرا دل البتہ سخت بدمزہ ہوچکا تھا اور دل ہی دل میں اس وقت کو کوس رہی تھی جب میں پارلر تیار ہونے آئی۔۔میرے سر پر اونٹوں والا ایک کوہان بنایا گیا۔دو گھنٹے بعد ہم بہنیں تیار تھیں۔

بھائی کو میسج کردیا کہ لینے آو کیونکہ شام ہونے والی تھی۔

دل تو میرا چاہ رہا تھا منہ دھو کہ باہر نکلوں کیونکہ یہ میک اپ مجھے زرا نا پسند آیا تھا۔شیشے پر نظر پڑتی ڈوب کے مرنا آتا ۔۔یوں لگتا کوئی سٹیج ڈانسر کھڑی ہو جیسے، بہن بار بار تسلی دے رہی آپی بہت اچھی لگ رہی ہو لیکن میرے لیے شادی میں امی ابو کے سامنے جانے کا تصور ہی سوہان روح تھا۔

بہرحال بھائی آگئے باہر لینے، مرتا کیا نا کرتا ۔چادریں اوڑھی باہر آگئیں۔جیسے آکے گاڑی میں بیٹھے بھائی دیکھتے ہی اچھل پڑا "اوئے میری بہنیں ہی ہو نا"؟؟ کسی اور کی عورتیں تو نہیں لے کے جا رہا؟!

بہن خوشی سے چہکی"دیکھا آپی ہم اتنا پیاری تیار ہوئیں کہ بھائی کو پہچاں ہی نہیں ہوئی"۔بھائی نے واپسی جواب دیا " پیاری تو ایسی لگ رہی ہو ابھی ویران جگہ چھوڑ دیا جائے تمہیں چڑیل سمجھ کر اگلوں کو اٹیک ہوجاے ۔" بہن کی گھورتی آنکھوں کی پروا کیے بغیر بولتا رہا "یہ بالوں کو کیا کروا دیا؟؟"

اس ڈیزاین کو بنانے کے لیے کیا تکنیک استمعال ہوئی؟!تمہیں کرنٹ لگایا یا بم پھوڑا بالوں میں؟؟

بہن روہانسی ہو کے میری طرف مڑی ۔"آپیییییی"

میں کیا جواب دیتی بھائی سے سو فیصد متفق تھی۔چادر میں خود کو چھپایا ہوا تھا اس لیے بھائی پر میرے جوہر نا کھلے تھے ابھی، ہنستے ہوئے بولا"آپی کی زبان نکال لی کیا پارلر والوں نے؟؟ یہ کیوں چپ چپ ہیں ؟؟ " چلو آپ کو چڑیل نہیں کہونگا اب تو بولو؟

میں صدمے سےنکلتی تو کچھ بولتی ۔شادی والا گھر آگیا اور میرے ماتھے پر پسینہ کہ اب اندر کیسے جائیں۔۔باہر ابو ٹھہرے ہوِے تھے شرم میں اضافہ کہ ابو کو بیٹیوں کی پہچان آئے گی یا نہیں۔

چادر میں خود کو چھپایا اور اندرسر جھکا کہ گزر گئے۔۔ابو کا دھیان نہیں آیا ہماری طرف میں نے دل میں شکر ادا کیا۔۔اور دعا بھی کی "کاش آج میرا ابو سے سامنا نا ہو ۔اندر آنے کے بعد عورتوں کا ملا جلا ری ایکشن، چند ایک نے تعریف کی باقی سب نے کسی نا کسی شکل میں مذاق اڑایا۔امی کا تو غصہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا،بار بار ایک ہی بات کرتیں ۔"اتنے پیسے برباد کردیے اور شکلیں بھی بدلوا لیں"

بہن کو تو زیادہ فرق نا پڑا تھا کیونکہ وہ اپنی اس "لک " سے خوش تھی میں البتہ شرمندگی سے مزید زمیں میں گڑ گئی تھی۔بارات روانہ ہوئی ۔۔ہال میں آگئے روشنیاں زیادہ تھیں لہذا "بھوت " لگنا کچھ کم ہوگیا۔ فوٹو سیشن کی شروعات ہوئی میں ڈر کے مارے کوئی تصویر بھی نا بنوا رہی تھی ایک ہی جگہ دبکی رہی۔وہی ہوا جس کا ڈر تھا ابو آگئے دلہے چاچو کے ساتھ اندر۔۔

میں ایک طرف کو چھپ گئی ابو نے امی سے میرے بارے دریافت کیا امی نے مجھے بولا لیا۔میں نظریں زمیں میں گاڑے آ گئی۔ابو کی آنکھوں میں ہم دونوں بہنوں کو دیکھ کر حیرت ابھری جو کہ بے ساختہ مسکراہٹ میں بدل گئی۔۔بہن تنک کر بولی" آپ ہنس کیوں رہے ہیں۔۔؟"

ہنستے ہنستے بولے"تم لوگوں کے ایکسپریشن لیس مصنوعی چہرے دیکھ کر ہنسی آگئی۔یوں لگ رہا ہے زندہ لاشیں چل پھر رہی ہیں۔۔"

مجھے پتہ تھا ابو کے اور میرے خیالات ایک ہی تھے۔اسی لیے تو چھپ رہی تھی۔

بہرحال ایک یادگار دن اس میک اپ کی وجہ سے بے تکے دن میں بدل گیا۔میں نے دل ہی دل میں ٹھانی کہ آیندہ کبھی زندگی میں پارلر نا جاونگی۔۔لیکن یہ میری خام خیالی ثابت ہوئی۔

بہن کی شادی تھی اسکو پارلر لے گئے۔واپس آنے کا وقت نہیں تھالہذا ہمیں بھی وہی سے تیار ہونا پڑا۔اس بار بیس انتہائی کم لگوائی کہ مجھے لاش نا بناو۔لیکن کنٹرونگ محترمہ نے اتنی زیادہ کردی کہ میرے گال پچکے ہوئے بنا دیے۔۔شیشہ دیکھا پھر سے میک اپ پسند نا آیا۔

ماموں کی شادی پھر سے کسی اور پارلر کے ہتھے چڑھے۔اس بار مجھے اپنا آپ کم اور مصنوعی پن زیادہ نظر آیا پھر سے بدمزگی۔

۔۔کزن کی شادی ہوئی ۔خالہ نے ایک پارلر کی بڑی تعریف کی۔انکے ساتھ گئے' پارلر والی نے تین چار لڑکیوں کو تیار کیا ہوا تھا ۔ہمیں سیمپل کے طور پر دکھایا۔مجھے شدید حیرت ہوئی کیونکہ لڑکیاں کم اور "خواجہ سرا" زیادہ لگ رہیں تھیں۔۔میں خالہ کو ایک طرف لے گئی اور بڑبڑائی۔۔" یہ تو کھسرے تیار کرتی ہے "

میں مر جاونگی اس سے تیار نہیں ہوونگی۔(جاری ہے)

 176