کچھ نئے کی تلاش میں

آخر کیوں - رؤف کلاسرا

13 جنوری 2019

کچھ نئے کی تلاش میں

وزیرخزانہ اسد عمر جب اسلام آباد کے ٹی وی اینکرزاور صحافیوں کو آئی ایم ایف پروگرام بارے بتا رہے تھے تو میں خاموش بیٹھا یہ سوچ رہا تھا کہ اس میں نیا کیا ہے ؟ کیا نئی بات ہے جو بیس سالوں میں اسد عمر سے پہلے وزرائے خزانہ سے ہم نے نہیں سنی ہوگی؟ اسد عمر پوری کوشش کررہے تھے کہ صحافیوں کو پتہ نہ چلے کہ وہ آئی ایم ایف سے قرضہ لیں گے یا نہیں۔ ایک سانس میں وہ کہتے: ہمارا مشکل وقت گزر گیا ہے اور آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں لیکن ساتھ یہ بھی بتا دیتے کہ پانچ ماہ سے مذاکرات چل رہے ہیں۔ لگتا ہے آئی ایم ایف سے مذاکرات ہوتے ہیں‘ ان کی شرائط کو ای سی سی کے اگلے اجلاس میں پورا کردیا جاتا ہے پھر نئے مذاکرات شروع ہوجاتے ہیں۔ وہ پھر نئی شرط رکھ دیتے ہیں اور اسد عمر وہی کام اگلے ماہ کردیتے ہیں۔ اس کھیل کا ایک فائدہ اسد عمر صاحب کو ہورہا ہے کہ ہم میں سے کوئی یہ الزام نہیں لگا سکتا کہ سب آئی ایم ایف کے کہنے پر ہورہا ہے ۔یہی وجہ تھی صحافیوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ آپ نے آئی ایم ایف سے قرضہ بھی نہیں لیا لیکن ان کی شرائط مان چکے ہیں تو پھر شرمانے کی کیا ضرورت ہے ڈالرز بھی لے لیں تاکہ مارکیٹ میں ڈالر اور روپے میں جاری چوہے بلی کا کھیل رک سکے۔ نئے نئے ٹیکس لگ رہے ہیں‘ پاکستانی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں تقریباًبارہ پندرہ روپے تک گر چکا ہے ‘ گیس اور بجلی کی قیمتیں کب کی بڑھ چکی ہیں اورمزید بڑھنے والی ہیں کیونکہ ابھی پچاس ارب روپے کے مزید ٹیکس لگانے کا پروگرام بن رہا ہے ۔تو پھر قرضہ لے ہی لیں تاکہ مارکیٹ سے افواہیں ختم ہوں۔اسد عمر نے یہ کہہ کر ہم سب کو ڈرانے کی کوشش کی کہ وہ اگر ہمیں آئی ایم ایف کی ساری شرائط گنوا دیں تو شاید ہم چھت سے جا لگیں۔ کہنے لگے کہ انہوں نے آئی ایم ایف کے وفد سے کہا کہ وہ پاکستان Pakistan سے ایک ماہر معیشت لے آئیں جو کہہ دے کہ آئی ایم ایف کا پروگرام پاکستان Pakistan کے لیے اچھا ہے تو وہ مان لیں گے‘ آئی ایم ایف کا وفد چپ رہا۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف کیوں شرائط رکھتا ہے ؟ اسے تو پاکستان Pakistan جیسے ملکوں اور ان کے سیاسی لیڈروں اور سرکاری بابوئوں کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ یہ لوگ دراصل ان کے عالمی کاروبار کو پرافٹ ایبل بنانے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ اگر ہمارے سیاسی لیڈرز اور افسر اہل ہوجاتے تو آئی ایم ایف سے کون قرضہ لیتا اورمزید قرضے لے کر سود سمیت واپس کرتا؟ پاکستان Pakistan اب تک تقریباً چودہ کے قریب آئی ایم ایف سے پروگرام یا قرضے لے چکا ہے اور سود سمیت واپس کر چکا‘ بلکہ پچھلی دفعہ اسحاق ڈار نے جو قرضہ لیا تھا وہ تو پاکستان Pakistan ٹرانسفر تک نہیں ہوا تھا بلکہ آئی ایم ایف نے اپنے پرانے قرضوں میں ایڈجسٹ کر لیا تھا۔ اب تو ہر نیا قرضہ پرانے قرضے کو واپس کرنے کے لیے لیا جاتا ہے ۔سوال وہیں موجود ہے کہ اگر چودہ دفعہ قرضہ لے کر بھی پاکستان Pakistan خود کو پیروں پر کھڑا نہیں کرسکا تو پندرہویں دفعہ کیا فرق پڑ ے گا‘ خصوصاًجب یہ قرضہ پرانے قرضے واپس کرنے کے لیے لیا جانا ہے ؟ ویسے تو ہم آئی ایم ایف پروگرام میں اس لیے جاتے ہیں کہ اپنی کمزوریاں دور کر کے مشکل سے نکل آئیں اور اتنے پیسے اور ڈالرز خود کمانا شروع کر دیں کہ آئندہ کسی سے قرض نہ مانگیں۔ تو پھر اب تک چودہ پروگرام لے کر بھی ہم کیوں اپنے پیروں پر کھڑے نہیں ہوسکے ؟ لیڈروں اور بیوروکریٹس نے لندن‘ دبئی‘ نیویارک تک بینک بھر لیے اور جائیدادیں خرید لیں جبکہ ملک دن بدن کنگلا ہوتا چلا گیا ۔

آپ ڈالر کس طرح کما سکتے ہیں؟ پہلا طریقہ ایکسپورٹ ہے کہ آپ دنیا سے کاروبار کرتے ہیں‘ آپ دنیا کے جس کونے میں جاتے ہیں وہاں پاکستان Pakistan میڈ چیزیں نظر آتی ہوں جیسے آج کل بنگلہ دیش یا ویت نام کی نظر آتی ہیں۔ اس محاذ پر بھی ہم ناکام ہوئے ۔ ہمارے ایکسپورٹرز ہر دفعہ ایک ہی گلہ کرتے ہیں کہ انہیں مراعات نہیں ملتیں اور وہ عالمی مارکیٹ میں مقابلہ نہیں کر سکتے ۔ ہر دفعہ وہ ہر حکومت سے نئی مراعات لیتے ہیں اور پھر نئے سرے سے شور مچا کر نئی مراعات لیتے ہیں اور پھر دوبارہ رونا دھونا شروع کر دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایکسپورٹرز مراعات لے کر جواب میں اس ملک کے لیے کتنے ڈالرز واپس لا رہے ہیں؟ تو سن لیں سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق پاکستانی ایکسپورٹرز ملک کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ وہ ڈالرز واپس لانے کی بجائے بیرون ملک جائیدادیں خرید رہے ہیں۔ پانامہ میں ایسے کئی ایکسپورٹرز کے نام آئے ہیں ۔

اور سنیں‘ جب پیپلز پارٹی کی دو ہزار تیرہ میں حکومت ختم ہوئی تو ایکسپورٹس چوبیس ارب ڈالر billion dollor تھیں اور جب پانچ سال بعد نواز لیگ کی حکومت ختم ہوئی تو ایکسورٹس اٹھارہ انیس ارب ڈالر billion dollor ز تک رہ گئیں۔ یہ کارباریوں اور کارخانہ داروں کی حکومت تھی تو اس وقت ایکسپورٹس گرگئیں۔ پانچ ارب ڈالر billion dollor ز کی کمی کوئی معمولی بات نہ تھی‘ مگروزیراعظم نواز شریف Nawaz Sharif کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔

ڈالرز کمانے کا دوسرا طریقہ تھا بیرون ملک سے سرمایہ کار لایا جائے ۔ نواز شریف Nawaz Sharif دنیا بھر کے سیر سپاٹے کرتے رہے ۔ ایک سو سے زائد ملکوں کا دورہ کیا جس میں تیس دفعہ وہ لندن گئے ۔ ڈیڑھ ارب روپے ان دوروں پر خرچ ہوئے۔ ان دوروں کے نتیجے میں بیرون ملک سے کوئی بڑی سرمایہ کاری نہ آئی۔ نواز شریف Nawaz Sharif نے سب کچھ اسحاق ڈار کے حوالے کیا کہ کھل کر کھیلو اور خود وہ مارکو پولو بن کر دنیا بھی کی سیر کو نکل گئے اور وہاں سے سیدھے جیل۔

یہ تھا ہمارا کاروباری وزیراعظم‘ جس کے دور میں پانچ ارب ڈالر billion dollor ایکسپورٹس کم ہوئیں‘ لیکن ماشاء اللہ ان کے اپنے ذاتی کاروبار نے بہت ترقی کی اور ایسی ترقی کہ دنیا دیکھتی رہ گئی۔ انہی کے دور میں چالیس ارب ڈالر billion dollor ز کے نئے قرضے لیے گئے ۔ یہ قرضے چین China کے سی پیک CPEC کے اربوں ڈالرز قرضوں کے علاوہ تھے ۔ اور کچھ سمجھ نہ آئی کہ کہاں قرضے لگائیں اور ملک کو ڈبو کر جائیں تو لاہور میں پونے دو ارب ڈالر billion dollor ز کی ٹرین شروع کردی جو صرف چھبیس کلومیٹر ہے ۔ کبھی سنا ہے کہ چھبیس کلومیٹر پر پونے دو ارب ڈالر billion dollor ز لگائے جائیں اور وہ بھی ڈالرز میں قرضہ لے کر؟

ڈالرز کمانے کا تیسرا طریقہ تھا پاکستانیوں کوبڑی تعداد میں باہر بھیجا جاتا۔ باقی چھوڑیں قطر جہاں شریف خاندان کے اپنے کاروباری حکمران ہیں انہوں نے بھارت India سے لیبر فورس منگوا لی لیکن نواز شریف Nawaz Sharif اپنے ملک کے لیے کوئی ایسی ڈیل نہ لے سکے ۔ یوں دنیا بھر سے پاکستانی واپس آنا شروع ہوئے اور وہ جو زرمبادلہ بھیجتے تھے وہ بھی زیادہ نہ ہوسکا۔

بیرون ملک ہمارے سفارت کاروں اور سفیروں نے کبھی دفتروں سے باہر نکل کر نہ دیکھا کہ وہ اپنے ملک کو اس مشکل سے کیسے نکال سکتے ہیں؟ انہیں ایک ہی بات سے غرض ہے کہ اپنے بچوں کو غیرملکی یونیورسٹیز میں اپنے قیام کے دوران داخلے کرا کے انہیںشہریت لے دیں اور خود ریٹائرمنٹ پر وہیں جا کر مستقل آباد ہوں۔ اب ڈپلومیٹس پاکستان Pakistan سے ڈالروں کا انتظار کرتے ہیں تاکہ ان کے اللے تللے چلتے رہیں۔ کسی نے ان بابوئوں سے نہ پوچھا کہ تم نے ایکسپورٹس بڑھانے یا ان ملکوں میں پاکستان Pakistan سے لیبر فورس بڑھانے کے لیے کیا کوششیں کیں؟ اگر کبھی آپ ان پاکستانی ڈپلومیٹس کی بیرون ملک رہائش گاہیں ‘ گاڑیاں اور ٹھاٹ دیکھیں تو آنکھیں کھلی رہ جائیں۔ ہمیں ان عیاشیوں پر اعتراض نہ ہوتا اگر یہ لوگ دنیا بھر سے ہمیں بزنس لے کر دے رہے ہوتے اور ہمارے پاس ڈالروں کی بھرمار ہوتی۔ ہم قرضہ لے کر ان سفیروں کی عیاشیوں کا خرچہ پورا کررہے ہیں۔ آج تک کبھی آپ نے سنا ان سفیروں نے ہماری تجارت بڑھانے کے لیے خاطر خواہ کوششیں کی ہوں۔ ہوسکتا ہے دو تین سفیروں نے واقعی کچھ کیا ہو لیکن اوورآل آپ کو مایوسی ہوگی کہ یہ سب لوگ وہاں اربوں روپوں کا بجٹ ہر سال خرچ کرکے بھی ہمارے لیے کچھ نہ کر سکے ۔

اگر کسی نے سیکھنا ہو کہ سفارت کاری کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کا بزنس امیج بہتراور اس ملک کے لوگوں کو اپنا دیوانہ بنا کر رکھنا ہو تو وہ پاکستان Pakistan میں جرمنی کے سفیر مارٹن کوبلر کو دیکھ لیں ۔ پاکستانی لوگوں کو تو شاید پاکستان Pakistan کے فارن سیکرٹری کے نام کا پتہ نہ ہو لیکن جرمن سفیر کو سب جانتے ہیں۔ ہم خود کچھ کرتے ہیں نہ دوسروں سے سیکھنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ ہاں اپنے ملک کو لوٹنا ہو‘ بیرون ملک جائیدادیں بنانی ہوں یا غیرملکی بینک بھرنے ہوں‘ تو پھر ہم سے کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا۔

 325