ملک ایمرجنسی کے دہانے پر

زیرو پوایٔنٹ - جاوید چوھدری

11 جنوری 2019

malik emergency ke dhanay par

ہمیں بات آگے بڑھانے سے قبل یہ ماننا ہوگا پاکستان Pakistan پیپلز پارٹی ملک کےلئے انتہائی ضروری ہے‘ کیوں؟کیونکہ یہ ملک کی واحد لبرل پارٹی ہے اور یہ تاریخی حقیقت ہے ملک رجعت پسند جماعتوں اور گروپوں کی وجہ سے ٹوٹ تو سکتے ہیں‘ چل نہیں سکتے‘ہم بھی اگر ملک کو چلانا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں لبرل پارٹیاں چاہئیں اور یہ اس وقت واحد لبرل پارٹی ہے‘ دوسری وجہ یہ ملک کی واحد جماعت ہے جس کی جڑیں پورے ملک میں موجود ہیں‘ یہ درست ہے پیپلزپارٹی کا پنجاب سے مکمل صفایا ہو چکا ہے اور پانچ دریاﺅں کی سرزمین اب پاکستان Pakistan مسلم لیگ ن اور پاکستان Pakistan تحریک انصاف کا میدان جنگ بن چکی ہے

لیکن جیالے آج بھی زندہ ہیں اور جس دن پارٹی کو ایک

اچھی اور مخلص قیادت مل گئی یہ جیالے پارٹی کوپنجاب میں ایک بار پھر زندہ کر دیں گے‘ میں دل سے سمجھتا ہوں اگر پیپلز پارٹی ختم ہو گئی تو ملک میں پھر کوئی سنٹرل پارٹی نہیں بچے گی‘سیاست علاقائی‘ مذہبی اور نسل پرست جماعتوں کے ہاتھ میں چلی جائے گی‘ یہ جماعتیں مل کر وفاق میں حکومتیں بنائیں گی‘ وہ حکومتیں بہت کمزور ہوں گی اور وہ کمزور حکومتیں ملک کو مزید کمزور کر دیں گی چنانچہ ہمیں ہر صورتحال میں سنٹرل پارٹیاں چاہئیں اور تیسری وجہ آج بھی پاکستان Pakistan پیپلز پارٹی ملک کی واحد جماعت ہے جس میں سب سے زیادہ تجربہ کارلوگ موجود ہیں‘ یہ لوگ 1960ءاور 1970ءکی دہائی میں سیاست میں آئے اور یہ اب پوری طرح پک چکے ہیں‘ ان لوگوں کو اگر ایک ایماندار اور سمجھ دار قیادت مل جائے تو یہ لوگ آج بھی ملک چلا سکتے ہیں۔ہم اب اس سوال کی طرف آتے ہیں کیا بلاول بھٹو Bilawal Bhutto اور مراد علی شاہ جعلی اکاﺅنٹس اور منی لانڈرنگ Money laundering کا حصہ تھے‘ میرا خیال ہے نہیں‘ ہم مراد علی شاہ سے لاکھ اختلاف کر سکتے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے یہ ایک پڑھے لکھے‘ متحرک اور مخلص وزیراعلیٰ ہیں‘ یہ اپنے صوبے کو ترقی یافتہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ان کے راستے میں فریال تالپور اور آصف علی زرداری کے سپیڈ بریکر ہیں‘یہ سپیڈ بریکرز ان کی رفتار کو بڑھنے نہیں دے رہے‘ یہ جس دن ہٹ گئے مراد علی شاہ اس دن سندھ کےلئے میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif ثابت ہوں گے

اور جہاں تک بلاول بھٹو Bilawal Bhutto کا معاملہ ہے یہ اپنے والد اور پھوپھی کی فصل کاٹ رہے ہیں‘ یہ جب بھی اڑنے لگتے ہیں تو ماضی ان کے دونوں پروں کا بوجھ بن جاتا ہے اور یہ نیچے جا گرتے ہیں‘ یہ نیا ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو ثابت ہونا چاہتے ہیں لیکن یہ اپنے بزرگوں کے سائے سے باہر نہیں آ پا رہے‘ پاکستان Pakistan پیپلز پارٹی کو اب یہ فیصلہ کرنا ہوگا یہ پنجاب کی طرح سندھ سے بھی مکمل فارغ ہو جائے یا پھر یہ بلاول بھٹو Bilawal Bhutto کو مکمل آزاد اور خود مختار چیئرمین بنا دے‘ پارٹی کے تمام فیصلے ان کے ہاتھ میں ہوں اور یہ آزادی کے ساتھ فیصلے کریں‘

حکومت نے ان کا نام ای سی ایل پر ڈال کر اور جے آئی ٹی نے ان کو جعلی اکاﺅنٹس میں ملوث کر کے زیادتی کی‘ یہ زیادتی اب بلاول کی زبان اور سوچ دونوں میں ظاہر ہو رہی ہے تاہم چیف جسٹس ثاقب نثار نے ان کا نام جے آئی ٹی اور ای سی ایل سے نکال کر بہت اچھا کیا‘ والد کی غلطیوں کی سزا بیٹے کو نہیں ملنی چاہیے‘ یہ اگر والد کے ساتھ بریکٹ رہتے تو یہ اینٹی پاکستان Pakistan اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہو جاتے اور یہ بلاول اور ملک دونوں کے ساتھ زیادتی ہوتی‘ ہم اب موجودہ سیاسی صورتحال کے حل کی طرف آتے ہیں۔

پہلا حل جعلی اکاﺅنٹس کیس سے متعلق ہے‘ ہمیں یہ ماننا ہوگا ہم ایڑی چوٹی کا زور بھی لگا لیں تو ریاست بیس سال میں جعلی اکاﺅنٹس کیس نہیں نبٹا سکے گی‘ آپ کو اس کےلئے سینکڑوں ایکسپرٹس پر مشتمل ٹیم بھی چاہیے ‘ نجف مرزا‘ بشیر میمن Yemen اور احسان صادق جیسے مخلص اور نڈر افسر بھی اور جسٹس ثاقب نثار جیسا چیف جسٹس بھی اور ہم ایسے کتنے لوگ اکٹھے کر لیں گے اور یہ کب تک تحقیقات کر لیں گے اور اگر تحقیقات ہو بھی گئیں تو ہمیں مجرموں کو سزا دینے کےلئے قانون میں ترمیم کرنا پڑے گی

اور ترمیم کےلئے موجودہ حکومت کے پاس پارلیمنٹ میں مطلوبہ ارکان ہیں اور نہ کیپسٹی‘ اپوزیشن حکومت کونیا قانون بنانے اور پرانے قانون میں ترمیم کی اجازت نہیں دے گی اور اگر یہ ہو گیا تو بھی جعلی اکاﺅنٹس کا پیسہ ملک سے باہر جا چکا ہے‘ ہمیں یہ پیسہ واپس لانے کےلئے ان ملکوں کا قانون تبدیل کرانا پڑے گا اور یہ ہمارے بس کی بات نہیں ہو گی‘ ایران Iran 1978ءسے برطانیہ‘ یورپ اور امریکا سے شاہ ایران Iran کا پیسہ واپس مانگ رہا ہے‘ ایران Iran کو آج تک ایک دھیلا نہیں ملا‘ فلپائن کے فرڈی نینڈ مارکوس نے 16بلین ڈالر billion dollor لوٹے تھے‘

یہ بھی آج تک فلپائن واپس نہیں آئے‘ مصر کے حسنی مبارک‘ لیبیا کے کرنل قذافی‘ تیونس کے زین العابدین بن علی اور عراق Iraq کے صدام حسین Saddam Hussain کے اربوں ڈالر بھی یورپ‘ امریکا اور برطانیہ کے مگرمچھ کھا گئے‘یہ رقمیں بھی واپس نہیں آئیں‘ ہمیں بھی یہ رقم واپس نہیں ملے گی اور ہم الٹا تحقیقات‘ مقدمات اور جیلوں پر مزید اربوں روپے ضائع کر دیں گے‘ اومنی گروپ اس وقت ظاہری اور خفیہ 14شوگر ملوں کا مالک ہے‘ یہ شوگر ملیں اس وقت تک ورکنگ پوزیشن میں ہیں‘

یہ آنے والے چند مہینوں میں کاٹھ کباڑ بن جائیں گی‘ سکینڈل کی زد میں آنے والے بینک بھی تباہ ہو جائیں گے‘ ان بینکوں کے لاکھوں کھاتہ دار بھی سڑکوں پر آ جائیں گے اور سکینڈل میں ملوث زیادہ تر لوگ بوڑھے اور بیمار ہیں‘ یہ اس دوران انتقال کر جائیں گے اور یوں ان کا مال جس جس شخص کے پاس ہے وہ ڈکار مار جائے گا چنانچہ ہمیں آخر میں اس احتساب کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا‘ ہم ہرطرف سے خسارے میں رہیں گے لہٰذا میری حکومت سے درخواست ہے آپ ایک مثبت اور بڑا یوٹرن لیں‘

آپ ایک بڑی ایمنسٹی سکیم لانچ کریں اور آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف Nawaz Sharif سمیت تمام لوگوں کو این آر او دے دیں‘یہ لوگ اپنی جائیدادیں‘ جعلی اکاﺅنٹس اور منی لانڈرنگ Money laundering کی رقمیں خزانے میں جمع کرا دیں‘ پارٹی کی قیادت اور سیاست چھوڑ دیں اور دنیا میں جہاں جانا چاہیں چلے جائیں‘ حکومت اومنی گروپ کی شوگر ملیں‘ زمینیں اور کمرشل پراپرٹیز بھی نیلام کر دے اور یہ سارا سرمایہ ڈیم فنڈ میںجمع کرا دے یوں ریاست کو اربوں روپے بھی مل جائیں گے اور یہ تحقیقات اور مقدمات کی خواری سے بھی بچ جائے گی ورنہ دوسری صورت میں ہم مزید دو چار ارب روپے ضائع کر بیٹھیں گے۔

دوسرا حل کرپشن سے متعلق ہے‘ حکومت مستقبل میں کرپشن کے خاتمے کےلئے خفیہ اداروں کا ایک خفیہ سیل بنا دے‘ یہ سیل کرپشن کے خلاف خفیہ تحقیقات کرے اور جوں ہی کوئی شخص‘ کوئی عہدیدار کرپٹ ثابت ہو جائے حکومت دہشت گردوں کے خلاف فوجی عدالتوں کی طرح اس شخص کے خلاف خفیہ مقدمہ چلائے‘ رقم وصول کرے‘ اسے جیل میں ڈالے یا پھر اسے ملک بدر کر دے‘ اس سے قوم کا وقت اور سرمایہ بھی بچ جائے گا اور ریاست کو لوٹا ہوا مال بھی واپس مل جائے گا‘

ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہو گی نیب کی کھلی کارروائیوں سے ملک میں خوف پیدا ہورہا ہے اور یہ خوف ملک اور معیشت کونقصان پہنچارہا ہے‘ بیورو کریٹس کام نہیں کررہے اور سرمایہ کار بھاگ رہے ہیں‘ کرپشن کے خلاف خفیہ تحقیقات‘ خفیہ خصوصی عدالتوں اور خصوصی قوانین کی وجہ سے معاشرے میں خوف بھی پیدا نہیں ہوگا‘ لوٹی ہوئی دولت بھی واپس مل جائے گی اور خفیہ آنکھ کی دہشت کی وجہ سے کرپشن بھی رک جائے گی‘ ہم اگر دہشت گردوں کو سزائے موت دینے کےلئے خصوصی فوجی عدالتیں اور خصوصی قوانین بنا سکتے ہیں تو کرپشن کے خلاف خصوصی قوانین‘ خصوصی خفیہ سیل اور خصوصی عدالتیں بنانے میں کوئی حرج نہیں‘

یہ ملک کےلئے زیادہ مفید ثابت ہوں گی اور آخری حل ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں یعنی پاکستان Pakistan مسلم لیگ ن اور پاکستان Pakistan پیپلزپارٹی کو اب اپنی اپنی قیادت تبدیل کر لینی چاہیے‘ ملک کی فیصلہ ساز قوتیں ماضی میں ان دونوں پارٹیوں کو قیادت تبدیل کرنے کا بار بار موقع دیتی رہیں‘ جنرل راحیل شریف کے دور میں آصف علی زرداری کی جگہ بلاول بھٹو Bilawal Bhutto ‘ میاں نواز شریف Nawaz Sharif کی جگہ میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif اور الطاف حسین کی جگہ فاروق ستار کو بٹھانے کی سنجیدہ کوششیں ہوئیں‘

آصف علی زرداری اور جنرل راحیل شریف کے درمیان وزیراعلیٰ ہاﺅس سندھ میں خفیہ ملاقات کا بندوبست بھی کیاگیا‘ آصف علی زرداری آ گئے لیکن جنرل راحیل شریف نہیں آ سکے تاہم دونوں کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا‘ جنرل راحیل شریف نے آصف علی زرداری کو مشورہ دیاآپ بلاول بھٹو Bilawal Bhutto پر اعتماد کریں‘ یہ پارٹی کو سنبھال لیں گے‘ ملک پیپلز پارٹی جیسی لبرل جماعت کا نقصان برداشت نہیں کر سکتا‘ زرداری صاحب نے وعدہ کر لیا لیکن یہ وعدہ بعد ازاں نبھایا نہیں گیا‘

میاں نواز شریف Nawaz Sharif 22مئی 2016ءکو دل کے آپریشن کےلئے لندن گئے ‘ آپریشن سے ایک دن پہلے انہوں نے مارک اینڈ سپنسر کی کافی شاپ میں بیٹھ کر میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif کو پارٹی اور سیاست سنبھالنے کی آفر کی‘ میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif نے صاف انکار کر دیا‘ آپریشن کے بعد میاں نواز شریف Nawaz Sharif نے دوبارہ شہباز شریف Shehbaz Sharif کو بلایا اور اڑھائی گھنٹے کی گفتگو کے بعد انہیںقائل کر لیا‘ طے ہو گیا میاں نواز شریف Nawaz Sharif اگلے دن ہسپتال سے تقریر کریں گے اور سیاست اور پارٹی دونوں سے دستبردار ہو جائیں گے‘

عرفان صدیقی کو تقریر لکھنے کےلئے طلب کیا گیا لیکن عرفان صدیقی نے میاں نواز شریف Nawaz Sharif کو یوٹرن لینے پر مجبور کر دیا‘ اس کے بعد جو ہوا وہ پوری دنیا نے دیکھا‘میاں نواز شریف Nawaz Sharif اگر اس وقت چند قدم پیچھے ہٹ جاتے تو آج حالات یکسر مختلف ہوتے‘ اسی طرح اگر الطاف حسین بھی 2016ءمیں اپنی انا کی قربانی دے دیتے‘ یہ فاروق ستار جیسی آفر قبول کر لیتے تو آج ایم کیو ایم بھی چار ٹکڑوں میں تقسیم نہ ہوتی‘ بہرحال جو ہونا تھا وہ ہو گیا‘ ملک کی تینوں پارٹیوں کو اب ہوش کے ناخن لے لینے چاہئیں‘ان تینوں کو بلاول بھٹو Bilawal Bhutto ‘ میاں شہباز شریف Shehbaz Sharif اور فاروق ستار کو تسلیم کر لینا چاہیے‘

یہ لوگ آئیں‘ پارٹیوں کی قیادت سنبھالیں اور حکومت کو پانچ سال پورے کرنے دیں تاکہ ملک ٹریک پر آ سکے اور اس کےلئے عمران خان Imran Khan کو اپنی انا کی قربانی دینی ہو گی‘ یہ آخری یوٹرن لیں‘ ایمنسٹی کی شکل میں این آر او دیں اور اس جھنجٹ سے ملک اور اپنی دونوں کی جان چھڑا لیں‘ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی باعزت آپشن نہیں بچا اور اگر عمران خان Imran Khan یہ فیصلہ نہیں کرتے تو پھر یہ فیصلہ ایمرجنسی کرے گی‘ ملک میں ایمرجنسی لگے گی اور یہ سارے فیصلے اس ایمرجنسی میں ہوں گے اور ہم بڑی تیزی سے اس ایمرجنسی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

 264