توہین؟ کیا مطلب

طلوع - ارشاد احمد عارف

11 جنوری 2019

tauheen? kya matlab

نیب کے سربراہ جسٹس جاوید اقبال کے منہ میں گھی شکر‘ کوئی دوسرا احتساب سے بالاتر نہیں تو عمران خان Imran Khan کیونکر؟ بجا کہ وہ وزیر اعظم Prime Minister ہیں اور ایک مقبول سیاسی جماعت کے سربراہ‘ ایک کروڑ ستر لاکھ پاکستانی ووٹروں کے محبوب رہنما۔ مگر قانون کی نظر میں وہ دوسرے شہریوں کے برابر ہیں‘ میاں نواز شریف Nawaz Sharif اور آصف علی زرداری کی طرح۔ میاں نواز شریف Nawaz Sharif وزیر اعظم Prime Minister کے طور پر جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہوتے رہے اور آصف علی زرداری سابق صدر ہیں مگر بنکنگ کورٹ میں پیش ہونے پر مجبور۔ میاں نواز شریف Nawaz Sharif اور آصف علی زرداری نے کبھی امریکہ United States اور یورپ کی مثال دی جہاں قانون کے سامنے امیر‘ غریب‘ طاقتور ‘ کمزور اور حاکم و محکوم سر جھکاتے ہیں نہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے جھوٹے مُنہ کبھی ریاست مدینہ کا نام لیا جو دنیا میں ایک ارب پچاس کروڑ کلمہ گو انسانوں کے دل میں بستی اور دماغ میں جاگزیں ہے۔ یہ توفیق اللہ تعالیٰ نے عمران خان Imran Khan کو بخشی کہ وہ اقبالؒ اور قائدؒ کے تصورات کے مطابق پاکستان Pakistan کو ریاست مدینہ میں ڈھالنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایسی فلاحی اسلامی ریاست اور ایسا مثالی معاشرہ بقول اقبالؒ ؎ کس نہ باشد درجہاں محتاج کس نکتہ شرع مبیں ایں است و بس ریاست مدینہ میں امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم ایک یہودی شہری کی شکائت پر عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور خلاف فیصلے کو بدل و جان تسلیم کیا‘ پیشانی پہ بل آیا نہ زبان پر حرف اختلاف‘ تسلیم و رضا کے اس مظاہرے اور حاکم وقت کے خلاف جرأت مندانہ فیصلے سے متاثر ہو کر شکائت کنندہ اسلام قبول کرتا ہے کہ جس دین میں عدل و انصاف کی یہ اہمیت ہو اور جس دین کا ماننے والا سربراہ حکومت قانون کی نظر میں عام شہری کے برابر ہے، اس میں داخلہ دنیا و آخرت کی سعادت ہے۔ خلیفہ وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بدوکُرتے کے بارے میں سوال کرتا ہے تو حاضرین میں سے اُسے کوئی ڈانٹتا ہے نہ سربراہ ریاست اپنے آپ کو جوابدہی سے بالاتر قرار دیتا اور نہ ان کا کوئی وزیر مشیر اسے باس کی توہین سمجھتا ہے۔ وہ اپنے صاحبزادے کو گواہی دینے کے لئے کھڑا کرتے اور پوری وضاحت سے بتاتے ہیں کہ ان کا کرتا کیسے سلا۔ پاکستان Pakistan میں پہلی بار عدلیہ اور دیگر ریاستی ادارے اس قابل ہوئے ہیں کہ وہ مشیر‘وزیر‘ وزیر اعلیٰ حتیٰ کہ وزیر اعظم Prime Minister کو بلا کر پوچھ گچھ کر سکیں کہ آپ نے اپنے اختیارات ‘ قومی وسائل اور سہولتوں کو ذاتی و خاندانی مفادات کے لئے کیوں استعمال کیا اور امانت میں خیانت کے مرتکب کیوں ہوئے؟ نیب سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی اس بنا پر برہم ہیں کہ اُس کے تفتیش کاروں نے ماضی میں اہم مناصب پر فائز رہنے والے لیڈروں کا کچا چھٹا عوام کے سامنے کھولا‘ موقع ملتے ہی انہیں گرفتار کیا اور احتساب عدالتوں کے سامنے پیش کر کے قانون کے مطابق سزا دلائی۔ تحریک انصاف جس کا روز اوّل سے نعرہ احتساب رہا جس پر عمران خان Imran Khan کے حامیوں‘ پیرو کاروں اور خیر خواہوں کو فخر ہے مگر اقتدار میں آنے کے بعد تحریک انصاف کے کچھ لیڈر بھی نیب سے رنجیدہ نظر آتے ہیں، حیرت انگیز طور پر وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan کو نیب سے یہ شکائت ہے کہ وہ سست روی کا شکار ہے اور اس نے اب تک پچاس لٹیروں کو سزا کیوں نہیں دلوائی مگر ان کے بعض قریبی ساتھی ہیلی کاپٹر کیس میں عمران خان Imran Khan کی طلبی کو وزیر اعظم Prime Minister کی توہین قرار دے کر یہ تاثر دے رہے ہیں کہ شائد ان کے ذہن میں احتساب کا مطلب میاں نواز شریف Nawaz Sharif اور آصف علی زرداری کی گرفت ہے، اپنے لیڈر کو وہ ہرقسم کے احتساب اور جوابدہی سے مستثنیٰ سمجھتے ہیں۔ حکومت کے مخالفین نیب کو حکومت کا سہولت کار اور مقتدر قوتوں کا آلہ کار قرار دے کر روز زبان طعن دراز کرتے ہیں اور تو اور مولانا فضل الرحمن کو بھی نیب سے شکائتیں ہیں اور وہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی قیادت پر برہم ہیں کہ اقتدار کے دنوں میں دونوں جماعتوں نے احتسابی ادارے کو دانتوں سے محروم اور ریڑھ کی ہڈی سے معذور کیوں نہیں کیا جبکہ کل تک حکومتی وزراء نیب کو ایک آزاد خود مختار آئینی و قانونی قرار دیتے چلے آ رہے تھے مگر اب اچانک وہ نیب کے انداز کار پر انگلی اٹھانے لگے ہیں جس کا جواب دیتے ہوئے نیب کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے درست کہا کہ ہیلی کاپٹر کیس سے وزیر اعظم Prime Minister کی توہین نہیں ہوئی بلکہ ان کی عزت و توقیر میں اضافہ ہوا کہ عمران خان Imran Khan اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں نہ نیب ان سے کسی قسم کی رو رعائت برت رہا ہے۔ چیئرمین نے نیب کوکرپشن‘ کے خلاف ہائیڈروجن بم قرار دے کر اپنی طاقت اور قوت واضح کی۔ حکومتی وزراء اور عمران خان Imran Khan کے ساتھی ایک طرف اپنے لیڈر کو قانون شکنی‘ کرپشن اور بے ضابطگی کی آلائشات سے پاک اور ایک صاف ستھرا انسان قرار دیتے ہیں اور ان کے ووٹر اس پر یقین کرتے ہیں دوسری طرف نیب انہیں بلا لے اور وہ پیش ہو جائیں تو توہین‘ توہین کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ کیا عدل و مساوات اور قانون کی حکمرانی کا یہ تصور ہے جس کے قیام و نفاذ کے لئے عمران خان Imran Khan نے بائیس سال جدوجہد کی اور بالآخر کامیاب رہا۔ بجا کہ ماضی میں صرف انتظامیہ اور پارلیمنٹ نہیں، عدلیہ بھی، منتخب وزیر اعظم Prime Minister اور وزراء اعلیٰ ہی نہیں، وزیروں مشیروں اور عوامی نمائندوں کے سامنے بھیگی بلّی بنی رہی‘ ایوب خان‘ ضیاء الحق Zia ul Haq اور پرویز مشرف تو فوجی حکمران تھے۔ ذوالفقار علی بھٹو‘ بے نظیر بھٹو‘ نواز شریف Nawaz Sharif اور آصف علی زرداری نے بھی جب چاہا عدلیہ سے مرضی کے فیصلے لئے‘ افتخار محمد چودھری سے قبل صرف سجاد علی شاہ ایسے چیف جسٹس تھے جس نے سربراہ حکومت کی خواہشات کے مطابق چلنے سے انکار کیا اور برادر ججوں کے ہاتھوں معزول ہوئے۔ نیب تو قمر الزمان چودھری کے عہد ہمایونی تک حکمران خاندانوں کے لئے گوشہ عافیت اور لانڈری تھا۔ جہاں کرپشن‘ منی لانڈرنگ Money laundering اور بے ضابطگیوں کے داغ دھبے مہارت سے دھوئے گئے اب اگر عدلیہ کی طرح نیب نے بھی چہرے کے بجائے کرداردیکھ کر حکمرانوں اور طاقتور طبقات سے ڈیل کرنے کی روائت ڈالی ہے اور اس کا سب سے زیادہ فائدہ تحریک انصاف کی حکومت کو ہو رہا ہے کہ اپوزیشن کی گلیاں سنجیاں ہو رہی ہیں اور مرزا یار کے وارے ‘ نیارے ہیں تو ہیلی کاپٹر کیس یا چند دوسری احتسابی کارروائی سے گھبراکر وزراء کرام اور مشیران عظام مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے بیانیے کو تقویت نہ پہنچائیں۔ اقبال اور قائد کے پاکستان Pakistan میں اس کی گنجائش ہے نہ ریاست مدینہ میں حکمران کو عدلیہ اور نیب جیسے اداروں کے روبرو حاضری سے استثنیٰ۔شوق پاکستان Pakistan کو اقبال و قائد کے افکار و تصورات کی ریاست بنانے کا ہے‘ ریاست مدینہ کو رول ماڈل بتایا جاتا ہے تو پھر کردار و گفتار میں بھی ماضی کے حکمرانوں اور مسلم لیگ و پیپلز پارٹی کی قیادت سے فرق‘ واضح فرق نظر آنا چاہیے ۔تحریک انصاف کو فخر ہونا چاہیے کہ اس کا لیڈر اپنے آپ کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے نہ عدلیہ و نیب حکومت کے دبائو میں ہیں اور نہ حکومت ان اداروں کو سوکن کا درجہ دیتی ہے۔ برصغیر میں لیڈروں کو بالخصوص جب انہیں اقتدار مل جائے دیوتا بنانے کا رواج عام ہے۔ ہر غلطی سے پاک‘ بشری کمزوری سے مبرا۔ سکندر مرزا کو قائد اعظم سے ‘ ایوب خان کو ڈیگال سے اور بھٹو کو چواین لائی سے بڑا لیڈر قرار دینے والوں کا کس کو علم نہیں۔ نواز شریف Nawaz Sharif قائد اعظم ثانی اور آصف علی زرداری سیاست میں پی ایچ ڈی قرار پائے۔ خواہش لیڈر خود پالتے ‘ پروان خوشامدی مشیر چڑھاتے ہیں۔ پتہ اس وقت چلتا ہے جب اقتدار کا سنگھاسن ڈولتا اور نشہ اترتا ہے ؎ خودی کا نشہ چڑھا آپ میں رہا نہ گیا خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا خدا نہ کرے کہ عمران خان Imran Khan اس نشے میں مبتلا ہو اور اداروں سے فاصلہ پیدا کر بیٹھے ؎ کچھ تو ہوتے ہیں محبت میں جنوں کے آثار اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں

 112