خطے کابدلتا منظر نامہ

بات یہ ہے - ارشاد محمود

11 جنوری 2019

khittay ka badlta manzar nama

افغانستان Afghanistan کے صدر اشرف غنی کے خصوصی نمائندے عمر داؤدزئی نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میںاعتراف کیا کہ پاکستان Pakistan افغانستان Afghanistan میں بحالی امن کے لیے مثبت کردار اداکررہاہے اور پاکستانی رویہ تبدیل ہو چکا ہے۔انہوں نے کہا وزیراعظم عمران خان Imran Khan کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ افغانستان Afghanistan کے امن اور مذاکرات کے حوالے سے ایک پیج پر ہیںاس طرح پاکستان Pakistan کے ساتھ مختلف امورپر بات کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ قبل ازیں افغان حکام تسلیم کرچکے ہیں کہ طالبان سے مذاکرات کا عمل شروع کرنے سے پہلے نہ صرف انہیں اعتماد میں لیاگیا بلکہ ممتاز افغان سیاستدانوں کے ساتھ بھی مشاورت کی گئی ۔چنانچہ اس طرح اس سارے عمل کو افغان حکومت کی حمایت حاصل ہے۔ زیادہ خوشی ایران Iran کے وزیر خارجہ جواد ظریف کے بھارتی Indian چینل این ڈی ٹی وی کو دیا گیا انٹرویو دیکھ کر ہوئی۔ میزبان کی تمام تر چلالیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ افغان امن عمل میں پاکستان Pakistan تعمیری کردار ادا کررہاہے۔پاکستان Pakistan کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی حمایت سے متعلق سوال کے جواب میں جواد ظریف نے کہا: پاکستان Pakistan نے افغانستان Afghanistan کے حوالے سے تعمیری اور مثبت موقف اپنایا ہے ۔ ہمیں یقین ہے کہ پاکستان Pakistan بھی نہیں چاہتا ہے کہ انتہا پسند گروہ افغانستان Afghanistan پر غلبہ حاصل کریں ۔ انتہا پسند اور دہشت گرد عناصر پاکستان Pakistan کے لئے بھی بہت بڑے خطرے ہیں۔انہوں نے اعتراف کیا کہ ایران، افغانستان Afghanistan سے ملحقہ سرحدی صوبوں کی امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے حوالے سے طالبان کے ساتھ رابطے میں ہے اور طالبان کو بھی افغانستان Afghanistan کے مستقبل میں کردار اد کرنا چاہیے۔ سب سے دلچسپ یوٹرن بھارت India کے آرمی چیف بپن روات نے لیا۔ انہوں نے طالبان لیڈروں کے ساتھ امریکہ United States کے مذاکرات کی نہ صرف حمایت کردی بلکہ کہا کہ جب سب طالبان سے بات چیت کررہے ہیں تو بھارت India کو بھی کرنی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ افغانستان Afghanistan میں امن اور طالبان کے قومی دھارے میں آنے سے نہ پورے خطے بلکہ بھارت India اور پاکستان Pakistan کو بھی فائدہ ہوگا۔یاد رہے کہ بھارت India غالباً وہ واحد ملک ہے جو گزشتہ اٹھارہ برسوں میں طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات یا انہیں سیاسی عمل میں شراکت دار بنانے کا کٹر مخالف تھا۔اب نہ صرف وہ اپنے موقف سے دستبردار ہوگیا ہے بلکہ گزشتہ سال نومبر میں روس Russia کے دارلحکومت ماسکو میں ہونے والے طالبان کے ساتھ مذاکرات میں بھارت India کے ایک غیر سرکاری وفد نے شرکت بھی کی ۔ چین China ایک عرصے سے طالبان کے ساتھ رابطے میں ہے۔ وہ افغانستان Afghanistan میں امن اور استحکام کے قیام کا بہت بڑا علمبردار ہے کیونکہ دونوں ممالک کی سرحد مشترک ہے۔علاوہ ازیں بیلٹ اینڈ روڑ انی شیٹیو کے تحت جو پاک چین China اقتصادی راہداری زیرتکمیل ہے اسے بھی ایک غیر مستحکم افغانستان Afghanistan سے خطرات لاحق ہیں۔ چین China کے صوبے سنکیانگ میںعلیحدگی کی تحریک کو بھی خانہ جنگی کے شکار افغانستا ن سے شہ ملتی ہے ۔ صدر اشرف غنی نے اپنا پہلا غیر ملکی دورہ چین China کا کیا اور چینی لیڈرشپ سے درخواست کی کہ وہ علاقائی ممالک کو افغانستان Afghanistan میں امن واستحکام کے لیے راضی کرنے میں کردار ادا کرے۔ چین China نے اس پس منظر میں روس، ایران Iran او رپاکستان Pakistan کے ساتھ مل کر طالبان کو ایک میزپر لانے اور امریکیوں کو پاکستان Pakistan کے مرکزی کردار کو تسلیم کرنے پر راضی کرنے کی بھرپور کوشش کی۔اس نے طالبان کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے روس Russia ، پاکستان Pakistan اور امریکہ United States کے ساتھ چار ملکی گرو پ میں کردار ادا کیا اور ساتھ ساتھ افغان حکومت کو بھی مالی امداد اور جدید ہتھیار فراہم کیے۔ طالبان کے ساتھ براہ راست رابطہ بھی رکھا۔ افغانستان Afghanistan میں مثبت کردار ادا کرنے سے پاکستان Pakistan کا امیج عالمی سطح پر یک دم نہ صرف تبدیل ہوا ہے بلکہ وہ ایک اہم کھلاڑی کے طور پر ابھر نا شروع ہوچکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ پاکستانی لیڈرشپ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ افغان حکومت اور سیاستدان جو ہمیشہ پاکستان Pakistan سے شاکی رہتے تھے موجودہ حکومت کے کردا ر کی تحسین کرتے ہیں۔ ایران Iran جو پاکستان Pakistan کے افغانستان Afghanistan میں کردارپر نہ صرف ناراض رہا بلکہ شمالی اتحاد کی بھارت India اور روس Russia کے ساتھ مل کر پشت پناہی بھی کرچکا ہے اب پاکستان Pakistan کی تعریف کررہاہے۔پاکستان Pakistan کے مثبت کردار سے روس Russia بھی خوش نظر آرہاہے کیونکہ اگر افغانستان Afghanistan بدامنی کا شکار رہتاہے تو آئی ایس آئی ایس کے طرز کی تنظیمیں وسطی ایشیائی ممالک میں بھی جڑیں مضبوط کرسکتی ہیں ۔اس لیے روس Russia نہ صرف خوش ہے بلکہ روسی قیادت مسلسل پاکستان Pakistan کی پیٹھ ٹھونک رہی ہے کہ وہ علاقائی امن واستحکام کے لیے کردار ادا کرتارہے۔افغانستان Afghanistan میں قیام امن کا عمل ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکاہے۔ کئی ایک قوتیں اسے سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں۔ افغان حکومت کو اس عمل سے زیادہ دیر باہر رکھنا مشکل ہوتاجارہاہے کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ طالبان اور امریکہ United States کے درمیان ہونے والی ڈیل کی انہیں ریڈیو کے ذریعے اطلاع ملے یا پھر وہ اس کا کوئی سیاسی فائدہ نہ اٹھاسکیں۔علاوہ ازیں صدر اشرف غنی کے ہمرکاب ایسے عناصر بھی ہیں جو طالبان کے کٹر مخالف ہیں۔وہ ہر مرحلے پر طالبان کے ساتھ بات چیت کے عمل کے خلاف رہے ہیں۔ امریکا اپنی مجبوریوں کے تحت افغانستان Afghanistan سے انخلاء چاہتاہے۔افغانستان Afghanistan میں امریکا نے اپنی تاریخ کی سب طویل المدتی جنگ لڑی ہے۔سینکڑوں امریکی فوج اس جنگ کا ایندھن بنے۔ ایک ٹریلین ڈالرجنگی کی بھٹی میں جھونک دیئے گے لیکن نتیجہ ڈھاک کے وہی تین پات۔ امریکا اور افغان حکومت کے لیے فیصلہ کن فتح آج بھی دلی ہنوز دوراست والی بات ہے۔ بہت سارے بزرجمہرر جو امریکا کی ناکامی کا جشن منانے کے درپے ہیں ان سے گزارش ہے کہ پاکستان Pakistan پہلے ہی مشکلات میں گھرا ہواہے اسے مزید آزمائش سے دوچار کرنے کی ضرورت ہے اور نہ دانشمندی۔ امریکا کو رسوائی اور شکست کا احساس دلانے کی ضرورت نہیں۔جو ہوا وہ نوشتہ دیوار ہے۔ اس کی باعزت رخصتی پاکستان Pakistan کے قومی مفاد میں ہے۔ وہ زخم خوردہ اور شاکی گھر لوٹے گا تو پلٹ کر وار کرے گا۔ سپرپاور سے دشمنی ایسے ہی جیسے جنگل میں شیر سے بیر۔

 165