بیچارے!

ماجرا - بلال الرشید

11 جنوری 2019

becharay !

ناصر افتخار صاحب کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں ایک نیا خیال قارئین کی نذر !

آج ہم کس قدر ترقی یافتہ ہیں کہ تیز رفتار جہازوں میں اڑتے پھرتے ہیں ۔ہم خلا تک جا چکے ہیں ۔ آج جب ہم پچھلی تہذیبوں کو دیکھتے ہیں ‘ جو کہیں کھدائی میں دریافت ہوئیں تو ان پہ ہمیں ترس آتا ہے ۔ ان کے لیے دماغ میں ''بیچارے‘‘ کا لفظ آتا ہے ۔بیچارہ کون ہے ‘ یہ فیصلہ کرنے کے لیے آپ ماضی کا سفر کریں۔

براعظم افریقا کے وسط میں ایک علاقہ ہے ‘ جس کا نام'' اورنگا ‘‘ فرض کر لیجیے۔ آج سے 34لاکھ سال پہلے ایک قبیلہ وہاں آباد تھا۔ اس قبیلے والوں نے پہلی بار پتھر کو تراش کر ‘ اسے تیز دھار بنا کر ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سیکھا تھا۔ ان تیز دھار پتھروں کی مدد سے یہ بڑے سے بڑا جانور شکار کر سکتے تھے۔ اس کے علاوہ اس پورے خطے کے تمام قبائل اورنگا والوں سے ڈرتے تھے ۔وہ کسی کو بھی تہس نہس کر سکتے تھے ۔ اورنگا قبیلے والوں کے نزدیک جو لوگ ان سے پہلے گزرے تھے‘ جن کے پاس پتھر کے ہتھیار نہیں تھے‘ وہ بیچارے تھے ۔ جب کہ جو قبیلے ان کے زمانے میں موجود تھے اور جنہیں پتھر سے اوزار بنانے نہیں آتے تھے ‘ وہ سب بھی بیچارے تھے۔

جب انسان نے آگ جلانا اور اسے استعمال کرنا سیکھا تو اپنے سے پہلے زمانے کے لوگوں کو وہ بیچارہ سمجھتا رہا‘ اس کا خیال تھا کہ میں سب سے زیادہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوں ۔ اسی طرح جب کوریا والوں نے بارود ایجاد کیا تو انہیں ہاتھوں سے لڑنے والے بیچارے لگتے تھے ۔ جب انسان نے پانی ذخیرہ کرنا سیکھ لیا تو اسے برساتی ندی نالوں پہ منحصر لوگ بیچارے لگتے تھے ۔

انسان نے جب پہیہ ایجاد کیاتو وہ بھاری وزن کو پہیے کی مدد سے باآسانی ایک سے دوسری جگہ منتقل کرنے لگا ۔اس وقت اس کے خیال میں جن لوگوں نے پہیے کے بغیر اپنی زندگیاں گزاریں ‘ وہ سب پسماندہ اور غریب اقوام تھیں ۔وہ بیچارے تھوڑا تھوڑا وزن اپنی پیٹھ پہ لاد کے لے جاتے تھے ۔

جب پہلی بار پستول اور بندوق ایجاد کی گئی تو ان کے موجد طاقت کے نشے میںسر مست تھے ۔ ایک شخص ایک پورے لشکر کو گولیاں مار کے قتل کر سکتا تھا ۔ اس وقت انہیں ایجاد کرنے والوں کے وہم و گمان میںبھی نہیں تھا کہ ایک دن مشین گن ایجاد ہوگی اور بندوقوں والے ان کے آگے کچھ بھی نہیں بیچتے ہوں گے ۔ جس کے ہاتھ میں مشین گن تھی‘ ا س کے سامنے بندوقوں والے بیچارے ہی توتھے۔ راکٹ اور میزائل والوں کے نزدیک بندوق او رمشین گن والے بیچارے تھے ۔ جب کہ ان سب کو یہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ ایک دن ایٹم بم ایجاد کر لیا جائے گا ‘ جو کہ ان سب کو بیچارہ بنا دے گا۔

پھر وہ لوگ تھے‘ جنہوں نے سب سے پہلے کاشتکاری سیکھی ۔ وہ ہر موسم کی فصل اگانے لگے ۔ غلے سے انہوں نے اپنے گودام بھر لیے ۔وہ وقت پر کھانا کھاتے ۔ دوسری قومیں ‘ جنہیں منظم کاشتکاری نہیں آتی تھی‘ ان کے سامنے غریب اور لاچار تھیں ۔شکار ہاتھ آجائے تو کھا لیتے ‘ نہ ملتا تو بھوک برداشت کرتے ۔ جو لوگ کاشتکاری سے غلہ اکھٹا کر رہے تھے‘ انہیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے دور کے انسان ایک ایکڑ سے سو گنا زیادہ غلہ حاصل کر کے دکھائیں گے ۔

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ ہر زمانے کا انسان اپنے آپ کو آخری حد تک ترقی یافتہ سمجھتا رہا ہے ۔ وہ اپنے سے پچھلوں پہ تر س کھاتا رہا ہے ۔ اس کے خیال میں جو زیادہ سے زیادہ ترقی کی جا سکتی تھی‘ وہ اس نے حاصل کر لی تھی ۔ صرف ایک صدی کے بعد آنے والے لوگ اس شخص اور اس کے مغالطوں کو ترس بھری نظروں سے دیکھ رہے ہوتے ہیں ۔ انسان نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ وہ آنے والے لوگوں کے سامنے ایک بیچارہ ہو گا۔ ہمیشہ ہر civilizationاپنی ترقی پر غرور کرتی آئی ہے ۔ قرآن Quran کے الفاظ میں ‘ اقوام پر عذاب اس وقت آیا‘ جب وہ اپنی معیشت پر اترا رہی ہوتی تھیں ۔ ان کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں ہوتی تھی کہ وہ تباہ ہو سکتے ہیں ۔ ان کا خیال یہ تھا کہ کرہ ٔ ارض کے سینے پہ ہمیشہ وہ مونگ دلتے رہیں گے ۔

آج امریکہ United States اور یورپ میں بسنے والوں کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں ہے کہ وہ تباہ بھی ہو سکتے ہیں ۔ یہ بات نہیں کہ ایشیا یا افریقہ Africa میں گناہ اور جرائم کم ہوتے ہیں لیکن مغرب والے گناہ سے اگلی سٹیج پر جا چکے ہیں ۔وہاں معاشرے کے دانا و بینا لوگ مل بیٹھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ اگر دو مرد ایک دوسرے سے لذت حاصل کرنا چاہیں تو یہ توان کا حق ہے ۔ ان کا کہنا تو اب یہ ہے کہ جو ہم جنس پرستی کے خلاف بولے گا‘ وہ متشدد‘ قدامت پسند اور پابندِ سلاسل کیے جانے کے لائق ہے ۔

آپ آج کے انسان کو دیکھیں۔آج کا انسان بھی اسی مغالطے میں جی رہا ہے کہ وہ ہمیشہ باقی رہنے والی ترقی اور برتری حاصل کر چکا ہے ۔ ناصر افتخار صاحب کے الفاظ میں ‘ اگر سو سال بعد آنے والا انسان light yearsمیں سفر کرنا شروع کر دے تو اسے 12گھنٹے میں ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک سفر کرنے والا انسان کس قدر پسماندہ لگے گا۔ ہمیں وہ اسی طرح دیکھے گا‘ جیسا کہ ہم پتھر کے اوزار والوں کو دیکھتے ہیں اور پتھر کے اوزار والے ان اوزاروں سے تہی دامن قبیلوں کو اسی ترس بھری نگاہ سے دیکھا کرتے تھے ۔

اسی معاملے کی ایک اورجہت پر غور کیجیے۔ جب بچّے بڑے ہو رہے ہوتے ہیں تو انہیں بوڑھے ‘ جھکی ہوئی کمر اور سفید بالوں والے لوگوں کو دیکھ کر ترس آتا ہے ۔ ان کی نظر میں وہ بیچارے ہی ہوتے ہیںلیکن یہ بات صاف ظاہر ہے کہ ترس کھانے والا بھی ایک دن بوڑھا ہوگا ۔ پھر بیچارہ دراصل ہے کون؟ اسی طرح جب بھی ہم کسی کی میّت دیکھتے ہیں تو پہلا لفظ ذہن میں ''بیچارہ ‘‘ ہی آتا ہے ؛حالانکہ ہمیں بھی ایک دن لازماً مرنا ہے ۔اس کے باوجود ہم انہیں بیچارہ کیوں کہتے ہیں؟اس لیے کہ ہمارا نفس ہمیں لاشعوری طور پر یقین دلادیتا ہے کہ ہم نہیں مریں گے۔ اسی طرح انسانیت کا اجتماعی لاشعور ایک قبیلے کو یقین دلاتا ہے کہ وہ ہمیشہ برتر رہے گا‘ کبھی فنا نہیں ہوگا ۔

سچ تو یہ ہے کہ سب انسان ایک آزمائش کے لیے اس نیلے سیارے پراتارے گئے ہیں ۔ ہم جو مرضی کر لیں ‘ یہ آزمائش ہو کر رہنی ہے ۔انسان بجلی سمیت جتنی مرضی آسائشیں تخلیق کر لے‘بہرحال اسے آزمائش سے گزرنا پڑے گا ۔ باقی ہر آسائش کا بندہ عادی ہو جاتا ہے ۔ آپ بچّے کو پانچ دن ایک جھولا لے کر دیں۔ چھٹے دن وہ اس میں بیٹھنے سے انکار کر دے گا۔ کبھی ہم گاڑی چلانے کے لیے مرتے تھے۔ اب دل کرتا ہے کہ ڈرائیونگ نہ ہی کرنی پڑے ۔ اسی طرح بجلی سمیت جتنی بھی آسائشیں انسان نے دنیا کے اس سفر میں تخلیق کی ہیں ‘ وہ ان کا عادی ہو جاتاہے ‘ پھر یہ آسائشیں اسے لذت نہیں بخشتیں بلکہ وہ اس کی روزمرہ کی ضرورت بن جاتی ہیں ۔جس چیز کا بندہ عادی ہو جاتاہے ‘ وہ پھر دماغ میں ایسے کیمیکلز خارج نہیں کرسکتی ‘ جس سے انسان کو پہلے جیسی خوشی حاصل ہو۔ یہی وجہ ہے کہ غریب سائیکل لے کر خوش ہو جاتاہے ۔ امیر گاڑی لے کر بھی افسردہ رہتا ہے ۔

سچ تویہ ہے کہ ہم سب بیچارے ہیں... !

 96