سعداللہ جان برق کے پشتو املاء میں تبدیلی کرنے پر رحمان بونیری کے قابل فہم اعتراضات۔

Bari Mandokhail

10 جنوری 2019



تحریر: عبدالباری مندوخیل

سعد اللہ جان برق معروف بزرگ کالم نگار اور کئی کتابوں

کے مصنف ہیں۔ میں اپکے کالم ایک لمبے عرصے پڑھتا آرہا ہوں۔اپکی علم و دانش میں بلاشہ متاثرکن گہرائی,اور وسعت ہے۔ اور میرے لیے ایک استاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔لہذا میں نہایت احتیاط برتتے ہوئے کہ کہیں اپکی شان میں مجھ سے گستاخی سرذد نہ ہوجائے, اس موضوع کو ذیر بحث لا رہا ہوں۔ جس پر وائس اف امریکہ United States کے نامور صحافی رحمان بونیری نے سوشل میڈیا پر گزشتہ دنوں بڑی تفصیل سے بات کی۔ رحمان بونیری نے نہایت ہی بڑا اہم نقطہ اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا۔ کہ برق صاحب اپنے لکھے گئے پشتو کی کتاب میں پشتو رسم الخط میں اردو کے لغات ٹھونس کر زبان کا پورا حلیہ بگاڑ رہے ہیں۔ اپ نے کہا کہ سعد اللہ جان برق,  اور سلیم راز سمیت ایسے کئی پشتون ادیبوں کا موقف ہے۔ کہ پشتو کے حروف تہجی میں "ړ ،ږ ،ژ ،ټ ،ډ ،ښ"  چند ایک ایسے الفاظ ہیں۔ جو پاکستان Pakistan کے پشتونوں کو سمجھ میں نہیں آرہی۔ لہذا پشتو زبان کی مشکل رسم الخط کی جگہ اردو کے الفاظ لکھنا بہتر ہو گا۔

رحمان بونیری یہاں پر سوال اٹھاتا ہے۔ کہ کیا پشتو صرف پاکستان Pakistan میں بولی جاتی ہے۔ جنکی خاطر ہم پشتو رسم الخط کو تبدیل کریں۔ یا یہ افغانستان Afghanistan سے لیکر واشنگٹن اور لندن تک نیا کے کونے ,کونے میں  کم و بیش پانچ کروڑ لوگوں کی زبان ہے۔ اور  برق صاحب کو یہ اختیار کس نے دیا ہے۔کہ وہ پشتو رسم الخط کو اردو سے "ری - پلیس" کریں۔ انکا کہنا تھا ۔کہ یہ کام کسی عام شاعر, ڈرامہ نگار,  ناول نگار , غزل گو, کامیڈین, مصنف یا ایک لکھاری کانہیں۔ بلکہ اس کا فیصلہ ایک بااختیار ماہرلسانیات کر سکتا ہے۔ اسکا فیصلہ ایک اتھارٹی ہی کر سکتی ہے۔ جس کے پاس زبان کی املاء میں تبدیلی کا مسلمہ اختیار ہو۔

اور اگر کسی کو پشتو کے الفاظ پڑھنے میں مشکلات کو مدنظر رکھ کر کوئی اسے سیکھنے کی بجائے اسکا گریباں ہی تار تار کر دیں۔ تو یہ نہ صرف انتہائی ناپسندیدہ اور نامناسب فعل ہوگا۔ بلکہ غلامانہ ذہنیت کی المناک کیفیت ہے۔

اس ویڈیو کو پوری توجہ سے دیکھنے کے بعد میں نے رحمان بونیری کے فیس بک اکاونٹ پر شئیر کئے گئے  سعد اللہ جان برق کی کتاب "خندا ګانې ، ژړاګانې" کا وہ صفحہ بھی دیکھا۔ جس میں برق صاحب بڑی ناترسی سے پشتو کے غزل میں اردو کے الفاظ اور حروف تہجی متعارف کی گئی تھی۔ جس پر زبان سے محبت کرنے والوں کو افسوس کے سوا اور کچھ نہیں ہو سکتا۔

مجھے بذات خود اس پر بڑی خفت محسوس ہوئی۔ کہ ایک عام ادمی اگر اپنی زبان میں "فارن ورڈز" استعمال کریں ۔تو شاید اسے اس سے زبان کو نقصان پہنچنے کا اتنا ادراک نہ ہوں۔ لیکن اگر ایک ذمہ دار عالم, عاقل اور  باخبر شخص ایسا کام کریں۔ تو اسے اس زبان کی بدقسمتی سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔

اصل بات یہ ہے۔ کہ زبان کسی بھی قوم کا بنیادی اور بیش بہا اثاثہ ہوتا ہے۔ اسکا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ کسی بھی قوم کی  تاریخ, جغرافیہ, تہذیب وتمدن کو تاریخ کے صفحات پر موجود رہنے کیلیے اسکی زبان کا اہم ترین رول ہوتا ہے۔ زبان کی نظر اندازی  قوم کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے مترادف ہے۔

لہذا برق صاحب اور اسکے ہم فکر دوستوں کو پشتو زبان کا چہرہ بگاڑنے سے قبل سوچنا چاہیے۔ کہ ہزاروں سال کی تاریخی ورثہ پشتو زبان کی بنیادی جڑیں اکھاڑنا اس پورے درخت کو سوکھا سکتا ہے۔ جو ناقابل معافی جرم ہے۔ مجھے ڑر ہے۔ کہ برق صاحب کی ادب کی دنیا میں پیش کی گئی خدمات پر پانی نہ پیر جائیں۔اور تاریخ کے کٹہرے میں اسے ایک مجرم نہ گردانا جائے۔ کیونکہ برق صاحب کا شمار نامور اہل قلم میں ہوتا ہے۔اور اسکی غلطی کے پشتو زبان پر منفی اثرات اور اسکے نتیجے میں زبان سے محبت کرنے والوں کا ردعمل دونوں افسوسناک ہونگے۔

 58