دو فیصلے، دو کہانیاں

کس سے منصفی چاہیں - انصار عبا سی

10 جنوری 2019

do faislay, do kahaniyan

سپریم کورٹ نے جعلی اکائونٹس پر بنائی گئی جے آئی ٹی کی رپورٹ پر ایک ایسا فیصلہ دیا جو پاناما جے آئی ٹی کے معاملہ سے بالکل مختلف تھا۔ بہت سے لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ جعلی اکائونٹس کے کیس میں وہی معیار کیوں نہیں اپنایا گیا جو پاناما کیس میں رکھا گیا تھا؟ بحث کی جا رہی ہے کہ پاناما جے آئی ٹی رپورٹ کے مقابلے میں جعلی اکائونٹس کی جے آئی ٹی رپورٹ بہت ٹھوس اور شواہد سے بھری پڑی ہے لیکن سپریم کورٹ کا فیصلہ اس کیس میں بہت نرم اور پاناما کیس کے بالکل برعکس ہے۔ پاناما کیس میں تو سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر اُس وقت کے وزیراعظم نواز شریف Nawaz Sharif کو نااہل قرار دے کر عہدے سے فارغ کر دیا تھا اور اس کے ساتھ ہی نیب کو ہدایت جاری کی کہ ایک ماہ کے اندر نواز شریف، اُن کی بیٹی مریم نواز Maryam Nawaz اور دیگر نامزد افراد کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیے جائیں۔ پاناما فیصلہ میں یہ بھی حکم جاری ہوا کہ نواز شریف Nawaz Sharif اور دوسرے افراد کے خلاف احتساب عدالت میں ان ریفرنسوں کی سپریم کورٹ کے ایک جج صاحب نگرانی کریں گے تاکہ فیصلہ میں دی گئی متعین مدت میں احتساب عدالت فیصلہ بھی دیدے تاکہ ایسا نہ ہو کہ عام احتساب کیسوں کی طرح نواز شریف Nawaz Sharif وغیرہ کے خلاف کیس بھی لمبی مدت کے لیے ٹک جائیں۔

جعلی اکائونٹس کیس میں سپریم کورٹ نے جے آئی رپورٹ سے سب سے پہلے پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو Bilawal Bhutto زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے نام حذف کرتے ہوئے احتساب عدالت کو ہدایت کی کہ اس معاملہ پر تحقیقات کی جائیں اور اگر کیس بنتا ہے تو نیب قانون کے مطابق احتساب عدالت میں ریفرنس فائل کیے جائیں۔ یہ حکم دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے پاناما کیس فیصلے کے برعکس نہ کسی فرد کے خلاف نااہلی کا حکم دیا، نہ کسی کو کسی عہدے سے فارغ کیا، نہ نیب کو پابند بنایا کہ وہ ہر حال نیب عدالت میں ایک ماہ کے اندر اندر ریفرنس فائل کرے، نہ کوئی ایسا حکم دیا کہ کس کس کے خلاف کون کون سا ریفرنس دائر کیا جائے، نہ کوئی ایسی ہدایت دی کہ احتساب عدالت ان ریفرنسز کا فیصلہ چھ ماہ کے اندر دینے کی پابند ہو گی اور نہ ہی سپریم کورٹ کا کوئی مانیٹر جج مقرر کیا گیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ متعین مدت کے دوران نیب اور احتساب عدالت‘ سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کر دیں۔

پاناما کیس میں نواز شریف Nawaz Sharif کی نااہلی کا فیصلہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت نے کیا اور یوں اُن کے پاس اپیل کرنے کا بھی کوئی موقع نہ تھا جو انصاف کے تقاضوں کے خلاف سمجھا جاتا ہے لیکن سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے مطابق آصف علی زرداری اور دوسرے افراد کا سارا معاملہ نیب کو سپرد کیا گیا تاکہ نیب دیکھے کہ کیا کوئی کیس بنتا ہے یا نہیں، اگر بنتا ہے تو پھر احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا جائے گا اور ایسی صورت میں احتساب عدالت جعلی اکائونٹس ریفرنس کو اُسی انداز میں سنے گی جیسے دوسرے نیب مقدمات کو سنا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہوا کہ جعلی اکائونٹس کیس میں نیب کو بحیثیت انویسٹی گیشن ادارہ آزادی ہو گی کہ وہ میرٹ کے مطابق تحقیقات کرے اور جو ٹھیک سمجھتا ہے، وہی کرے۔ اسی طرح جعلی اکائونٹس کیس میں اگر ریفرنس دائر کیا جاتا ہے تو احتساب عدالت کو اُن پابند یو ں یا پریشرز کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑے گا جس کا اس عدا لت کو پاناما کیس میں سامنا تھا۔میری نظر میں جعلی اکائونٹس کی جے آئی ٹی رپورٹ پاناما جے آئی ٹی رپورٹ سے معیار اور ثبوتوں کے لحاظ سے بہت بہتر ہے۔ میری رائے میں سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق اور پاناما فیصلے سے بہت بہتر ہے۔ اگرچہ جعلی اکائونٹس جے آئی ٹی کی رپورٹ میں بہت کچھ ہے جس پر جے آئی ٹی شاباشی کی مستحق ہے لیکن یہ انکوائری رپورٹ محض ایک انکوائری ہے، کسی عدا لت کا فیصلہ نہیں۔ اس میں پی پی پی کی اعلیٰ قیادت اور دوسرو ں کے خلاف الزامات ہیں جو سنجیدہ ضرور ہیں اور بہت ٹھوس بھی نظر آتے ہیں لیکن اُن الزامات کی بنیاد پر کسی کو سپریم کورٹ کی سطح پر نکالنا کوئی اچھا فیصلہ نہیں ہو سکتا کیونکہ اپیل کا حق کسی سے کیسے چھینا جا سکتا ہے؟ میں یہاں یہ بھی کہتا چلوں کہ مجھے نیب سے کوئی زیادہ امید نہیں اور اس کی وجہ نیب کی وہ تاریخ ہے جس میں بڑے بڑے مقدمات کو نیب نے اپنے دوستانہ استغاثہ کی وجہ سے ختم کروایا، جس کا سب سے زیادہ فائدہ زرداری صاحب کو ہی پہنچایا گیا اور اس بار ے میں نیب سے کبھی کسی نے کوئی سوال نہیں کیا۔ تحریک انصاف ہو، ن لیگ یا پی پی پی، کوئی بھی نیب سے مطمئن نہیں لیکن اس ادارے کو بہتر بنانے کے لیے پارلیمنٹ میں یہ تمام پارٹیاں کچھ کرنے سے گریزاں ہیں۔ سپریم کورٹ بھی نیب سے متعلق کئی بار اپنا عدم اعتماد ظاہر کر چکی ہے لیکن ابھی تک کسی فیصلے میں اس ادارے کو سدھارنے کے لیے کوئی احکامات جاری نہیں کیے گئے۔ مجھے ڈر ہے کہ ماضی کے طرح نئے کیسوں کو بھی نیب سودے بازی کے لیے کہیں استعمال نہ کرے۔

 123