کرائے کی بندوق

قلم کمان - حامد میر

10 جنوری 2019

karaye ki bandooq

آج کل پاکستان Pakistan کی سیاست میں یوٹرن پر بڑی بحث ہو رہی ہے۔ یوٹرن تو بہت سے سیاستدان لیتے ہیں لیکن عمران خان Imran Khan کے یوٹرن ہماری نظروں میں زیادہ کھٹکتے ہیں کیونکہ وہ ملک کے وزیراعظم ہیں اور یہ کہنے میں جھجک محسوس نہیں کرتے کہ اچھا لیڈر وہ ہوتا ہے جو دیوار میں ٹکر مارنے کے بجائے یوٹرن لے کر قوم کو حادثے سے بچا لیتا ہے۔ آج مجھے بھی عمران خان Imran Khan کو ایک معاملے پر یوٹرن لینے کی گزارش کرنا ہے اور مجھے یقین ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت مجھ سے اختلاف نہیں بلکہ اتفاق کرے گی۔ عمران خان Imran Khan کو یوٹرن لینے کی گزارش کا خیال اُن کا ایک حالیہ انٹرویو سن کر آیا۔ ترکی کے حالیہ دورے کے دوران اُنہوں نے ٹی آر ٹی کے عمران گاردا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں امریکہ United States نے پاکستان Pakistan کو کرائے کی بندوق کے طور پر استعمال کیا لیکن اب ہم کرائے کی بندوق کے طور پر مزید استعمال ہونے کے لئے تیار نہیں۔ اس انٹرویو میں انہوں نے جنرل ضیاء الحق Zia ul Haq اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں پیدا ہونے والی سیاسی و سماجی خرابیوں کا بھی ذکر کیا۔ اس سے قبل وہ دسمبر 2018ء میں واشنگٹن پوسٹ کو دیئے جانے والے انٹرویو میں بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ اب ہم دوبارہ امریکہ United States کے لئے کرائے کی بندوق نہیں بنیں گے۔ واشنگٹن پوسٹ نے اس انٹرویو کی ہیڈ لائن کچھ اس طرح لگائی ’’ہم تمہاری کرائے کی بندوق نہیں رہے، پاکستانی لیڈر کا امریکہ United States کو پیغام‘‘۔

واشنگٹن پوسٹ کی لالی وے مائوتھ کو دیا جانے والا یہ انٹرویو پاکستانی عوام کی بڑی اکثریت کے خیالات کی ترجمانی کر رہا تھا لیکن آگے چل کر اسی انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ساٹھ کی دہائی میں پاکستان Pakistan ترقی کی مثال بن گیا تھا۔ عمران خان Imran Khan ایک سے زائد بار ساٹھ کی دہائی کو ترقی کا دور قرار دے چکے ہیں۔ وہ جب بھی ساٹھ کی دہائی کا ذکر کرتے ہیں تو ہماری نظروں کے سامنے جنرل ایوب خان کی تصویر گھومنے لگتی ہے جو 1958ء سے 1969ء تک پاکستان Pakistan کے حکمران تھے۔ جنرل ایوب خان پاکستان Pakistan کے پہلے فوجی ڈکٹیٹر تھے جنہوں نے 1956ء کا پارلیمانی آئین منسوخ کر کے 1962ء میں صدارتی آئین نافذ کیا۔ جنرل ایوب خان کے دور میں نافذ کئے گئے صدارتی نظام نے مشرقی اور مغربی پاکستان Pakistan کے رشتے کو کمزور کیا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اس دور میں تربیلا اور منگلا ڈیم بنائے گئے اس لئے یہ ترقی کا دور تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ جنرل ایوب خان نے 1960ء میں سندھ طاس معاہدے کے ذریعہ پاکستان Pakistan کے تین دریائوں راوی، ستلج اور بیاس کا پانی بھارت India کے کنٹرول میں دیدیا۔ ان دریائوں کا پانی بھارت India کے کنٹرول میں جانے سے پاکستان Pakistan کو پانی کی کمی کے بحران کا سامنا تھا لہٰذا زرعی استعمال کے لئے دریائے سندھ اور جہلم کے پانی کو ذخیرہ کرنے کے منصوبے بنائے گئے جن میں تربیلا ڈیم اور منگلا ڈیم بھی شامل تھے۔ بھارت India کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے نتیجے میں آج بھی پاکستان Pakistan کو جہلم اور چناب کے پانی سے محروم کیا جا رہا ہے۔ جس دور کو ترقی کا دور کہا جاتا ہے اُس دور کی تصویر دیکھنا ہو تو عمران خان Imran Khan راوی، ستلج اور بیاس کو دیکھ لیں جو دریائوں کے بجائے گندے نالے بن چکے ہیں۔

عمران خان Imran Khan جب بھی ساٹھ کی دہائی کو ترقی کی دہائی قرار دیتے ہیں تو یہ گمان گزرتا ہے کہ شاید وہ بلاواسطہ پاکستان Pakistan میں صدارتی نظام کی حمایت کر رہے ہیں۔ اس ’’بدگمانی‘‘ کی وجہ اُن کے کچھ قریبی ساتھیوں کی طرف سے نجی گفتگوئوں میں پارلیمانی نظام کی مخالفت اور کچھ وزراء کی طرف سے کھلے عام 18ویں ترمیم کے خلاف رونا دھونا ہے۔ اس ’’بدگمانی‘‘ کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ میں خود اپنے گناہ گار کانوں سے احمد شجاع پاشا (آئی ایس آئی کے سابق سربراہ) کی زبانی یہ سُن چکا ہوں کہ پاکستان Pakistan اور پارلیمانی نظام ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اپنی اگلی نسل کو بلاول اور حمزہ شہباز کا غلام نہیں بننے دیں گے اور پھر اس ناچیز نے اُن کے ساتھ اختلاف رائے کے سنگین نتائج بھی بھگتے۔ عمران خان Imran Khan سے گزارش ہے کہ وہ ساٹھ کی دہائی کے بارے میں اپنے موقف پر نظرثانی کریں کیونکہ اس دہائی کی تعریف کا مطلب جنرل ایوب خان کی تعریف ہے اور جنرل ایوب خان کی تعریف کا مطلب صدارتی نظام کی تعریف ہے اور میری ناچیز رائے میں صدارتی نظام کی حمایت کا مطلب پاکستان Pakistan کو کمزور کرنا ہے۔

ساٹھ کی دہائی ترقی کی دہائی ہوتی تو یہ ترقی صرف مغربی پاکستان Pakistan میں نہیں بلکہ مشرقی پاکستان Pakistan میں بھی نظر آتی جو اب بنگلہ دیش بن چکا ہے۔ جنرل ایوب خان نے ایک طرف بنگالیوں کو ان کے حقوق نہ دیئےتو دوسری طرف بلوچوں کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا۔ اُنہوں نے قائد اعظمؒ کے ساتھی اور تحریک پاکستان Pakistan کے رہنما حسین شہید سہروردی پر غداری کا مقدمہ بنا کر اُنہیں جیل میں ڈال دیا۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان Pakistan جسٹس محمد منیر کو ایوب خان نے اپنا وزیر قانون بنایا۔ جسٹس منیر اپنی کتاب ’’فرام جناح ٹو ضیاء‘‘ میں واضح طور پر لکھ چکے ہیں کہ انہوں نے 1962ء میں ایوب خان کی تائید سے قومی اسمبلی کے بنگالی ارکان سے پاکستان Pakistan سے علیحدہ ہونے یا کنفیڈریشن بنانے کے بارے میں مذاکرات شروع کئے تو بنگالی لیڈر رمیض الدین نے کہا ہم اکثریت میں ہیں اور ہم پاکستان Pakistan ہیں، اگر علیحدہ ہونا ہے تو تم پاکستان Pakistan سے علیحدہ ہو جائو۔ عمران خان Imran Khan کو جسٹس محمد منیر کی یہ کتاب ضرور پڑھنی چاہئے اور اگر وزیر اعظم Prime Minister آفس کی لائبریری میں یہ کتاب موجود نہ ہو تو یہ خاکسار مذکورہ کتاب اُنہیں مہیا کر سکتا ہے۔ جو لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمان بہت پہلے سے بھارت India کے ساتھ مل کر پاکستان Pakistan توڑنا چاہتے تھے وہ جسٹس منیر کی کتاب پر کیوں خاموش رہتے ہیں؟ کیا یہ کتاب اس تلخ حقیقت کو سامنے نہیں لاتی کہ پاکستان Pakistan توڑنے کی سازش تو خود وہ صدر صاحب کر رہے تھے جن کے دور کو ترقی کا دور قرار دیا جاتا ہے؟

ساٹھ کی دہائی کو ترقی کا دور قرار دینے والے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ اسی دور میں ایک صدارتی الیکشن ہوا تھا۔ جنوری 1965ء میں ہونے والے اس صدارتی الیکشن میں محترمہ فاطمہ جناح نے ایوب خان کا مقابلہ کیا اور یہ حقیقت سب جانتے ہیں کہ شیخ مجیب الرحمان، مولانا مودودی، خان عبدالغفار خان سمیت بہت سے ’’غدار‘‘ قائد اعظمؒ کی بہن کا ساتھ دے رہے تھے لیکن جنرل ایوب خان نے دھاندلی اور دھونس کے ذریعہ قائد اعظمؒ کی بہن کو ہرا دیا۔ ساٹھ کی دہائی پاکستان Pakistan میں احتساب کے نام پر انتقام، دھونس، دھاندلی اور کرپشن کی دہائی تھی۔ جی ہاں! خزانہ بھرا بھرا نظر آتا تھا کیونکہ جنرل ایوب خان نے سابقہ سوویت یونین کے مقابلے پر امریکہ United States کا ساتھ دیا۔ پشاور کے قریب بڈھ بیر میں امریکہ United States کو فوجی اڈہ دیا۔ یہی وہ دور تھا جب پاکستان Pakistan کو امریکہ United States کے ہاتھ میں کرائے کی بندوق بنا دیا گیا۔ آج عمران خان Imran Khan کہتے ہیں کہ ہم آئندہ کرائے کی بندوق نہیں بنیں گے اور یہ کلمۂ حق کہنے پر میں اُنہیں سلام پیش کرتا ہوں لیکن پاکستان Pakistan کو کرائے کی بندوق جنرل ایوب خان نے بنایا تھا لہٰذا عمران خان Imran Khan اُس دور کو ترقی کا دور کہنا بند کر دیں اور یوٹرن لے لیں یہ یوٹرن اُن کے لئے اچھا ہی ثابت ہو گا۔

 319