بالآخر فاتح تسلیم کر لیا

ایک اور ایک - منیر احمد بلوچ

06 جنوری 2019

بالآخر فاتح تسلیم کر لیا

بدھ کی شام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان Afghanistan میں بھارتی Indian وزیر اعظم Prime Minister نریندر مودی narendra modi کی جانب سے لائبریری کے قیام کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ یہ سب بے کار کی چیزیں ہیں۔ ان ریمارکس نے بھارت India کی پوری قیا دت کو جہاں ایک جانب دنیا بھر کے سامنے شرمندہ کر کے رکھ دیا‘ وہیں کچھ سفارتی ماہرین کی رائے میں بھارت India کیلئے ایک اشارہ بھی ہے کہ نریندر مودی narendra modi امریکہ United States کی نظر میں اس خچر کی مانند ہو چکا ہے جس کی اب کوئی ضرورت اور اہمیت نہیں رہی ۔ ٹرمپ نے طنزیہ لہجے میں کہا: بھلا یہ لائبریری افغانستان Afghanistan میں کون استعمال کرے گا؟ کابل میں کچھ سفارتی اور سیا سی ماہرین کا کہنا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ لائبریری بھی بھارت India کی کسی خفیہ ایجنسی کا کوئی ذیلی ادارہ ہی ہو‘ جہاں طالب علموں اور دانشوروں کے بھیس میں چین‘ ایران Iran اور پاکستان Pakistan کے خلاف معاملات طے کئے جائیں گے؟ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بالآخر اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے کہ پاکستان Pakistan کے بغیر صرف افغانستان Afghanistan ہی نہیں بلکہ پورے ایشیا اور پورے بر صغیر کے معاملات طے نہیں کئے جا سکتے۔ کئی برس تک امریکی حکام اس خوش فہمی میں رہے کہ خطے میں بھارت India کو کنٹرول نہ دینے سے اس کا کوئی بھی ایجنڈا پورا نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ سخت گیر بننے اور پاکستان Pakistan کیلئے بھلائی کا ایک لفظ بھی کہے بغیر بھارت India کا دم چھلہ بنے رہنے کے با وجود وہ افغانستان Afghanistan میں آج بھی اسی مقام پر کھڑا ہے جہاں وہ سترہ برس قبل سات اکتوبر2001 ء کو کھڑے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعتراف ان کی شکست کے نام سے نہیں بلکہ ان کے اداروں کی جانب سے کی جانے والی مبنی بر حقیقت رپورٹ کے نام سے جانا جائے گا کہ پاکستانی قیا دت سے مل بیٹھنے میں امریکہ United States کی ہی نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف اقوام عالم کی جیت ہے۔ یہ ان کی شکست نہیں بلکہ خطے میں پاکستان Pakistan کی دہشت گردی کے خلاف کی جانے والی بے مثال قربانیوں کی اہمیت کے احساس کا اعتراف ہے۔

طالبان نے امریکہ United States اور افغانستان Afghanistan کی نیشنل یونٹی گورنمنٹ سے جنوری میں جدہ میں بلائی گئی امن بات چیت میں شرکت سے انکار کیاتوکسی کو یقین ہی نہ آیا۔ طالبان کاانکار د نیا بھر کیلئے انتہائی حیران کن ہے کیونکہ دفاعی اور سفارتی ماہرین کہہ رہے تھے کہ زلمے خلیل زاد جب بھی امریکی مشن مکمل کرنے کیلئے میدان میں اترتے ہیں تو وہ نا کام نہیں ہوتے‘ اس لئے ہم اس انتظار میں ہیں کہ کب اور کس وقت افغان طالبان امریکہ United States کے سامنے خوش دلی سے بات چیت کر رہے ہوں گے۔ طالبان کی طاقت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اس سے پہلے دسمبر میں دبئی میںبلائی گئی کانفرنس میں بھی شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ کچھ ماہرین کو ا ب بھی یقین ہے کہ طالبان امریکی شرائط پر امن مذاکرات کیلئے میز پر آ جائیں گے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ طالبان نے کسی بھی جگہ پر نیشنل یونٹی گورنمنٹ (NUG) سے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار دیا ہے۔ طالبان اپنی درخواست پر نہیں بلکہ امریکہ United States کی درخواست پر اور اپنی شرائط پر مذاکرات کرنا تو چاہتے ہیں‘لیکن ساتھ ہی وہ یہ بھی ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کسی بھی دوسرے سیا سی گروپ یا وار لارڈز کو مذاکرات میں شامل کرنے کے خلاف ہیں۔ اگر کسی کو افغانستان Afghanistan میں امن کی بات کرنی ہے تو اس شرط پر کہ''حکومت طالبان سے چھینی گئی ہے نہ کہNUG سے‘ اس لئے افغان حکومت کو اگر بات کرنی ہو گی تو صرف طالبان کے ساتھ۔ اس سلسلے میں عمران خان Imran Khan کی زیر قیا دت پاکستانی حکومت اور اس کی وزارت خارجہ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ ہی کی طرح افغانستان Afghanistan میں امن کو فروغ دینے کیلئے لگاتار رابطوں میں ہے اور اس کیلئے ایران‘ چین‘ افغانستان‘ ماسکو‘ قطر اور دبئی میں امن مذاکرات کی کامیابی کیلئے دن رات ایک کئے ہوئے ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان Pakistan کی فوجی امداد بند کرتے ہوئے فاکس نیوز کو دیئے جانے والے انٹرویو میں تیز اور درشت لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان Pakistan نے ان سولہ برسوں میں دہشت گردی ختم کرنے کے حوالے سے امریکہ United States کیلئے کچھ بھی نہیں کیا‘ جبکہ ہم مکمل اعتماد اور بھروسہ کرتے ہوئے پاکستان Pakistan کو اربوں ڈالر فراہم کرتے رہے‘ لیکن نتیجہ سب کے سامنے ہے کہ اس نے اب تک امریکہ United States کیلئے کچھ بھی نہیں کیا۔ امریکی صدر نے فاکس نیوز کو دیئے جانے والے انٹر ویو میں پاکستان Pakistan پر ان الفاظ میں برستے ہوئے کہا تھا ''پاکستان Pakistan نے امریکی عوام کیلئے Do The Damn Thing‘‘۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس انٹرویو کے ردعمل میں وزیر اعظم Prime Minister عمران خان Imran Khan نے اپنے ایک ٹویٹ کے ذریعے جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ ریکارڈ درست کرنے کیلئے امریکیوں کو بتانا چاہتے ہیں ''کوئی ایک پاکستانی بھی 9/11 میں کسی طور بھی ملوث نہیں تھا‘ لیکن اس کے باوجود پاکستان Pakistan نے امریکہ United States کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہراول دستے کے طور پر شرکت کی۔ پاکستان Pakistan اب تک دہشت گردی کے خلاف امریکہ United States کی شروع کی گئی جنگ میں اپنے 75 ہزار سے زائد معصوم شہریوں کی شہادتوں کا دکھ دیکھ چکا ہے۔ پاکستان Pakistan کی افواج ا ور سکیورٹی فورسز کے سات ہزار سے زائد جوان اور افسران امریکہ United States کی مسلط کردہ اس جنگ میں دہشت گردی کی وارداتوں میں شہید ہو چکے ہیں‘ جبکہ ایک ترقی پذیر ملک کی حیثیت سے پہچانے جانے والا پاکستان Pakistan 123 بلین ڈالر billion dollor سے محروم ہو چکا ہے اور اس کے مقابلے میں امریکیوں کے ہر وقت دئیے جانے والے طعنوں کی شکل میں پاکستانی کو دیئے گئے ڈالر صرف 20بلین ہیں۔

جناب صدر! 123 بلین ڈالر billion dollor کی اس رقم کا اندازہ پاکستان Pakistan نے خود نہیں لگایا بلکہ عالمی ماہرین نے یہ اعداد و شمار دئیے ہیں۔ اب کیا آپ اپنے امریکی عوام کو بتائیں گے کہ پاکستان Pakistan نے امریکیوں کیلئے ہی نہیں بلکہ اقوام عالم کو دہشت گردی سے نجات دلانے کیلئے کس قدر بھاری اور نا قابل فراموش قربانیاں دی ہیں؟۔ وزیر اعظم Prime Minister پاکستان Pakistan عمران خان Imran Khan نے امریکی صدر کے شعلے اگلتی ہوئی دھمکیوں اور شکووں کے جواب میں کہا ''جناب صدر!کبھی آپ نے یا آپ کے طاقتور اداروں نے سوچنے کی کوشش کی ہے کہ سولہ برس تک افغانستان Afghanistan میں ایک لاکھ چالیس ہزار نیٹو افواج اور دو لاکھ پچاس ہزار افغان فوج اور ایک کھرب ڈالر خرچ کرنے کے با وجود افغان طالبان افغانستان Afghanistan میں پہلے سے بھی مضبوط کیوں ہیں؟ کیا یہ تسلیم کر لیا جائے کہ اپنی جدید ترین فورس اور ہتھیاروں کے علا وہ بہترین انٹیلی جنس آلات سے لیس سی آئی اے بھی ان سولہ برسوں میں افغان طالبان کی طاقت اور محفوظ ٹھکانوں تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکی‘ لیکن ہم اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کو نہ ڈھونڈنے کے سب سے بڑے مجرم بنا ئے جا رہے ہیں‘‘۔ عمران خان Imran Khan نے دنیا بھر میں موجود امریکیوں اور ان کے میڈیا سے سوال کرتے ہوئے پوچھا: بتایئے پاکستان Pakistan کے علا وہ دنیا کا وہ کون سا ملک ہے جس نے امریکیوں کو اپنے ہوائی اڈے‘ سڑکیں اور وسائل مہیا کئے ہوں؟ فوج کے چیئرمین جائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل جوزف دنفورڈ نے 17 نومبر2018 کو HALIFAX میں سکیورٹی فورم سے اپنے خطاب کے دوران اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے سب پر واضح کر دیا تھا کہ ہم افغانستان Afghanistan میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں نا کام ہو چکے ہیں اور آج16 برس بعد امریکی افواج ‘ نیٹو اور ایساف کی بھاری فورسز کے لگاتار آپریشن کے با وجود طالبان کی طاقت کمزور ہونے کی بجائے پہلے سے کئی گنا بڑھ چکی ہے اور امریکہ United States کے پاس اب اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کہ طالبان کو پاکستان Pakistan کی مدد سے مذاکرات کی میز پر لایا جائے ۔

 584